ایران پر تمام سابقہ پابندیوں کے نفاذ میں کسی کی ڈکٹیشن کی ضرورت نہیں: برائن ہک

امریکا کے ایران کے لیے سبکدوش ہونے والے امریکی ایلچی برائن ہک نے کہا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی تمام سابقہ پابندیوں کی بحالی کے حوالے سے کسی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفاد کے پیش نظر کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ ایران پابندیاں عائد کرنے کون مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے میں اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ایران کے خلاف "اسنیپ بیک” پابندیوں کو فعال کرنے کے لئے شرائط دستیاب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندی میں توسیع کی ذمہ دار تھی۔”سلامتی کونسل ایک ماہ کے اندر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرے گی جس میں پیرس ، لندن اور بیجنگ پر تہران کی پابندیوں سے متعلق اپنی ذمہ داری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جائے گا۔

برائن نے ان خیالات کا اظہار یوروپی ممالک کے جمعرات کے روز ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی واشنگٹن کی کوشش کی مخالفت کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ وہ امریکی اقدام کی حمایت نہیں کرسکتے۔ امریکا کی طرف سے ایران پر تمام سابقہ پابندیوں کی بحالی تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کرنے کی کوششوں سے متصادم ہے۔

تینوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے متصادم تمام اقدامات سے باز رہے اور بغیر کسی تاخیر کے معاہدے کی تمام شرائط پرعمل درآمد یقینی بنائے۔

About BBC RECORD

Check Also

وزیراعظم پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ

Share this on WhatsAppڈاکٹر زولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد پاکستان ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے