بھارت کو شکست ۔۔ مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل ۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75ویں سالانہ اجلاس نیویارک میں شروع ہو چکا ۔ اجلاس سے قبل بھارت سر توڑ کوشش اور بڑے پیمانے پر لابنگ کے باوجود مسئلہ کشمیر کو حل طلب مسئلے کے طور پر ایجنڈے میں شامل ہونے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ جنرل اسمبلی کا ایجنڈا سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل 15 ممبران اتفاق رائے سے تیار کرتے ہیں ۔ بھارت سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر ہے اور اس کی کوشش تھی کہ اس پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے ٹیبل سے ہٹایا جائے۔ اس کے لیے اس کے مندوب نے بے جان تقریریں اور ناکام لابنگ بھی کی ۔لیکن وہ اس کوشش میں بھری طرح ناکام ہوا۔بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم سے غائب کر دیا جائے تاکہ اس پر کسی جگہ بحث نہ ہو اور دنیا اس کو بھول جائے اسی لئے بھارت ایک عرصہ سے کہہ رہا ہے کہ یہ اب ”پرانا ایجنڈا آئٹم“ ہے جو فرسودہ ہو چکا اس لیے اس کو ایجنڈے سے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس مرتبہ بھارتی مندوب نے سلامتی کونسل میں اسی نوعیت کی تقریر کر دی جس میں پاکستان پر الزام لگایا کہ اس مسئلہ کا ایجنڈا میں شامل ہونے سے ایک وفد اس پر تقریر کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھارت کے اس بے پر کے موقف کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں جتنی بھی پرانی ہو جائیں بوسیدہ اور متروک نہیں ہوتی ۔ بھارت کو اپنی ہی حماقت گلے پڑھ گئی کہ جس ایٹم کو وہ پرانہ اور بوسیدہ کہہ رہا تھا سیکریٹری جنرل کی رولنگ سے نیا ہو گیا اور 2020 کے جنرل اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ بن گیا ۔ کشمیریوں کے لیے یہ اطمینان کی بات ہے کہ نیو یارک میں دنیا کے رہنماء جس دستاویز پر بحث کر رہے ہیں اس ایجنڈے میں کشمیر بھی شامل ہے ۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پہلے ہی کہہ دیا کہ ان کی تقریر میں کشمیر سب سے اوپر ہو گا ۔ میرے خیال میں پاکستان کے لیے شدید چوٹ مارنے کا یہ ایک اچھا موقع ہے کیوں کہ لوہا گرم ہے۔ پاکستان کو اس سہولت سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر دنیا کی توجہ حاصل کرے اور ان لوگوں کو بھی نیا سا لگنے لگے جو اس کو پرانا اور متروک سمجھ کر مقبوضہ کشمیر میں مظالم برپا کر رہے ہیں ۔ ممکن ہے مودی کا خطاب بھی ہو لیکن ہماری سفارت کاری میں جان پڑھ جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بھارت ہر فورم پر چت نہ ہو ۔ پاکستان کو واضع اور دوٹوک موقف لینا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں کبھی بھی فرسودہ یا متروک نہیں ہوسکتی۔ وقت جتنا بھی طویل ہو جائے کشمیری عوام کا حق آزادی ختم نہیں ہو سکتا۔ یہ قراردادیں معمولی نوعیت کی نہیں۔ بھارت اور پاکستان کے مابین ہر شق پر اتفاق رائے کے بعد انہیں سلامتی کونسل نے 16 مرتبہ منظور کیا۔ لہذا یہ قراردادیں نہ صرف ایک بین الاقوامی معاہدے کو مضبوط بناتی ہیں ، بلکہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں میں بھی بار بار اس کی تائید کی گئی ۔جموں وکشمیر کے تنازعے کا حل صرف وہاں کی عوام کی مرضی کے مطابق ہی نکل سکتا ہے۔ جو آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقہ کار کے ذریعہ ممکن ہے جس کو بھارت نے خود تسلیم کیا ہے ۔ اس کی تائید امریکہ، برطانیہ سمیت یورب اور اقوام متحدہ کے ہر رکن نے کی۔ 15 جنوری 1948 کو بھارت کے سفیر سر گوپالسوامی نے حکومت کا موقف سلامتی کونسل میں پیش کیا تھا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہیں چاہیں، پاکستان کے ساتھ یا آزاد، ان کو اس فیصلےکا حق دیا جائے گا ۔ مہاتما گاندھی کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ "کشمیریوں کی مرضی کشمیر میں سپریم قانون ہے۔” پنڈت جواہر لال نہرو نے 2 نومبر 1947 میں کہا ، "ہم نے اعلان کیا ہے کہ کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ بالآخر کشمری عوام نے کرنا ہے۔ یہ عہد ہم نے نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پوری دنیا کو دیا ہے۔ ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے” دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ ان سب تاریخی حقائق کے بعد کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ کیسے ہو سکتا ہے ۔مودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو ، تمام بین الاقوامی معاہدوں اور وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کیا۔ بھارت کے اس اعلان کو اقوام متحدہ سمیت دنیا نے کبھی قبول نہیں کیا ، جو کشمیر کو متنازعہ علاقہ کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور اب بھی تمام پرانی قراردادوں پر قائم ہے جو خود ارادیت کی قراردادیں ہیں۔جموں و کشمیر کے عوام ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یہ اصولی مؤقف اپنایا کی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔ وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں پر زور دے رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت کا عمل شروع کریں،۔ابھی تک ،بھارت نے اس پر تعمیری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔بھارت کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سکریٹری جنرل کو اقوام متحدہ کے میثاق کے ذریعہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس نوعیت کے معاملے کو سلامتی کونسل کے دائرے میں لائے۔ کشمیر کے موجودہ حالات میں اقوام متحدہ کی پالیسیوں کے پیش نظر ، سیکرٹری جنرل کو یہ حق اور اختیار مناسب طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور مسئلے کے مستقبل حل کے لئے تینوں فریقوں جموں و کشمیر کے عوام ، ہندوستان اور پاکستان کے مابین بات چیت کا عمل شروع کرنے کے لئے خصوصی ایلچی’کا تقرر کیا جائے جو اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات کے علاوہ دونوں طرف سے سچائی کی تصدیق اور تازہ صورت حال سے دنیا کو آگاہ کرے۔ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی موجودہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ انسانی حقوق کونسل کے معمول کے طریقہ کار اور مختلف کنونشنوں کی نگرانی کے لئے کشمیر کو اقوام متحدہ کے قائم کردہ مختلف اداروں کے حوالے کیا جائے۔ سکریٹری جنرل کو خطہ کی حساس صورت حال کو سمجھنا چاہئے کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو نہ صرف خطہ بلکہ دنیا کو خطرہ ہے ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی کشیدگی، بھارت اور پاکستان کے مابین مستقل دشمنی۔ تینوں ایٹمی طاقتوں کی کشمیر کے ساتھ مشترکہ سرحدیں – پورے خطے کو ایٹمی تباہی کی طرف لے جائے گی جس کے نتیجے میں پوری دنیا کو بہت برے نتائج بھکتنے ہوں گے ۔مجھے امید ہے کہ جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس مسئلہ کشمیر کے حل اور امن عمل شروع کرنے پر سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدامات اٹھائے گا جو تنازعہ کی تیز ، منصفانہ اور باعزت تصفیے اور کشمیری عوام کو بحال کرنے کا باعث بنے گا۔ جو ان کا خود ارادیت کا ناگزیر حق ہے بصورت دیگر ایجنڈے میں رکھنے کا کشمیریوں کو کیا فائدہ۔

About BBC RECORD

Check Also

بزدار تیرا پنجاب غیر محفو ظ ہوگیا

Share this on WhatsAppتحریر؛ غلام مرتضیٰ باجوہ پنجاب میں اچانک ڈکیتیوں، چوریاں، قتل اور جنسی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے