سعودی شہزادہ ڈھائی سال سے قید بےجا میں، اقوام متحدہ کو شکایت

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی دو تنظیمیں سعودی حکمرانوں کی طرف سے شاہی خاندان کے ایک انسان دوست رکن، شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے بلاوجہ قید میں رکھے جانے کے خلاف شکایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں درخواست دیں گی۔سعودی عرب میں اس وقت 37 سالہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کو ریاض حکومت نے جنوری 2018ء سے قید کر رکھا ہے۔ انہیں شاہی خاندان کے درجنوں ارکان کے خلاف شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے کیے جانے والے کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

سلمان بن عبدالعزیز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے ایک عام رکن کے طور پر موجودہ شاہ اور ولی عہد کو اس شہزادے سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔پھر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ شاہی حکمرانوں نے اس شہزادے کو گزشتہ ڈھائی سال سے بھی زیادہ عرصے سے قید میں کیوں رکھا ہوا ہے۔

درخواست دینے کا مقصد زیادہ بین الاقوامی دباؤ

اسی لیے اب پرنس سلمان بن عبدالعزیز کے حامیوں نے ریاض حکومت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ میں باقاعدہ تحریری شکایت کرنے کا ارادہ کیا ہے۔اس سلسلے میں انسانی حقوق کی دو تنظیموں نے عالمی ادارے کو بھیجنے کے لیے ایک دستاویز بھی تیار کر لی ہے، جو نیوز ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار نے خود بھی دیکھی ہے۔یہ درخواست جنیوا سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ مینا (MENA ) اور لندن میں قائم ہیومن رائٹس گروپ ALQST کی طرف سے جمع کرائی جا رہی ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے قید میں رکھے جانے کے خلاف اس تحریری شکایت سے قبل اسی مہینے ایک اور بڑا انکشاف بھی ہوا تھا۔

کینیڈا کے ساتھ تنازعہ

شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں تازہ ترین سفارتی تنازعہ کینیڈا کے ساتھ جاری ہے۔ اس سفارتی تنازعے کی وجہ کینیڈا کی جانب سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کے لیے کی گئی ایک ٹویٹ بنی۔ سعودی عرب نے اس بیان کو ملکی داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط ختم کر دیے۔

امریکا میں مقدمہ

یہ انکشاف امریکا میں دائر کیا جانے والا ایک مقدمہ تھا، جو سعودی عرب کے ایک سابق سینیئر انٹیلیجنس اہلکار سعد الجابری نے دائر کیا ہے اور جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے الجابری کو قتل کروانے کی کوشش کی تھی۔ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ تیل سے مالا مال اس قدامت پسند عرب بادشاہت میں شاہی خاندان کے حکمران طبقے کی طرف سے اپنے اقتدار اور لامحدود اختیارات کے تحفظ کے لیے کیا کچھ کیا جاتا ہے۔

پرنس سلمان بن عبدالعزیز فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں گرفتاری کے بعد پہلے تقریباﹰ ایک سال تک سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب الحیر کی بہت زیادہ سکیورٹی والی جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں ریاض شہر میں ایک بنگلے میں منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں ہر وقت سرکاری محافظوں کا پہرہ رہتا ہے۔

یورپی پارلیمانی ارکان کا مطالبہ

اس سال مارچ میں سلمان بن عبدالعزیز کو اس بنگلے سے دو ماہ کے لیے کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ امریکا سے ان کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی مہم اور یورپی ارکان پارلیمان کی طرف سے کیے جانے والے اس پرنس کی رہائی کے مطالبے بنے تھے۔

کیا سعودی عرب بدل رہا ہے ؟

سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ان کے 32 سالہ بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سال شاہی خاندان کی جانب سے رائج برسوں پرانے قوانین، سماجی روایات اور کاروبار کرنے کے روایتی طریقوں میں تبدیلی پیدا کی۔ یہ دونوں شخصیات اب اس ملک کی نوجوان نسل پر انحصار کر رہی ہیں جو اب تبدیلی کی خواہش کر رہے ہیں اور مالی بدعنوانیوں سے بھی تنگ ہیں۔پرنس سلمان بن عبدالعزیز کی رہائی کے لیے سرگرم جنیوا اور لندن میں قائم انسانی حقوق کی دونوں تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ اپنی مشترکہ شکایت کل منگل پچیس اگست کو جمع کرائیں گی۔

سعودی حکام خاموش

یہ درخواست اقوام متحدہ کے بلاوجہ گرفتاریوں اور بےجا حراست کے خلاف جنیوا میں قائم ورکنگ گروپ کو دی جائے گی۔ ہیومن رائٹس گروپ ‘مینا‘ کی ڈائریکٹر اینس عثمان نے اے ایف پی کو بتایا، ”پرنس سلمان اور ان کے والد کو کوئی بھی فرد جرم عائد کیے بغیر سعودی حکمرانوں نے ڈھائی سال سے بھی زیادہ عرصے سے قید کر رکھا ہے۔اینس عثمان کے مطابق، ”ان دونوں کے حراست میں رکھے جانے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔‘‘ پرنس سلمان اور ان کے والد عبدالعزیز کی حراست کے بارے میں سعودی حکام سے ان کا موقف معلوم کرنے کے لیے درخواست تو کی گئی مگر حکام نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی قانون سازوں کا ٹرمپ سے سعودی عرب میں جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ واشنگٹن امریکی قانون سازوں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے