فائر بندی کے بیان کے بعد ترکی لیبیا میں وفاق حکومت کے سربراہ پر برہم : رپورٹ

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ترکی

انقرہ حکومت لیبیا کی وفاق حکومت کی صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج پر برہم ہے۔ اس کی وجہ السراج کی جانب سے فائر بندی کے حوالے سے جاری بیان ہے۔ یہ بات لیبیا کے ایک ٹی وی چینل "218” نے بتائی۔ واضح رہے کہ لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا بیان جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد ملک میں جاری بحران کا حل نکالنا ہے۔

ذرائع نے باور کرایا ہے کہ فائز السراج کا بیان جرمنی کے دباؤ کے بعد سامنے آیاچینل نے انکشاف کیا ہے کہ بیان جاری ہونے کے بعد تُرک ذمے داران اور وفاق حکومت کے عہدے داران کے درمیان انفرادی طور پر ٹیلیفونک رابطے ہوئے۔مزید یہ کہ ترکی رواں ہفتے کے وسط میں قومی سلامی کونسل کے اجلاس میں فائز السراج کے اعلان کی روشنی میں زمینی صورت حال کا جائزہ لے گا۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں مظاہروں، ٹائر جلانے اور راستوں کو بند کر دینے کا سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران وفاق حکومت کی ہمنوا ملیشیاؤں کی جانب سے دارالحکومت کے علاقوں میں مظاہرین کے خلاف وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کی مہم جاری رہی۔ مظاہرین فائز السراج اور وفاق حکومت کی رخصتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ اجرتی جنگجوؤں نے دارالحکومت طرابلس میں مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔ادھر طرابلس تحفظ فورس نے ایک بیان میں وفاق حکومت کو 24 گھنٹوں کی مہلت دی ہے تا کہ مظاہرین کو نشانہ بنانے میں ملوث عانصر کے حوالے سے وضاحت دی جائے۔ بیان میں وفاق حکومت کو واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

طرابلس میں عوامی احتجاج میں اتوار کی شب مزید شدت آ گئی۔ احتجاج کا دائرہ وسیع ہو کر شہر کے مغربی اور مشرقی علاقوں تک پھیل گیا۔ ان میں غوط الشعال، السياحيہ، الاسلامی، الدريبی، كشلاف، قدح، الرياضيہ، الاندلس، الجمعہ بازار تاجوراء شامل ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکا غنڈہ گردی بند کرے ورنہ جوابی کارروائی کریں گے، چین

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ بیجنگ چین نے ٹک ٹاک اور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے