مودی کا کشمیر تجربہ ناکام۔ بھارتی عوام کشمیر سے آزادی مانگیں گے ۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی

بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس سننے والے سامعین کے کانوں میں نعیمہ احمد مہجور کی سریلی و رسیلی آواز آج بھی گونجتی ہو گی جو 20 سال تک رات آٹھ بجے تازہ خبروں اور تبصروں کے ساتھ سامعین کی سماعتوں میں رس گھولتی رہی ۔جموں و کشمیر کی یہ معروف صحافی، ناول و افسانہ نگار تو ہے ہی مگر 20 برس تک بی بی سی لندن کی اردو سروس میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کر چکی۔ خبروں رپورٹوں اور تبصروں کی وجہ سے ریاست اردو کی سرحد کے اندر بہت مقبول و معروف ہیں ۔آل آنڈیا ریڈیو میں خدمات انجام دینے کے باعث بھارت کی سول سوسائٹی میں بھی بڑا نام و مقام رکھتی ہیں ۔ نعیمہ کا شیرآفاق ناول ” دہشت آزادی ” بہت مقبول ہوا۔ یہ ناول ایک کشمیری عورت کی کہانی ہے جو دہشت اور خون خرابے کے دوران پلی پڑھی۔ یہ دراصل نعیمہ احمد مہجور کی اپنی زندگی کی کہانی ہے جس میں نعیمہ کشمیر کے وہ تمام حالات قلم بند کرتی ہیں جو لڑکپن اور جوانی میں مقبوضہ کشمیر میں اس نے دیکھے۔ جہاں بھارتی فورسز کا کس قدر خوف ہے خصوصا کشمیر کی عورت فوجیوں کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی سلوک سے کس قدر خوف زدہ رہتی ہے اور اسی ماحول میں اس کی زندگی کے سال آگئیں بڑتے ہیں۔ یہ ناول آج کے کشمیری معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جہاں 10 لاکھ سے زیادہ بھارتی آرمی نے کشمیری معاشرے کو بوناسائی کر رکھا ہے ۔ آج کشمیر کی جو صورت حال بن چکی اس کا نچوڑ اس بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی نے صرف ایک سطر میں نکال لیا ” اب کشمری قیادت سمجھتی ہے تو ٹھیک ہے نہیں سمجھتی تو اس قوم کا مقدر”۔۔۔ نعیمہ احمد مجہور کشمیری قوم پرست ہیں مگر بھارت مخالف نہیں ۔ محبوبہ مفتی ، بی جے پی حکومت میں اہم سرکاری عہدے پر فائز تھی ۔ حکومت ختم ہونے کے بعد بھی یہ عہدہ غالبا ان کے پاس رہا ۔ 5 اگست کے بعد کرفیو کے نفاذ کی صورت میں جب مقبوضہ کشمیر میں زندگی بند کر دی گئی تو نعیمہ سری نگر سے بڑی مشکل سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں ۔ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاون کے ایک سال مکمل ہونے پر انہوں نے کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تجزیہ لکھا ہے جو اے ایف پی نے ریلیز کیا اور بین الاقوامی میڈیا میں شائع اور نشر ہوا۔ قارئین کو مقبوضہ کشمیر کی صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے مکمل متن شائع کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو اندر کی تازہ صورت حال سے آگاہی ہو۔ یہ غیر جانبدار صحافی کی رپورٹ ہے جو کبھی حریت کی صفوں میں شامل نہیں رہی اور نہ کبھی ہند مخالف گروپ کی حمایتی رہی ہے ۔ (نعیمہ احمد مجہور )جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے وقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے یقین دلایا تھا کہ کشمیر میں اب گھاس کی بجائے سونا اگے گا، دریاؤں میں پانی کے بدلے دودھ کی نہریں بہا دی جائیں گی اور آسمانوں میں پرندوں کی نہیں کشمیریوں کی پروازیں دیکھنے کو ملیں گی۔دنیا کی بیشتر آبادی نے مودی پر بھروسہ کیا، خاموش رہ کر ان کا ساتھ دیا اور انتظار کرنے لگے کہ کب وہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ ڈالنے آئیں گے۔کشمیری بھی بھروسہ کرتے مگر انہوں نے 2002 کے گجرات والے مودی کو دیکھا تھا جب ان کے دور حکومت میں تقریبا دو ہزار مسلمانوں کی ہلاکت سے بھارت کی اقلیت کو واضح پیغام دیا گیا تھا کہ وہ اس ملک کے شہری ہونے کے باوجود مشکوک ہیں اور انہیں نسل در نسل اس عذاب سے گزرنا پڑے گا۔کشمیریوں کو مودی کا وہ چہرہ آج بھی ذہن نشین ہے جب وہ سن 1992 میں اس وقت بغل میں جھولی لے کر لال چوک میں ترنگا لہرانے کے لیے آئے تھے۔ وہ کشمیریوں کو یہ بتانے آئے تھے کہ وہ اپنے حقوق کی لاحاصل جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب وہ اس خطے کو آسیب بن کر ایسے نگل لیں گے کہ دہشت اور وحشت کے سائے میں زندہ رہنے کی بجائے لوگ اپنے وجود سے نفرت کرنا شروع کر دیں گے۔
چند کشمیری مودی کو پہلے واجپائی سمجھنے لگے تھے کہ جن کے سینے میں آر ایس ایس کا دل تو دھڑکتا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے کئی محفلوں میں اس بات کو دہرایا تھا کہ ’کشمیریوں نے بہت مصائب جھیلے ہیں اب ان کی خواہشات کی قدر کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پاکستان سے مل کر اس مسئلے کو سلجھانا ہوگا اور کشمیریوں کے حقوق کو بحال کرنا ہوگا۔‘ مگر ان چند لوگوں کو اس وقت مایوسی ہوئی جب ان کو پتہ چلا کہ مودی دراصل آر ایس ایس کی اس شاخ کے پیروکار ہیں کہ جو کشمیریوں اور خصوصاً مسلمانوں کو یہ باور کرانے کا عزم کر چکی ہے کہ وہ ان کے لیے ایسے حالات کا تعین کریں گے جو عوام کو قوت مزاحمت سے بھی محروم کر دیں گے۔ گجرات کے بعد مظفرنگر یا دہلی کے منظم طور پر کرائے جانے والے فسادات کی مثالیں تصدیق کے لیے کافی ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی بنیاد ڈالنے کی پوجا میں سیکولر کہلانے والی سیاسی جماعتوں نے شمولیت کی رضامندی ظاہر کی تھی۔ بھلا ہو کرونا (کورونا) وائرس کا کہ جس کی وجہ سے انہیں ٹیلی ویژن سکرینوں پر ہی پوجا میں شامل ہونا پڑا۔ پھر مودی بھی اس لمحے کی بےانتہا خوشی کو دوسروں کے ساتھ کیسے بانٹتے۔۔۔پچھلے برس مودی نے کشمیریوں کو اجتماعی سزا کا ایسا فیصلہ سنایا کہ ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی پر مشتمل ریاست کو رات کی تاریکی میں جیل خانہ بنا دیا۔ پندرہ لاکھ بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا، تیرہ ہزار بچوں کو گرفتار کر کے کشمیر سے باہر جیلوں میں بند کر دیا، پانچ لاکھ افراد کو روزگار سے محروم کر دیا، چالیس ہزار کروڑ روپے کے تجارتی نقصان سے کشمیری معیشت کو برباد کر دیا۔ سیاحت کی انڈسٹری کو جان بوجھ کر مفلوج بنا دیا اور اس سے منسلک دو لاکھ سے زائد خاندانوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا۔
مودی نے کہا تھا کہ بندوق کو کشمیری آبادی سے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ اب تک بندوق پکڑنے کی تفصیل تو نہیں ملی مگر بندوق رکھنے کی پاداش میں 214 نوجوانوں کو سکیورٹی کارروائیوں میں ہلاک اور 1400 کو زخمی کر دیا۔ سینکڑوں مکانات کو بارود سے اڑانااور کروڑوں کی جائیداد کو خاکستر کرنا فوج کا مشغلہ بنا دیا۔
بھارت کی مختلف ریاستوں میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری طلبا اور طالبات کو ہندوتوا کے خوف کے باعث واپس کشمیر آنا پڑا اور بیرون ریاست تاجروں کو زندگی بچانے کی غرض سے اپنا کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔مودی حکومت نے حال ہی میں تین درجن صفحات پر مشتمل ایک پیپر میں اپنی بہتر کارکردگی کی تفصیل بتائی ہے۔ اس کو پڑھ کر جنرل گوبلز کی یاد تازہ ہو جاتی ہے کہ جس نے ہٹلر کے فاشزم کو پھیلانے میں اتنا جھوٹ پھیلایا کہ خود ہٹلر بھی جھوٹ کو سچ ماننے لگے تھے۔ مگر مودی نے بعض ایسے اقدامات کا ذکر نہیں کیا جو کشمیری قوم کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔اس ایک برس میں مودی نے کئی ایسے قوانین لاگو کیے جن کے بدولت اس خطے کا مسلم کردار چند برس کے اندر اندر ختم ہوجائے گا۔ ڈومیسائل قوانین لاگو کر کے مشرقی پاکستان کے شرنارتھی، نیپالی گورکھا، والمیکی کہلانے والے پناہ گزینوں، کشمیر انتظامیہ میں دوسری ریاستوں کے ملازمین اور طلبا کو شہریت کی سندیں فراہم کرنا لازمی بن گیا ہے۔ دس لاکھ سے زائد فوجی گذشتہ کئی دہائیوں سے وادی کے چپے چپے پر موجود ہیں اور غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق چار لاکھ غیر مسلموں کو شہریت کاسرٹیفیکٹ دینے کا پہلا منصوبہ روبہ عمل لایا گیا ہے۔
ایک اور قانون کے تحت فوج کو کسی بھی مقام پر زمین حاصل کر کے اپنا اڈہ قائم کرنے کی آزادی ہوگی جبکہ لاکھوں کلومیٹر کا رقبہ پہلے ہی فوجی قبضے میں ہے۔ کشمیری پنڈتوں اور غیر کشمیری شہریوں کے لیے محفوظ مقامات پر مکانات تعمیر کرنے کا اسرائیلی فارمولہ تیار کیا گیا ہے جس کے لیے کئی علاقوں میں زمین کی نشاندہی اور تعمیرات شروع کی گئی ہیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جانا چاہیے کہ کشمیر اگر کشمیریوں کے لیے محفوظ نہیں رہا ہے تو غیر کشمیریوں کے لیے محفوظ کیسے بن جائے گا؟ اگر بندوق دکھا کر قوموں کو مٹایا جاتا تو آج بھارت اور پاکستان دو آزاد ملکوں کی طرح نہیں ہوتے، جنوبی افریقہ نسل پرستی سے آزاد نہیں ہوا ہوتا، کوسوو کے شہری فوجی بربریت سے آزاد نہیں ہوئے ہوتے۔دراصل مودی کا کشمیر پلان ناکام ہی نہیں بلکہ بھارت کے لیے بھی خطرناک بن گیا ہے جس کی شکل اب اتنی بدصورت بنتی جا رہی ہے کہ عنقریب ہی بھارت کے عوام کشمیر سے آزادی حاصل کر نے کی مہم شروع کریں گے جیسا کہ معروف ناول نگار اروندھتی راے نے اپنی کتاب میں دعوی کیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے