بزدارسرکار کی بیڈ گورننس کی بد ترین مثال وی سی سرگودھا یونیورسٹی آزاد

شبیر خان سدوزئی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور

احتساب کی دعویدارپنجاب کی بزدارسرکار نے بیڈ گورننس کی بد ترین مثال قائم کرتے ہوئے سابق خادم اعلیٰ کے پروردہ انتہائی با اثر وی سی سرگودھا یونیورسٹی کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی بجائے پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے فائل دوبارہ تفتیش، تحقیق و انکوائری اور رپورٹ کیلئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کردی ہے جس کے ساتھ ہی سیکرٹری ایچ ای ڈی کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ،۱ٓڈیٹر جنرل ۱ٓف پاکستان،وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم اور دو اہم ترین حساس اداروں کی جانب سے تمام الزامات درست قرار، وی سی کو عہدہ سے ہٹانے اوران کے کرپشن کیس احتساب عدالت کو بھجوانے کی سفارش نظر اندازکرنے سمیت ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں تین رکنی اعلیٰ سطحی سپیشل پرسنل ہیئرنگ کمیٹی نے بھی تمام الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے وی سی کو فوری عہدہ سے ہٹانے اور سی ایم ۱ٓئی ٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کرنے کی سفارش پر مبنی سمری وزیر اعلیٰ کو ارسال کی مگر 40 روز تک سمری وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں دبائے رکھے جانے کے بعد سراسر ناجائز و غیر قانونی اقدامات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے تحت ہر لحاظ سے مکمل فائل پھر از سر نو تحقیق، تفتیش و انکوائری کیلئے سیکرٹری ایچ ای ڈی کو واپس ارسال کردی گئی ہے اس طرح با اثر اور سابق خادم اعلیٰ پنجاب کے پروردہ کرپٹ وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے احتساب کی دعویدار حکومت کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور اپنی 4 سالہ مدت میں سے ساڑھے 3 سال کا عرصہ ملازمت بھی مکمل کرلیا ہے جس پرشہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان، چیف جسٹس ۱ٓف پاکستان، چیئرمین نیب، گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر ارباب اختیار سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی اسلام ۱ٓباد میں غیر قانونی طور پر میرٹ سے ہٹ کر تعینات کئے گئے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کو سابق خادم اعلیٰ پنجاب کی ۱ٓثیرباد سے ساڑھے تین سال قبل میرٹ سے ہٹ کر سرگودھا یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا جنہوں نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھالنے کے تین چار ماہ بعد ہی اقربا پروری اور بدترین کرپشن سمیت منظور نظر افراد کو پر کشش و اہم عہدوں پر فائز کرنے، اختیارات کے ناجا ئز استعمال، با اثر افراد کو نوازنے کیلئے ملازمتوں کی لوٹ سیل، پرائیویٹ ہاسپیٹل مافیا کی ملی بھگت سے 200 بیڈز کے یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال کی بندش،یونیورسٹی کے مختلف امورمیں سنگین بدعنوانیوں، بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کا سلسلہ شروع کردیا۔اس دوران ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ۱ٓڈیٹر جنرل ۱ٓف پاکستان نے اپنی تحقیقات کے دوران نہ صرف وی سی سرگودھا یونیورسٹی کی سنگین بے ضابطگیوں کی تصدیق کی بلکہ اہم ترین و پرکشش عہدوں پر کی گئی 18 غیر قانونی تقرریاں فوری منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا لیکن با اثر وی سی نے ان احکامات کونہ صرف ردی کی ٹوکری کی نظر کردیابلکہ چن چن کر کرپشن کے ماسٹرز کو اپنی ٹیم میں بھی شامل کرلیا۔ اس دوران لاہور ہائیکورٹ میں ایک شہری شفیق مرزا اور ایک ماہر قانون کی جانب سے الگ الگ رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں جن میں وی سی کی غیر قانونی تقرری کو چیلنج کرنے سمیت اس کے دیگرناجائز اقدامات اور من پسند افراد کی میرٹ کو پامال کرتے ہوئے بھرتیوں کو چیلنج کیا گیا۔

مذکورہ رٹ پٹیشنز کے جواب میں بھی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے وی سی کے تمام غیر قانونی اقدامات کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت عالیہ میں جمع کروائی۔اس دوران ٹی وی نیوز چینلز اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے کرپٹ وی سی کے خلاف واویلا پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار حرکت میں ۱ٓئے اور صوبائی وزیر برائے وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم پنجاب محمد اجمل چیمہ کو ہدایت کرکے ایک اعلیٰ سطحی وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم تشکیل دلوائی گئی جس میں شامل انتہائی سینئر و تجربہ کار اور ایماندار وفرض شناس افسران نے 8 ماہ کی طویل عرق ریزی اور شبانہ روز جدو جہد کے بعد 25 صفحات پر مشتمل فائنڈنگز اور سینکڑوں معاون دستاویزاتی ثبوتوں کے ہمراہ رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ارسال کی جس میں قومی خزانہ کو تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان پہنچانے، درجنوں غیر قانونی تقرریوں، کئی جگہوں پر یونیورسٹی کے چانسلر و گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے اختیارات غیر قانونی طریقے سے خود استعمال کرنے، اپنے اختیارات سے تجاوز، مختلف شہروں میں اپنے ناجائز و غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دینے کیلئے بھاری مشاہروں پر لیگل و میڈیا ٹیمز بھرتی کرنے، اپنے عزیز و اقارب اور اہم سیاسی، انتظامی، صحافتی و دیگر سرکردہ افراد کو نوازنے کیلئے ان کے بچوں اور رشتہ داروں کو پرکشش عہدوں پر بھرتی کرنے،خود وی سی کے عہدہ کیلئے درکار اہلیت پر پورا نہ اترنے سمیت سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے نہ صرف وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کو عہدہ سے ہٹانے، انہیں قائداعظم یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدہ پر واپس بھجوانے،ان کے دور میں کی گئی تمام غیر قانونی تقرریاں جن کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی منسوخ کرنے اور ڈاکٹر اشتیاق سمیت ان کے معاونین کا کیس نیب کو بھجوانے کی بھی سفارش کی گئی۔

اعلیٰ سطحی وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کی مذکورہ رپورٹ نے نہ صرف یونیورسٹی بلکہ اقتدار کے ایوانوں اور میڈیا میں بھی ہلچل مچادی مگر دوسری جانب سابق خادم اعلیٰ کے پروردہ وی سی کو بچانے کیلئے خفیہ ہاتھ بھی سرگرم ہوگئے اور معاملہ سرخ فیتہ کی نذر کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔اس دوران ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے کئی سیکرٹری بھی تبدیل کئے گئے مگر محکمہ وی سی کے خلاف اپنی رپورٹ پر قائم رہالیکن با اثر ہاتھ ایک بارپھر حرکت میں ۱ٓئے اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کو ذاتی شنوائی اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے دفاع کا ایک اور موقع فراہم کرنے کیلئے مسلمہ دیانتدار ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی پنجاب ارم بخاری کی سربراہی میں 3رکنی اعلیٰ اختیاراتی سپیشل پرسنل ہیئرنگ کمیٹی تشکیل دیدی جس نے کئی بار ذاتی طور پر وی سی ڈاکٹر اشتیاق کو طلب کیا اور انہیں اپنے دفاع میں صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع دیا لیکن وہ چیف منسٹرز پرسنل ہیئرنگ کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے جس پر مذکورہ کمیٹی نے وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کی رپورٹ اور سفارشات سے نہ صرف مکمل اتفاق بلکہ اس سے بھی سخت فائنڈنگز دیتے ہوئے کرپٹ وی سی سرگودھا یونیورسٹی کو فوری ان کے عہدہ سے ہٹانے اور ان کا کیس نیب کو بھجوانے کی سفارش کے ساتھ سمری وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ارسال کردی۔اس رپورٹ کے ساتھ ہی سابق خادم اعلیٰ پنجاب کے پروردہ وی سی کو بچانے کیلئے خفیہ ہاتھ پھر سرگرم ہوگئے مگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ملک کے 2 اہم ترین حساس اداروں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا اور ان سے وی سی سرگودھا یونیورسٹی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی جنہوں نے اپنی خفیہ رپورٹس میں وی سی پر لگائے گئے تمام الزامات درست قرار دیدیئے۔اس طرح یہ سمری ایوان وزیر اعلیٰ پنجاب میں 40 روز تک دبائے رکھی گئی۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد جن کی تقرری 4 سال کے عرصہ کیلئے کی گئی تھی اسی کشمکش میں اپنے اثرورسوخ کے باعث اب تک اپنے عہدہ کے ساڑھے 3 سال کی مدت پوری کرچکے ہیں اور ان کی تقرری کے صرف 6 ماہ باقی ہیں مگر ان کے سرپرستوں نے انتہائی مکارانہ چال چلتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے ان ریمارکس کے ساتھ فائل واپس سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب لاہور کو بھجوادی ہے کہ وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی ازسر نو تحقیق و تفتیش کی جائے اور پھر رپورٹ پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم پنجاب کو ارسال کی جائے یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی اس عرصہ کے چھٹے سیکرٹری ایچ ای ڈی پنجاب ذوالفقار احمد گھمن کو تبدیل کرکے انہیں کمشنر لاہور تعینات کردیا گیا اور سیکرٹری ایچ ای ڈی کے عہدہ پر نئی تقرری کی بجائے ان کے عہدہ کا اضافی چارچ محمد ندیم غوث سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو دیدیا گیاتاکہ با ا ثر و کرپٹ وی سی سرگودھا کو باقی 6 ماہ کی مدت پوری کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر پنجاب حکومت کے اہم عہدیدار کا کہنا تھا جب ملک کے اعلیٰ ترین ادارے،اہم ترین حکام اور خود ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم تمام دستاویزی ثبوتوں کے ہمراہ ناقابل تردید شواہد کے ساتھ تفصیلی رپورٹ پیش کرچکے ہیں تو پھرسابق خادم اعلیٰ کے پروردہ ایک کرپٹ وی سی کو اس اعلیٰ ترین سطح پر ناجائز و غیر قانونی تحفظ کیوں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیڈ گورننس کے اس اقدام نے وزیر اعظم پاکستان کے شفاف احتساب کے دعوؤں پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے

About BBC RECORD

Check Also

بھارتی ظلم وستم سے تنگ پاکستانی ہندوؤں کی وطن واپسی

Share this on WhatsAppشبیر خان سدوزئی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور پاکستان سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے