اسرائیل کے سب سے بڑے بینک کے سربراہ وفد کے ساتھ یو اے ای میں

اسرائیل کا خاص طور پر قریبی اقتصادی تعلقات پر توجہ دینے والا ایک اہم وفد اپنے اولین دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گیا ہے۔ دو روزہ دورے کے دوران اس وفد کی قیادت اسرائیل کے سب سے بڑے بینک کے سربراہ کر رہے ہیں۔یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل اور خلیجی ریاست یو اے ای کے مابین معمول کے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سرکردہ اسرائیلی شخصیات کا یہ پہلا باقاعدہ کاروباری دورہ ہے۔ اس وفد کی قیادت اسرائیل کے بینک ہاپوالیم کے سربراہ ڈوو کوٹلر کر رہے ہیں اور اس میں ہائی ٹیکنالوجی کے علاوہ فنانشل ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کی سرکردہ شخصیات شامل ہیں۔

‘تاریخ ساز قدم، توقعات بےتحاشا‘

اپنے اس دورے کے بارے میں ڈوو کوٹلر نے کہا، ”یہ دورہ اپنی نوعیت کا اولین اور ایک تاریخ ساز قدم ہے، جس سے بے تحاشا توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔‘‘ یہ اسرائیلی وفد ایک نجی طیارے کے ذریعے یروشلم سے ابوظہبی پہنچا۔یروشلم سے روانگی سے قبل ڈوو کوٹلر نے کہا، ”ہمیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کے نظام ہائے بینکاری اور سرکردہ اقتصادی شخصیات کے مابین براہ راست اور بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی بات چیت ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ڈائریکٹ بزنس کے قابل بنائے گی اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہو گی۔‘‘

متحدہ عرب امارات جانے والے اس اسرائیلی کاروباری وفد کی قیادت اسرائیل کے سب سے بڑے بینک ہاپوالیم کے سربراہ ڈوو کوٹلر کر رہے ہیںساتھ ہی ہاپوالیم کے سربراہ نے مزید کہا کہ دنیا کو اس وقت کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث اقتصادی ترقی کی شرح میں کمی کا سامنا ہے، اس لیے یہ وفد متحدہ عرب امارات میں اسرائیل کے لیے ‘ترقی کے نئے محرکات‘ کی تلاش میں ہو گا۔اس دورے کے دوران یہ وفد پہلے دبئی میں اور پھر ابوظہبی میں اماراتی بینکاروں اور نمایاں کاروباری شخصیات سے مذاکرات کرے گا۔

اگلے اسرائیلی کاروباری وفد کا دورہ بھی طے

ہاپوالیم کے سربراہ کی قیادت میں اس وفد کے علاوہ ایک اور اسرائیلی وفد کا یو اے ای کا دورہ بھی طے ہو چکا ہے۔ یہ وفد اسرائیل کے ایک اور بڑے مالیاتی ادارے بینک لیُومی کی طرف سے خلیج کی اس ریاست کا دورہ کرے گا۔ یہ دوسرا اسرائیلی کاروباری وفد 14 سمتبر کو متحدہ عرب امارات جائے گا۔فلسطینی حکام اور حماس کی جانب سے اس معاہدے کو مسترد کیا گیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے آپسی اختلافات پس پشت ڈال کر ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ فلسطین نے متحدہ عرب امارات سے اپنا سفیر بھی فوری طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جب خطے کے اہم ممالک اسرائیل کے ساتھ معاہدے کر لیں گے تو فلسطینیوں کو بھی آخرکار مذاکرات کرنا پڑیں گے۔امریکا کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 13 اگست کو آپس میں سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کیا تھا۔اس کے صرف دو ہفتے بعد ہی اعلیٰ اسرائیلی حکام کا ایک وفد چند سرکردہ امریکی سیاسی شخصیات کے ہمراہ اس لیے ابوظہبی گیا تھا کہ وہاں دوطرفہ تعاون کے کلیدی شعبوں کے تعین کے لیے مشاورت کی جا سکے۔متحدہ عرب امارات خلیج کی خطے کی پہلی، مجموعی طور پر تیسری عرب اور چوتھی ایسی مسلم اکثریتی ریاست ہے، جس نے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی، کاروباری اور اقتصادی تعلقات قائم کیے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

44 بھارتی بینک 1 ارب ڈالر کی غیرقانونی منتقلی میں ملوث ہیں انکشاف

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ نیویارک بھارت کے 44 ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے