شام میں مزید اراضی اور سمندری رقبہ روس کے زیر کنٹرول

شام میں بشار حکومت کی جانب سے اپنے حلیف روس کے لیے سہولتیں پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سہولت کاری میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بعض شامی حلقوں کے اندر یہ خیال جنم لے رہا ہے کہ ان کا ملک عارضی طور پر "روس کے اقتدار و اختیار” کے تحت آ گیا ہے۔بدھ کے روز سامنے آنے والی ایک روسی سرکاری دستاویز سے ظاہر ہوا ہے کہ شامی حکومت نے روس کو خشکی میں اضافی اراضی اور شام کے علاقائی پانی میں رقبہ فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ماسکو حمیمیم میں اپنے اڈے میں توسیع کر سکے۔

مذکورہ سمجھوتے پر دونوں ملکوں کے نمائندوں نے 21 جولائی کو دستخط کیے تھے اور یہ 30 جولائی سے نافذ العمل ہو گیا۔ اس کا اطلاق شمای شام میں لاذقیہ صوبے کے نزدیک بری اور بحری علاقے پر ہو گا۔ یہاں حمیمیم کا فضائی اڈہ واقع ہے جو روس کے زیر کنٹرول ہے۔دستاویز میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یہ اراضی روسی فضائیہ کے اہل کاروں کے لیے ایک Medical Treatment and Rehabilitation Center کے قیام کے واسطے استعمال کی جائے گی۔ اس اراضی کا رقبہ خشکی میں 20 ایکڑ کے قریب ہو گا اور علاقائی پانی میں بھی اتنا ہی رقبہ ہو گا۔ یہ رقبہ روس کو عارضی طور پر کسی بھی معاوضے کے بغیر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ روس دمشق میں اپنی حلیف بشار حکومت کے تحفظ کے لیے چند سال قبل شام میں داخل ہوا تھا۔ اس وقت سے اب تک اس کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ روس نے 2017ء میں بشار حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد شام میں اپنے عسکری وجود کے پنچجے گاڑنا شروع کیے۔روس نے مؤثر طریقے سے بشار الاسد کے اقتدار کو سقوط سے بچایا اور شام میں مزید اراضی کو کنٹرول واپس لینے میں بھرپور مدد کی۔ اس مقصد کے لیے ماسکو نے عسکری اخراجات کی مد میں اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے۔

حلیف حکومت پر خرچ ہونے والی رقم کے عوض روس نے شام میں تیل اور گیس کے شعبوں میں طویل المدت معاہدوں کا حصول یقینی بنا لیا۔روسی کمپنیوں نے تیل اور گیس کی فیلڈز میں تیل کی دریافت اور انہیں نکالنے کے لیے بشار حکومت کے ساتھ کئی معاہدے طے کیے۔ علاوہ ازیں تیل کی تنصیبات کی از سر نو تجدید کے علاوہ بجلی کی پیداوار اور معدنی دولت کو نکالنے کے لیے بھی سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔

سال 2019ء میں بشار حکومت کی وزارت تیل نے روسی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے۔ ان کے تحت روسی کمپنیوں کو تدمر شہر کے مشرق میں واقع علاقے سے فاسفیٹ نکالنے کا حق مل گیا۔ اسی طرح شام میں طرطوس کی بندرگاہ کو 49 برس کے لیے ایک روسی کمپنی کو لیز پر دینے کا سمجھوتا طے پایا۔ اس سے قبل مارچ 2018ء میں حمص شہر میں بجلی کے شعبے سے متعلق معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔روس میں اپوزیشن نے ماسکو کی جانب سے شام میں بڑے پیمانے پر رقوم خرچ کرنے کی مذمت کی۔ روسی حکومت نے اس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جنگ میں شمولیت نے روسی ہتھیاروں اور ان کے مؤثر ہونے کی جانچ کے لیے وسیع پیمانے پر مواقع پیدا کر دیے۔

اسی طرح شام میں طویل مدت کے لیے اڈوں کو لیز پر حاصل کرنے سے ماسکو کی گرم پانی تک رسائی یقینی بن گئی۔ روس طویل عرصے سے اس مقصد کو پورا کرنے کا خواہاں تھا۔ روس نے لاذقیہ صوبے میں واقع حمیمیم کے فوجی اڈے کو کنٹرول میں لے کر اس کی توسیع شروع کر دی ہے۔ اس طرح یہ خطے میں روس کا سب سے بڑا فوجی اڈہ بن جائے گا۔ ماسکو اور بشار حکومت کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کے تحت روس جب تک چاہے حمیمیم کے اڈے کو اپنے استعمال میں رکھ سکتا ہے۔ان پوری صورت حال میں شام کے شہریوں کو نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا معاملہ ان کا منتظر ہے ،،، اور روس کا ہاتھ کتنی مدت تک ان کے ملک پر مسلط رہے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

ننگرہار میں مسلح افراد کی مسجد میں فائرنگ سے 8 افراد ہلاک

Share this on WhatsAppننگرہار: افغان صوبے ننگرہار میں مسلح افراد نے مسجد میں فائرنگ کرکے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے