اسرائیلی، سعودی ’سلیکان وادی‘ سےدونوں ملک فائدہ اٹھاسکتے ہیں!

تحریر؛ نیف شاخر

ہر بحران کی طرح کووِڈ-19 بھی بڑا موقع لایا ہے۔اسرائیل کی ٹیکنالوجی کمپنیاں خلیج تعاون کونسل( جی سی سی) کے چھے رکن ممالک کی نئی مارکیٹوں میں داخل ہوسکتی ہیں اور وہاں موجود بے پایاں مواقع سے اٹھا سکتی ہیں، وہ اپنی اسٹیٹ آف دا آرٹ ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاسکتی ہیں اور خطے میں مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہیں۔میں ایک ایسے مستقبل کی پیشین گوئی کرسکتا ہوں جو جی سی سی کے ممالک کے درمیان ایک مشترکہ ہائی ٹیک ایکو سسٹم کی تخلیق پر مشتمل ہے اور یہ ’’سلیکان وادی‘‘ کے نام سے معروف ہے۔اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ ، یہ اسرائیل اور جی سی سی کے بہترین مفاد میں ہے کہ وہ اپنے درمیان کاروباری تعاون میں اضافہ کریں۔

ماہرین ابھی تک کووِڈ-19 کے جاری اثرات کے بارے میں پیشین گوئیاں کررہے ہیں اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ اسرائیل میں ہائی ٹیک انڈسٹری کو امریکا ، یورپی یونین اور چین کی جانب سے سرمایہ کاری کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔عالمی سرمایہ کاری ان کمپنیوں کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے جو موجودہ صورت حال میں دوبارہ پٹڑی پر چڑھنے کے لیے کوشاں ہیں۔امریکی مارکیٹ کی ناموافق صورت حال اور خطے میں چین کے اثرات کو کم کرنے کے لیے امریکی دباؤ کے پیش نظر اسرائیل کی ہائی ٹیک کمپنیاں متبادل کی تلاش میں ہیں جبکہ جی سی سی کے ممالک سرمایہ کاری کے اعلیٰ معیاری مواقع کی تلاش میں ہیں۔
اشیاء

اسرائیل کی ہائی ٹیک صنعت مختلف شعبوں میں بہت کچھ پیش کش کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔ان میں سائبر سکیورٹی ،ایگری ٹیک ،فن ٹیک ،ڈیجیٹل ہیلتھ ،واٹر ٹیک ، فوڈ ٹیک ، آئی او ٹی اور کلاؤڈ سے متعلق ٹیکنالوجی شامل ہے۔

کووِڈ-19 کے بحران سے پہلے کے سال میں بلاشبہ دنیا کی مارکیٹ کی نمو میں ایک طرح سے نئی شروعات ہوئی تھیں۔اسرائیل میں اس ایک سال میں بڑی تعداد میں کمپنیوں کا انخلا ہوا۔مجموعی طور پر 138 کمپنیوں نے کاروبار سمیٹا۔ان میں 122 کمپنیاں دوسری کمپنیوں میں ضم یا مدغم ہوگئی تھیں اور باقی نے پہلی مرتبہ اپنے حصص مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیے تھے۔اس طرح 2019 میں ترسیلاتِ زر کی کل مالیت 21 ارب 70 کروڑ ڈالر رہی تھی۔

ایک حوصلہ افزا بات یہ ہوئی تھی کہ فروخت سے قبل ان کمپنیوں کی شرح نمو میں اضافہ ہوا تھا اور یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ کاروبار کو ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ فروغ ملتا ہے۔یہ اسرائیل کی ہائی ٹیک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے بھی بڑا اچھا سال ثابت ہوا تھا۔ان میں سے بعض نے تو اپنے ابتدائی سرمائے سے تین گنا زیادہ منافع کمایا تھا۔

اگر 2019ء میں اسرائیل کی ہائی ٹیک صنعت میں آنے والی رقوم پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے 80 فی صد رقوم امریکا سے آئی تھیں۔باقی 20 فی صد جرمنی ، کینیڈا اور چین نے سرمایہ کاری کی تھی لیکن جی سی سی کے ممالک کی جانب سے ایک فی صد رقم کی بھی اسرائیل میں سرمایہ کاری نہیں کی گئی تھی۔مزید برآں اسرائیل کی ہائی ٹیک کی کوئی بھی بڑی کمپنی جی سی سی کے کسی بھی رکن ملک کے ساتھ کوئی نمایاں کاروبار نہیں کررہی ہے حالانکہ وہ محل وقوع کے اعتبار سے قریب واقع ہونے ، مارکیٹ کے حجم اور ترقی کے مواقع کے لحاظ سب سے بہتر انتخاب ہوسکتے ہیں۔
مارکیٹ

الریاض شہر کے لیے بھی 2019ء کا سال بہترین ثابت ہوا تھا۔سعودی عرب کا اقتصادی اصلاحات کا منصوبہ ویژن2030 اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔خطہ تبدیل ہورہا ہے اور سعودی عرب اور دبئی میں نئے مواقع ، نئے رجحانات سامنے آرہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ترقی ہورہی ہے۔

ان اصلاحات کا مقصد سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانا اور تیل اور گیس کی آمدن پر انحصار کے بجائے کاروبار کے دوسرے مواقع پیدا کرنا ہے۔اس مقصد اور ضروری معاونت کے حصول کے لیے مملکت کو روزمرہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو ازسرِنو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس رجحان سے خطے میں بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال نیوم شہر کا ویژن ہے۔سعودی عرب میں 500 ارب ڈالر کی لاگت سے ’’مستقبل کا یہ شہر‘‘تعمیر کیا جارہا ہے۔یہ کاروبار اور جدت کا حسین امتزاج ہوگا۔اس شہر کو ماحول اور پائیداری ،توانائی ، پانی ، ٹرانسپورٹیشن ،ثقافت اور دوسرے شعبوں میں تخلیقی سوچ اور جدید ٹیکنالوجیوں کے امتزاج کے ساتھ تعمیر کیا جائے گا۔ یہ شہر پائیدار ہوگا اور حکومت کے فریم ورک سے آزاد رہ کر اپنا نظم ونسق چلائے گا۔اس کے اپنے ٹیکس اور لیبر قوانین ہوں گے اور خود مختار عدالتی نظام ہوگا۔
چیلنج

اسرائیل میں عرب ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کے فقدان اور جی سی سی ممالک میں اسرائیل کی ہائی ٹیک عدم شمولیت کا بڑا سبب عرب، اسرائیل تنازع کی باڑھ ہے لیکن شاید یہ ایک بہت سادہ وضاحت ہو۔گذشتہ بیس سال کے دوران میں اسرائیل اور جی سی سی کے رکن ممالک غیر سرکاری طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کررہے ہیں۔ وہ صرف سکیورٹی سے متعلق ہی کاروبار نہیں کررہے ہیں بلکہ آب پاشی ، انفرااسٹرکچر اور پلاسٹک اور پانی کی منصوبہ بندی کے مختلف منصوبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔اب مشرقِ اوسط میں رونما ہونے والی جغرافیائی ،سیاسی تبدیلیاں اورخلیجی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی نئے کاروباری تعلقات استوار کرنے کے لیے بھی ایک پُل کا کام دے رہی ہیں۔

جی سی سی کی اسرائیل میں محدود سرمایہ کاری کی ایک اور یہ وضاحت کی جاسکتی ہے اور وہ ’’سرمائے کے تحفظ ‘‘کا تصور ہے۔یہ عرب دنیا کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کا ایک خاصہ قراردیا جاسکتا ہے۔ 2019ء میں سعودی عرب نے سوفٹ بنک ویژن فنڈ میں سرمایہ کاری کی تھی اور وہ متحدہ عرب امارات (42 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) اور مصر( ساڑھے نو کروڑ ڈالر) کے بعد بیرون سے فنڈز حاصل کرنے والا تیسرا ملک تھا۔اس کے بعد اردن (چار کروڑ 10 ڈالر)،لبنان (دوکروڑ 90 لاکھ ڈالر) ، کویت (دو کروڑ 10 لاکھ ڈالر)، بحرین (60 لاکھ ڈالر) اور عُمان (60 لاکھ ڈالر) کا نمبر آتا ہے۔اس خطے کے ممالک کی جانب سے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کا حجم ان کی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے۔

تاہم جی سی سی سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کی جانب سے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے رجحان میں واضح اضافہ دیکھنے میں نظرآتا ہے۔اس کی ایک مثال تو سعودی عرب کا سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ( پی آئی ایف) ہے۔یہ تنظیم سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عمل درآمد کے بڑے مضبوط ریکارڈ کی حامل ہے۔ سعودی عرب کی مانیٹری ایجنسی (بنک دولت)نے اپریل 2020ء میں اس کو 40 ارب ڈالر نقدی کی صورت میں مہیا کیے تھے۔اس سے اس فنڈ کے اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے امکانات کو تقویت ملے گی۔

عرب دنیا میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہورہا ہے۔انٹرنیٹ سے کونیکٹ کرنےکے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔بالخصوص جی سی سی میں ظہور پذیر ہوتی مارکیٹوں میں تو بالکل نہیں۔انٹرنیٹ کے قریباً 70 فی صد صارفین کا تعلق ظہور پذیر مارکیٹوں سے ہے۔10 سال قبل یہ صرف 30 فی صد تھے۔ٹیکنالوجی کے کسی بھی مظہر کی طرح انٹرنیٹ اپنے پیمانے اور رفتار کی بدولت جی سی سی سے تعلق رکھنے والے صارفین کے لیے عالمی مواقع پیش کرتا ہے اور وہ ان سے فائدہ اٹھانے اور فوری طور پر اختیار کرنے میں پرجوش واقع ہوئے ہیں۔

عرب دنیا میں یوٹیوب اور فیس بُک پر آن لائن ویڈیو دیکھنے کی فی کس شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ ویڈیو کھپت کی یہ فی کس شرح دنیا کی اوسط سے دُگنا سے بھی زیادہ ہے۔اس خطے میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسمارٹ فون استعمال کیے جاتے ہیں، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز بہ شمول ٹویٹر ، سنیپ چیٹ ، فیس بُک اور انسٹاگرام کو استعمال کرنے کی شرح بھی بہت بلند ہے۔ جی سی سی کے ممالک میں 70 فی صد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے اور یہ نوجوان طبقہ ہائپر سوشل اور ڈیجیٹل ہے۔

اسرائیل کے کاروباری جب اپنی کمپنیوں کے لیے ممکنہ مارکیٹوں پر غور کررہے ہوتے ہیں تو وہ جی سی سی کے خطے کو نظرانداز کردیتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہر مارکیٹ کی اپنی ایک منفرد زبان اور روایات ہوتی ہیں اور اگر مناسب آلات اور حربوں سے ثقافتی خلیج کو پاٹ دیا جائے تو یہ تجارت بہت زیادہ منفعت بخش ثابت ہوسکتی ہے۔
مستقبل

اس مرحلے پر کرونا وائرس کے طویل المیعاد اقتصادی مضمرات کے بارے میں کوئی پیشین گوئی کرنا مشکل ہے۔گذشتہ بحران میں کاروباری سرمایہ کاری نے تھوڑی تاخیر سے نسدق کے اشاریے کی پیروی کی تھی۔اب یہ تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں کہ ہم کیسے کاروباری سودے طے کرتے ہیں اور مذکورہ شعبوں میں مصنوعات کی خرید وفروخت کرتے ہیں لیکن خطے میں مثبت تعاون سب کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

ہمارے اس خطے کے لیے میں جس ویژن کی پیشین گوئی کررہا ہوں، وہ جی سی سی محوری ہائی ٹیک ایکو سسٹمز کی تشکیل ہے اور یہ نئی ’’سلیکان وادی‘‘ کی تخلیق ہے۔2015ء میں سعودی عرب کی آبادی کی اوسط عمر 30 سال تھی جبکہ یواے ای میں یہ عمر 34۰5 سال تھی۔یہ دونوں اعداد اس امر کے غماز ہیں کہ ان ممالک میں نوجوان نسل کی اکثریت ہے۔یہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کے لیے بہت اہم کردار ادا کرے گی۔اس خطے کو امید پر مبنی ترقی کے لیے ایک صحت مند معیشت اور ٹھوس بنیاد پر نئے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔آبادی اور معیشت کے یہ موجودہ رجحانات سعودی معیشت کو متنوع اور مضبوط بنانے کے لیے ویژن 2030 کی حکمت عملی میں اہم محرک رہے ہیں۔

یہ حکمتِ عملی جدت پسندی کے ایک خوش نما پروگرام پر مشتمل ہے۔اس کے تحت سعودی عرب میں صرف آیندہ دو سال میں تحقیق اور ترقی پر ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس رقم میں سے ساڑھے سات کروڑ ڈالر بین الاقوامی شراکت داری کی معاونت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔اس میکانزم کے تحت ملک میں اعلیٰ تعلیم پر نمایاں تغیّراتی اثرات مرتب ہوں گے۔رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے دفتر برائے تحقیق وترقی نے بین الاقومی سطح پر تحقیق میں تعاون کے لیے چھے ترجیحی شعبوں کا انتخاب کیا ہے۔ ان میں پانی ، توانائی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، پیٹرو کیمیکلز، حیاتیاتی علوم اور صحت اور ماحول شامل ہیں۔

اسرائیل یہ بات سمجھتا ہے کہ جدت طرازی ، تخلیق اور ہائی ٹیک پرائیویٹ انڈسٹری کی مستحکم معاشیات ایسے ایکو سسٹم میں پھلتی پھولتی ہے جس میں بہت سی کمپنیاں شریک کار ہوں اور جو انھیں غیر سرکاری طور پر باہمی ربط وتعامل کے مواقع مہیا کرے۔ایسے ایکو سسٹمز تخلیقیت کو تقویت بہم پہنچاتے ہیں اور یہی اس شعبے کی اساس ہے۔

’’سلیکان وادی‘‘ کی اہمیت کو سب سے پہلے وائرڈ میگزین نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا تھا۔اس نے سنہ 2000ء میں کلسٹر اثرات کی مضبوطی کی بنا پر مقامات کی درجہ بندی کی تھی۔اس نے اسرائیل کے ہائی ٹیک کلسٹر کو بوسٹن ، ہلسنکی ، لندن اور کسٹا(سویڈن)کے درجے میں شمار کیا تھا اور یہ سلیکان ویلی سے دوسرے نمبر پر تھا۔یہ اسرائیل کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنے کی سب سے زرخیز زمینیں تھیں۔

یہ تمام ایکو سسٹمز اسرائیل بھر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ان میں ہرزلیہ پیٹوش ، رامات ہچایال، رعنانا ، نیس زیونا اور یوک نیم وغیرہ شامل ہیں۔اس ماڈل کو اگر جی سی سی کے ڈیمو گرافکس اور محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے ویژن 2030ء کے مطابق اختیار کیا جاتا ہے تو یہ ہمارے خطے کے لیے تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔

ہمارے لیے اپنے ہی ہمسائے میں کاروبار کرنے کا یہ درست وقت اور موقع ہے۔اسرائیلی کمپنیوں کو جی سی سی کی مارکیٹوں میں مواقع تلاش کرنے چاہییں اور جی سی سی کے سرمایہ کاروں کو اسرائیلی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ابتدا میں یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا لیکن جب ہم جی سی سی کے ممالک میں مقامی فروخت کنندگان کے ساتھ شراکت داری اور سرمایہ کاری کی سازگار اور موافق مثالیں ملاحظہ کریں گے تو اس تعاون کو معمول کا کاروبار سمجھا جائے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے