مصراتہ ملیشیا طرابلس پہنچ گئی، وزیر داخلہ کی کھلی تحقیقات کرانے کی خواہش

لیبیا میں وزیر دخلہ فتحی باشاغا کی وفادار ملیشیا دارالحکومت طرابلس پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت پیش آئی جب باشاغا ترکی کے دورے سے واپس پہنچے اور ان کے قومی وفاق حکومت کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے۔لیبیا کی نیشنل آرمی کے میڈیا آپریشن کنٹرول روم کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مصراتہ شہر میں بڑی تعداد میں ملیشیا کے عناصر کو تعینات کیا گیا ہے۔ شاہراہ عمر المختار اور طرابلس میں میدان شہدا میں بھی وزیر داخلہ کی وفادار ملیشیا موجود ہے۔

ادھر وزیر داخلہ کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹنے کی مبنیہ سازش کی تحقیقات آج سوموار تک ملتوی کر دی گئی ہیں۔ دوسری طرف وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی تحقیقات بند کمرے میں‌ بلکہ اعلانیہ ہونی چاہئیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر داخلہ باشاغا اور قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج کے درمیان جاری اختلافات ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’تک پہنچ گئے ہیں۔ وزیر داخلہ کو تحقیقات مکمل ہونے تک کام سے روک دیا گیا ہے۔ یہ اختلافات اس وقت مزید شدت اختیار کرگئے تھے جب وزیر دخلہ فتحی باشاغا نے الزام عاید کیا تھا کہ فائز السراج کی وفادار ملیشیا نے دارالحکومت طرابلس اور دوسرے شہروں میں ہونے والے پرامن مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی ہے۔

فتحی باشاغا اخوان المسلمون سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں ترکی کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم فائز السراج کے ساتھ اختلافات کے بعد ان کی حامی ملیشیائوں نے طرابلس میں جمع ہونا شروع کردیا ہے۔ جس سے طرابلس میں ایک نئی محاذ آرائی کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی قانون سازوں کا ٹرمپ سے سعودی عرب میں جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ واشنگٹن امریکی قانون سازوں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے