نسلی انتہاپسندوں سے رابطے، جرمنی میں انتیس پولیس اہلکار گرفتار

پولیس اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے نجی واٹس ایپ گروپوں میں ہٹلر کی فوٹوز سمیت نسلی منافرت پر مبنی سو سے زائد اشتعال انگیز تصاویر شیئر کیں۔جرمن سکیورٹی حکام نے بدھ کو ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے مختلف علاقوں میں مشتبہ پولیس والوں کے دفاتر اور گھروں پر چھاپے مار کر انہیں حراست میں لیا اور ان کے فون اور دیگر الیکٹرانک سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ حکام کے مطابق انہیں موبائل فونز اور دیگر آلات سے نیو نازی نظریات اور نسلی نفرت کے پرچار سے متعلق ”بدترین اور ناگوار‘‘ مواد ملا ہے۔ریاستی وزیر داخلہ ہربرٹ ریول کے مطابق یہ مواد پانچ نجی واٹس ایپ گروپس میں سن دو ہزار تیرہ اور دو ہزار پندرہ کے دوران شیئر کیا گیا۔ اس میں 126 تصاویر شامل ہیں، جن میں نازی جرمنی کے فوجی آمر ایڈولف ہٹلر کے فوٹوز کے علاوہ ایک تصوراتی امیج میں ایک پناہ گزین کو انسانوں کو جلا کر راکھ کرنے والے گیس چیمبر میں دکھایا گیا۔

مقامی پولیس چیف فرینک رشٹر نے کہا کہ انہیں اس بات پر دھچکا لگا ہے کہ ان نفرت انگیز واٹس ایپ گروپوں میں شامل پولیس والوں میں سے کسی نے بھی اس کی اطلاع اپنے سینیئرز کو دینے کی زحمت نہ کی۔ حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے تمام پولیس والوں کو معاملے کی انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔قوی امکان ہے کہ کم از کم چودہ اہلکاروں کو پولیس کی ملازمت سے برخاست کردیا جائے۔ ان میں گیارہ پولیس والے ایسے ہیں جنہوں نے بڑھ چڑھ کر نفرت انگیز مواد پھیلایا۔ خیال ہے کہ انہیں کریمنل کیسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں اس پورے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ ہربرٹ ریول نے کہا کہ ان اہلکاروں کی حرکتیں پولیس فورس کے لیے باعث شرم ہیں۔ انہوں نے کہا، ” ہماری پولیس فورس میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں اور نیونازیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ جرمن پولیس کے اندر اس طرح کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔ریاست میں پولیس یونین کے رہنماؤں نے خود کو ان مشتبہ افسران کی کسی حمایت سے الگ رکھا ہے۔ یونین کے ایک عہدیدار نے کہا کہ، ”پولیس کا کام غیرجانبدار رہنا اور ہمیشہ لبرل جمہوری اقدار کے تحت اپنا کام کرنا ہے۔ایک اور سینئر اہلکار نے کہا، ”دائیں بازو کے انتہاپسندوں کے خلاف لڑائی پولیس کی ذمہ داریوں کا بنیادی حصہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کے اندر ایسے اہلکاروں کا وجود جو چیٹ گروپس میں انتہا پسندانہ اور نسلی منافرت پھیلا رہے ہوں ”ناقابل قبول‘‘ ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

نوازشریف کی واپسی کیلیے برطانیہ بھی جانا پڑا توجاؤں گا، وزیراعظم

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وزیراعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے