سعودی عرب، امام کعبہ اور اسرائیل سے متعلق بدلتا موقف

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سعودی عرب کے ساتھ بھی دو طرفہ روابط استوار کر لینا مستقبل میں اسرائیل کے لیے بہت بڑا انعام ثابت ہو گا۔ ابھی ایسا ہوا نہیں لیکن راہ ہموار ہونا شروع ہو چکی ہے۔سعودی عرب کی ایک اہم ترین مسلم مذہبی شخصیت نے حال ہی میں اپنے خطبے میں مسلمانوں کو یہودیوں سے متعلق ‘بہت زیادہ جذباتیت اور شعلہ بیانی‘ سے احتراز کرنے کی نصیحت کی۔ یہ ایک ایسے مذہبی رہنما کا بہت بدلا ہوا موقف تھا، جو ماضی میں اپنے خطبات میں فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑتے تھے۔مسجد الحرام کے امام عبدالرحمان السدیس نے یہ بات پانچ ستمبر کو اپنے خطبے میں کہی، جسے سرکاری ٹیلی وژن سے نشر کیا گیا۔ اس وقت خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات کے قیام کے اعلان کو تین ہفتے ہی ہوئے تھے۔ اس خطبے کے چند ہی روز بعد سعودی عرب کے ایک اور اتحادی ملک بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد عبدالرحمان السدیس کو امام کعبہ کے طور پر جانتی ہے۔ وہ ماضی میں جب اپنے خطبات میں فلسطینیوں کا ذکر کرتے تھے، تو ‘در انداز اور جارحیت پسند‘ یہودیوں کے خلاف فلسطینیوں کی فتح کی دعائیں بھی مانگتے تھے۔لیکن اس مرتبہ اپنے خطبے میں انہوں نے یہ حوالے دیے کہ پیغمبر اسلام اپنے یہودی ہمسایوں سے کتنی اچھی طرح پیش آتے تھے۔ ساتھ ہی السدیس نے یہ بھی کہا کہ یہودیوں کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ‘اچھا سلوک‘ کیا جائے۔

سعودی عرب ابھی وقت لے گا

سعودی عرب کے بارے میں یہ توقع کم ہے کہ وہ جلد اپنے اتحادی ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لے گا۔ لیکن امام کعبہ کے بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سعودی بادشاہت اسرائیل کےحوالے سے اپنی سوچ بدل رہی ہے۔ ماضی میں تو یہودی ریاست کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔سعودی عرب میں امام کعبہ کی مذہبی اور سماجی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس منصب پر کسی بھی شخصیت کی تعیناتی خود سعودی فرمانروا کی طرف سے کی جاتی ہے۔ امام کعبہ کا شمار ملک کے بااثر ترین مذہبی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ان کے خیالات ملک کی قدامت پسند اسلامی اسٹیبلشمنٹ اور شاہی دربار کے موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

سعودی عرب سے تعلقات اسرائیل کے لیے بہت بڑا انعام کیسے؟

گزشتہ ماہ پہلے متحدہ عرب امارات نے اور پھر اس مہینے بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے جو اعلانات کیے، وہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں حالیہ برسوں کے بڑے واقعات سمجھے جا رہے ہیں۔ ان کے لیے ثالثی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، جو خود کو ایک ‘امن قائم کرنے والے رہنما‘ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی نظریں امریکا میں اس سال نومبر کے صدارتی الیکشن پر ہیں، جس میں وہ دوبارہ امیدوار ہیں۔

وہ ممالک جنہوں نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا

افغانستان نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک نہ تو اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات ہیں۔ سن 2005 میں اُس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر الگ فلسطینی ریاست بننے کا عمل شروع ہو جائے تو اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ممکن ہیں۔
جہاں تک اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ دو طرفہ تعلقات کے قیام کا سوال ہے، تو یہ اسرائیل کے لیے بہت بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔ اس لیے کہ ایک تو سعودی عرب کا بادشاہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے دو مقدس ترین مذہبی مقامات کا اعلیٰ ترین محافظ ہوتا ہے، جو ‘خادم حرمین شریفین‘ کہلاتا ہے، اور دوسرے یہ کہ خلیج کی یہ بادشاہت دنیا کا تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

رائے عامہ کا اندازہ لگانے کی کوشش

برطانیہ کی ایگزیٹر یونیورسٹی کے ادارہ برائے عرب اور اسلامی علوم سے منسلک ماہر مارک اوئن جونز کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ روابط کے فیصلوں سے سعودی عرب کو بھی یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اسی سمت میں اپنے کسی بھی آئندہ قدم سے قبل رائے عامہ کا جائزہ لے سکے، ”تاہم اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا قیام اس عرب بادشاہت کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہو گا۔مارک اوئن جونز کے مطابق، ”امام کعبہ جیسی کسی بہت اہم شخصیت کے ذریعے سعودی حکمرانوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدے کی صورت میں سعودی عوام کا رد عمل کیسا ہو گا۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

امریکا کا حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر غور

Share this on WhatsAppامریکی اخبارWashington Post کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کو ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے