عراق میں پرتشدد مظاہرے، ایران نواز قوتوں کے مراکز اور نوری المالکی کی تصاویر نذرآتش

عراق میں سول سوسائٹی کے کارکنوں کے اندھا دھند قتل عام کے خلاف عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز عراق کے مختلف شہروں بالخصوص ذی قار گورنری میں ایران نواز ملیشیائوں کے خلاف عوام نے ریلیاں نکالیں اور سابق وزیراعظم نوری المالکی کے پوسٹر اور تصاویر نذرآتش کیں۔

نامہ نگار کے مطابق مظاہرین نے ناصریہ میں بدر آرگنائزیشن، دعوہ پارٹی اور عراقی حزب اللہ سمیت دیگر تنظموں صدر دفاتر کو بھی نذر آتش کر دیا۔جمعہ کی شام ناصریہ کے وسط میں واقع کار بم دھماکے کے نتیجے میں الحبوبی اسکوائر لرز اٹھا جس کے نتیجے میں 11 افراد زخمی ہوگئے۔

ایک عراقی ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں دھرنے کے لیے لگائے گئے دوخیمے جل گئے ۔ دھماکے کے بعد ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں‌کو اسپتال منتقل کیا گیا۔اس کے علاوہ بصرہ میں بھی عوام کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کے خلاف احتجاج کیا۔ عراقی سیکیورٹی فورسز نے بصرہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین نے بصرہ میں پارلیمنٹ کے دفتر کو آگ لگا دی۔ سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی جب کہ مظاہرین نے عمارت پر پٹرول بم پھینکے۔قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں نامعلوم مسلح افراد نے تین مختلف حملوں میں کم سے کم پانچ سماجی کارکن قتل کردیے تھے۔ ان واقعات کے بعد عوام کی بڑی تعداد سڑکوں‌پر نکل آئی تھی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کے قتل عام کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکا غنڈہ گردی بند کرے ورنہ جوابی کارروائی کریں گے، چین

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ بیجنگ چین نے ٹک ٹاک اور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے