یوم سیاہ، یا یوم نجات ، شیخ عبداللہ، سردار محمد ابراہیم خان ۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی

15 اگست 2020ء کوجموں و کشمیر کے عوام نے حسب سابق یوم سیاہ منایا۔ کراچی میں بھی مختلف سماجی اور سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے انداز میں بھارت کے ساتھ نفرت اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، پاکستان کے نوجوانوں کو مسئلہ کشمیر سے آگائی اور اس سے جوڑنے کے لئے قائم کی گئی” یوتھ فورم فار کشمیر” بھی گزشتہ کئی سال سے متحرک اور کشمیر پر پروگرام منعقد کرتی ہے ۔ اس کے زیر اہتمام بھی 14، اور 15 اگست کو سیمینار منعقد ہوئے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طالب علموں کے مابین تقریری مقابلوں میں، نوجوان مقررین نے جہاں کشمیر کے عوام کے ساتھ محبت کا اظہار کیا وہاں یہ عہد بھی کیا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو حل ہونے تک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ فورم کے کراچی کے کوآرڈینیٹر ذہیب نے مجھے شرکت کے لیے خاص تاقید کی تھی ۔یہ دیکھ کر اور تقریریں سن کر ایسے محسوس ہوا کہ پاکستان کی نوجوان نسل بھی مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک ہو رہی ہے اور خاصی معلومات رکھتی ہے ۔ نوجوانوں کو اس قومی ایشو پر باخبر رکھنا اچھی علامت ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل بھی اپنے بزرگوں کی طرح مسئلہ کشمیر کو سمجھ اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کرتی ہے۔ نوجوانوں تک یہ پیغام پہنچانے میں یوتھ فورم فار کشمیر کا بڑا کام ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کراچی، بھی وقفے وقفے سے کشمیر پر پروگرام کرتی ہے، کونسل کے چئیرمین جمشید حسین اس حوالے سے اتنے سرگرم ہیں کہ لگتا ہے انہوں نے اس کونسل کا قیام ہی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لئے عمل میں لایا۔ کونسل نے 5 اگست کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ایڈمرل عارف اللہ حسینی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ افواج پاکستان کے سابق جنرل نے عوامی جلسہ سے خطاب کے دوران کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیری مجاہدین کو اسلحہ سمیت ہر طرح کی مدد کی جائے ۔ عارف اللہ حسینی کہہ رہے تھے چوں کہ بھارت نے تمام اخلاقیات اور انسانی حقوق کو پامال کر دیا ہے اس صورت میں ہم پر بین الاقوامی قانون یا اصول کی پابندی نہیں ہونا چاہئے۔ یہ مناسب نہیں کہ بھارت نہتے لوگوں کو قتل کرتا رہے

اور ہم انتظار کرتے رہیں ۔ آج کا وقت جیسا سوال ایسا ہی جواب دینے کا ہے مصلحتوں کا نہیں، خطہ میں خصوصا کشمیر میں جو ظلم بھارت کر رہا ہے اس کو اسی انداز میں جواب کی ضرورت ہے ورنا وہ نہیں رکے گا ۔کونسل نے 14 اگست کو ایک مقامی کلب میں سیمینار اور 15 اگست کو کراچی پریس کلب کے باہر اسٹیج پلے کیا جس میں مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں پر ہونے والے مظالم کی عکاسی کی گئی ۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے کشمیر کی صورت حال پر روشنی بھی ڈالی اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔کراچی میں کشمیریوں کی ہر وہ سیاسی تنظیم موجود ہے جو پاکستان میں ہے ۔خصوصا تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی کشمیر چپٹر کی تنظیموں سمیت لبریشن فرنٹ کی آرگنائزیشن زیادہ سرگرم ہیں اور کشمیر کے قومی دنوں پر اپنے اپنے پروگرام منعقد کرتی ہیں مگر حال ہی میں قائم ہونے والی این جی او "کشمیر کمیونٹی انٹرنیشنل ” نے قومی ایام میں مشترکہ پروگرام کی روایت ڈالی ہے اور کافی حد تک لوگ سیاسی وابستگی سے ہٹ کر اس این جی او کے بینر تلے ہونے والے پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں ۔ یہ تنظیم کرونا کے دوران اچانک سامنے آئی اور لوگوں میں راشن تقسیم کرنا شروع کردیا ۔ اس سے کراچی میں مقیم کشمیریوں کا اس پر اعتماد ہوا کہ سیاست سے ہٹ کر بھی کوئی کام کرنے والا سامنے آیا ۔بعد ازاں اس تنظیم نے قومی ایام میں پروگرام اور مظاہرے شروع کئے۔ 5 اگست کو کراچی پرس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور 15 اگست کو بلدیہ ٹاون کی شاھراہ علی 24 مارکیٹ میں احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا گیا ۔ بلدیہ ٹاون شہر کے ایک کونے پر واقع ہے اور ہر حصے سے وہاں پہنچنا مشکل اور دشوار ہے،

اس کے باوجود حاضری کے اعتبار سے کامیاب جلسہ تھا۔ سندھ حکومت میں بااثر اور کشمیریوں کے نوجوان رہنما سردار نزاکت خان نے اس کوشش کی تعریف کی اور کہا کہ سماجی پلیٹ فارم سے کشمیر کاز کو فروغ دیا جائے تمام سیاسی کارکنوں کو ایک مقصد کے لیے اس پلیٹ فارم پر یکجا ہونا چاہیے میں اس کے لیے تیار ہوں ۔ اس نئی تنظیم کے قائد سردار آصف حسین سدوزئی کا کہنا ہے کہ ان کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں اور نہ اس پلیٹ فارم کو سیاست کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔ اگر مستقبل میں آصف سدوزئی اس پر قائم رہتے ہیں تو کشمیر کے قومی ایشوز پر یہاں کشمیریوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کے لیے یہ اچھا اقدام ہو گا۔15 اگست کو یوم سیاہ کا تصور یہ ہے کہ ایک دن قبل 14 اگست کو پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے طور پر جشن آزادی اور ایک دن بعد بھارت کے یوم آزادی کےموقع پر نفرت کے طور پر یوم سیاہ منایا جاتا ہے۔ایسا کرنے کا اعلان سری نگر سے حریت کانفرنس نے کیا تھا۔ وہ اس لئے کہ 15 اگست کو سری نگر میں سرکاری طور پر بھارت کے جھنڈے کی کشائی کی جاتی ہے ۔ سرکار کے اس اقدام کی مذمت کے طور پر حریت کانفرنس نے بلیک ڈے منانے کا اعلان کیا تو آزاد کشمیر پاکستان اور دنیا بھر میں حریت کانفرنس کے ساتھ یکجہتی کے طور پر یہ دن منایا جاتا ہے۔ حقیقت میں 15 اگست جموں کشمیر کے عوام کے لئے یوم نجات ہے۔ اس دن 1947 میں بھارت کو آزادی ملی ۔ کشمیریوں نے راولاکوٹ کے مقام ” سیاسی ٹیکری ” پر اعلان بغاوت کر کے ڈوگرہ کی غلامی سے نجات اور آزادی کی تحریک کا اعلان کیا تھا کہ جب تک ریاست جموں و کشمیر پاکستان میں شامل نہیں ہوتی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ بھارت نے ڈوگرہ کے ساتھ غیر قانونی معائدہ کر کے کشمیر پر قبضہ کر لیا اور کشمیریوں کی جدوجہد جو ڈوگرہ حکومت کے خلاف شروع ہوئی تھی قابض بھارت کے خلاف ہو گئی چناں چہ کشمیری منزل کی حصول کے لیے ابھی بھی جدوجہد میں ہیں ۔ مجاہدین کے اس اعلان کی روشنی میں 24 اکتوبر 1947ء کو آزاد کشمیر کی انقلابی حکومت کا اعلان اور سردار محمد ابراہیم خان پہلے صدر مقرر ہوئے۔ آج 74 سال مکمل ہونے پر بھی اسی جذبے اور ولولے سے آزادی کی تحریک جاری ہے ۔

ان 74 سال کے دوران 7 لاکھ مسلمان شہید ہو گئے اور تحریک اب چوتھی نسل تک منتقل ہو رہی ہے ۔ 1947ء میں جب راولاکوٹ کی سیاسی ٹیکری سے مجاہدین نے بغاوت کا اعلان اور مسلحہ جدوجہد شروع کی تو مجاہدین کی مذاہمتی تحریک کی پشت پر نوجوان بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں ایک مضبوط اور متحرک سیاسی قیادت اور تحریک موجود تھی جس نے نہ صرف پاکستانی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مسلحہ جدوجہد کے اپنے اس حق آزادی کو تسلیم کرانے کی بھر پور کوشش کی ۔ انقلابی حکومت کا قیام بھی سیاسی تحریک کے مرکز کے طور پر ہوا تھا تاکہ مذاہمتی تحریک کے پشت بان کو قانونی، اور انتظامی اختیارات حاصل ہوں۔سری نگر اور جموں میں بھی سول آبادی نے آزادی کی تحریک کو بھر پور طریقے سے شروع کیا مگر بدقسمتی سے ان علاقوں کی عوام کی رہنمائی کرنے کے لئے کوئی لیڈر موجود نہیں تھا اور لوگ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ کیا کریں ۔ ان کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا کہ وہ جہاد شروع کر دیں اور نہ کوئی آسرا تھا کہ جدوجہد شروع کریں تو کیسے ۔ جموں کی لیڈر چوہدری غلام عباس سمیت سارے جیل میں تھے اور سری نگر، شیخ عبداللہ کی قیادت میں اس کے فیصلے کے انتظار میں تھا جو لوگوں کو خاموش اور اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی تلقین کر رہا تھا جب کہ شیخ عبداللہ نے پونچھ سے شروع ہونے والی تحریک کی بھی مخالفت کی ۔ فوری طور پر نیشنل کانفرنس کا سری نگر میں ہیڈ کوارٹر قائم کر دیا گیا

جہاں اوباش اور بدمعاشوں کو تنخواہ پر بھرتی شروع ہوئی جن میں ہندو کثیر تعداد میں شامل تھے۔ ان کو نیشنل کانفرنس کا کارکن ظاہر کر گے مسلح کیا گیا اور سارے جموں و کشمیر میں پھیلا دیا ۔ آزادی اور پاکستان کا نام لینے والوں کو جن جن کر مارا گیا یا پاکستان دھکیل دیا گیا ۔ کشمیر کے روحانی رہنما میر واعظ یوسف شاہ جیسے لوگوں کو سری نگر میں اباواجداد کی گدی چھوڑ کر مظفرآباد آنا پڑھا ۔ شیخ عبداللہ نے قوم کو ورغلایا کہ ریاست خودمختار ہو گی ۔بھارت کی فورسز کو عارضی اور پونچھ کے مجاہدین کی یلغار کو روکنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ جیسے ہی امن قائم ہو گا کشمیر میں رائے شماری کے ذریعے خود مختاری حاصل کر لی جائے گی ۔ ممکن ہے شیخ عبداللہ اپنے قول میں سچے اور مخلص ہوئے ہوں مگر 1953 میں جب بطور وزیراعظم کشمیر اپنے خاندان کے ساتھ گلمارک کے ریسٹ ہاوس میں قیام پذیر تھے تو صبح 4 بجے انہی کی ریاست کی پولیس کا ایک ملازم انہیں نید سے جگا کر وارنٹ گرفتاری دیکھتا ہے اور پولیس جیپ کے طرف اشارہ کرتا ہے تو دریا جہلم کا پانی بحر ہند تک پہنچ چکا تھا اور شیخ عبداللہ کے ہاتھ میں اب کچھ نہیں تھا۔ کل شام پولیس اسکورٹی میں ریسٹ آنے والے شیخ عبداللہ کو آج صبح وہی پولیس والا بڑی منت سماجت سے نماز ادا کرنے اور کپڑے بیک میں ڈالنے کی اجازت دیتا ہے ۔ شیخ صاحب سمجھ گئے تھے کہ "گیم آوور” ہو چکا مگر سردار محمد ابراہیم خان کا گیم یہاں سے شروع ہوتا ہے ۔

یہی سیاسی بصیرت ہے اور یہی قیادت کا بروقت درست فیصلہ ہے۔ شیخ عبداللہ کو 21 سال جیل میں رہنے کے بعد بھی کچھ نہ ہوا بلکہ بخشی غلام محمد کی صورت میں بھارت کو اچھا اور فرماں بردارشیخ عبداللہ مل گیا جس کی تربیت خود شیخ ہی نے کی تھی۔ بس یہی سیاسی قیادت کے امتحان کا وقت ہوتا ہے ۔ سردار ابراہیم خاں اور پونچھ کے مجاہدین کو صرف یہ کریڈٹ نہیں جاتا کے انہوں نے 15 اگست کو بغاوت کر کے آزاد کشمیر آزاد کرا لیا بلکہ سیاسی ٹیکری کا اعلان مسئلہ کشمیر اور اس مقدمے کو زندہ رکھنے کا سنگ میل ہے ورنہ حیدرآباد، اور جونا گڑھ کی طرح کشمیر کو بھی لوگ بھول چکے ہوتے ۔ کشمیر میں اگر آج لوگ کھڑے ہیں تو سردار محمد ابراہیم خان کی سیاسی تحریک اور مجاہدین پونچھ کے اس اعلان بغاوت سے جو 15 اگست 1947 کو راولاکوٹ کی سیاسی ٹیکری سے کیا گیا ورنہ شیخ عبداللہ کی سیاست بصیرت کا نتیجہ ہے کہ سری نگر ایک سال سے کرفیو میں اور کشمیر کے عوام مظالم برداشت کر رہے ہیں ۔لہذا اس دن کے لئے یوم سیاہ کے بجائے یوم نجات کا نام زیادہ مناسب ہے ۔ اس دن غلامی سے نجات کا اعلان ہوا ۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے