یاسر عرفات کی بیوہ اسرائیلی ٹی وی پر نمودار ، فلسطینی اتھارٹی کو دھمکی

فلسطین کے سابق صدر یاسر عرفات کی بیوہ سہی عرفات نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کی اسکرین پر نمودار ہو کر خبردار کیا ہے کہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کے عہدے داران کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ یہ دھمکیاں Instagram پر سہی کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ کرنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس بلاگ میں یاسر عرفات کی بیوہ نے امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار کرنے کے بعد ،،، فلسطینی عوام کی طرف سے متحدہ عرب امارات سے معذرت کی تھی۔ اسرائیلی چینل "كان” کو دیے گئے انٹرویو میں سہی نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی نے انہیں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو نقصان پہنچایا تو اتھارٹی کے افراد کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔

اسرائیلی ٹی وی پر پہلی مرتبہ اپنی آواز کے ساتھ ظاہر ہونے والی سہی نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے ان کے گھرانے کے لوگوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ سہی کے بھائی غابی الطویل کو جو قبرص میں فلسطینی سفیر ہیں ،،، رام اللہ طلب کر کے ان کے ساتھ پوچھ گچھ کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غابی نے سفارت خانے کی عمارت میں امارات مخالف سرگرمیوں کا انتظام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سہی نے استفسار کیا کہ "کیا یہ لوگ یاسر عرفات کے گھرانے کو برباد کرنا چاہتے ہیں ؟ ہم ان سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں”۔ سہی نے خبردار کیا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کے سینئر عہدے داران نے ان کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی تو وہ ان باتوں کا انکشاف کر دیں گی جو اُن کے پاس موجود "یاسر عرفات کی یادداشتوں” میں ان عہدے داران کے بارے میں تحریر ہیں۔ سہی کے مطابق اس کا تھوڑا سا حصہ نشر کرنا ہی ان لوگوں کے لیے جہنم کے دروازے کھول دے گا۔ عرفات کی بیوہ نے چینل کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ "میں ان لوگوں کو فلسطینیوں کے سامنے جلا کر راکھ کر دوں گی”۔

سہی نے انکشاف کیا کہ ان کو بدنام کرنے کی مہم کے پیچھے خاتون عہدے دار انتظار ابو عمارہ کا ہاتھ ہے۔ یہ صدر محمود عباس کے دفتر کی ڈائریکٹر ہیں۔ سہی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے اپیل کی کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کریں اس سے قبل کہ وہ اس مقصد کے لیے دنیا کے کسی دوسرے سربراہ یا رہ نما کا رخ کریں۔
یاسر عرفات کی بیوہ نے فلسطینی اتھارٹی کو اس وظیفے کو روکنے سے بھی خبردار کیا جو سہی اور ان کی اکلوتی بیٹی کو ملتا ہے۔ یہ وظیفہ ماہانہ 10 ہزار یورو ہے۔ سہی نے استفسار کیا کہ "کیا یہ سب کچھ صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ میں نے (امارات کا) پرچم نذر آتش کرنے سے منع کیا تھا ؟ یہ ایک دہشت گردانہ سوچ ہے۔ کیا فلسطینی اتھارٹی امریکیوں اور اسرائیل سے اسی واسطے مالی رقوم لیتی ہے کہ ساری دنیا کو دھمکی دے ؟ جیسا کہ میں نے بتایا کہ اگر عرفات زندہ ہوتے تو کبھی یہ سب کچھ نہ کرتے جو فلسطینی اتھارٹی کر رہی ہے۔ عرفات تو محمد بن زاید کے پاس جاتے اور نیتن یاہو کے خلاف مدد طلب کرتے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور صدی کی ڈیل کی تبدیلی کے لیےکام کرنے پر زور دیتے”۔

سُہی الطویل عرفات 1963ء میں مغربی کنارے میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1985ء میں پہلی مرتبہ یاسر رفات سے ملیں تو ان کی والدہ اور بہنیں بھی ساتھ تھیں۔ عرفات نے 1989ء میں فرانس کا دورہ کیا تو سہی نے ان کے لیے بطور مترجم کام کیا۔ بعد عرفات نے سہی سے تونس میں بھی اپنے ساتھ کام کرنے کی درخواست کی جہاں اُس وقت تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کا صدر دفتر تھا۔ جولائی 1990ء میں دونوں نے شادی کر لی۔ اس وقت یاسر عرفات کی عمر 61 برس اور سہی کی عمر 27 برس تھی۔ تاہم شادی کا اعلان دو سال بعد کیا گیا۔ اس کے بعد سہی نے اسلام قبول کر لیا اور عرفات سے اپنی اکلوتی بیٹی کے ساتھ حج کا فریضہ بھی ادا کیا۔ ان کی بیٹی کا نام زہوہ ہے جو 1995ء میں فرانس میں پیدا ہوئی۔ اس وقت سہی اور زہوہ مالٹا میں مقیم ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

ایران پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ضرورت پورا کرنے کے لئے تیار

Share this on WhatsAppایران کے سفیر نے پاکستان سے قریبی اور گہرے تعلقات سمیت تجارتی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے