پہاڑی لوگوں کی گڑبڑ ۔۔ سیاسی ٹیکری اور مینار کشمیر۔۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی

بلاشبہ 1947 سے پہلے اور بعد کشمیر میں عوامی حقوق اور سیاسی خود مختاری کی تحریک کو تفصیل سے سمجھنے کے لئے شیخ عبدللہ کی آتش چنار اچھی اور معلوماتی دستاویز ہے۔ جس میں انہوں نے بڑی محبت اور تشکر کے ساتھ بیگم اکبر جہاں کی ہمت کو سرہا ۔وہ سخت گیر قوم پرست کشمیری سیاست دان تھی۔ انہوں نے دو مرتبہ سری نگر اور اننت ناگ کے حلقوں سے عام انتخابات جیت کر لوگ سبھا میں کشمیری عوام کی نمائندگی کی. کشمیری قوم پرستی، سرکاری فرائض کی انجام دہی اور سیاسی مخالفین کا سامنا کرنے کے دوران بیگم اکبر جہاں کبھی دباؤ میں آئیں نہ جھکیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے شوہر شیخ عبداللہ کو بروقت مشاورت اور سہارا دیا اور کہا کہ نہرو کی دوستی میں آ کر خود کشمیر میں اپنی ساکھ کمزور نہ کریں۔ وہ الحاق کی سخت مخالف تھی اس کی سوچ میں وہ اور ان کے شوہر جو سیاست کر رہے تھے وہ کشمیر کی خودمختاری اور شناخت کو زندہ رکھنے کا راستہ تھا۔۔1947 کو آزاد کشمیر میں آزادی کی تحریک اور مسلحہ جدوجہد کو وہ پہاڑی لوگوں کی گڑبڑ کہتی تھی۔ ایک مرتبہ لوگ سبھا کے اجلاس کے بعد سری نگر پہنچنے پر اخباری نمائندوں کے سوال کے جواب میں بیگم اکبر جہاں نے کہا کہ ” کشمیریوں نے 1947 میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پہاڑی لوگوں نے گڑبڑ کر لی جس کی وجہ سے ریاست کا کچھ ناہموار علاقہ پاکستان کے قبضے میں چلا گیا”۔ صرف چند سال بعد ہی اس سیاسی مدبر خاتون کو پہاڑی لوگوں کی گڑبڑ کا فیصلہ درست اور بروقت لگا جب شیخ عبدللہ کو وزارت عظمی سے ہٹا کر جیل میں ڈالا گیا ۔ اس وقت بیگم صاحبہ اور کشمیر کے عوام نے خود کو ایک نئے سفر کا مسافر اور تنہاہ محسوس کیا۔ مگر وہ ایسی بند گلی میں داخل ہو چکے تھے کہ جہاں واپسی راستہ بند ہو گیا تھا ۔انہیں یہ بھی محسوس ہو چکا تھا کہ ان سے سیاسی غلطی اور بھول ہوئی جس کی سزا آئندہ نسلوں کو بھی بھگتنا پڑھے گی۔ یہ انہی مدبر اور قد آور سیاسی شخصیات کی سیاسی غلطی ہے جو 7 لاکھ لوگوں کی شہادت کے بعد بھی کشمیر میں ایک سال سے کرفیو نافذ ہے ۔ شیخ صاحب خود فرماتے ہیں کہ انہیں احساس ہوا کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو نظر انداز اورغیر قانونی طور پر کشمیر کو انڈیا کے ساتھ ملانے کی سازش ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھائی جسے ناپسندیدگی سے دیکھا گیا۔اس وقت شیخ صاحب اور بیگم صاحبہ کو سمجھ آئی کہ جن کلچرڈ اور تعلیم یافتہ لوگوں نے ان کے نظریات سے اتفاق کیا تھا اور ساتھ نبھانے کی قسم اٹھائی تھی انہوں نے ہی ان کو دغا دیا اور وہ پہاڑی لوگ جو نان کلچرڈ مگر قیادت سنجیدہ اور معاملہ فہم تھی نے ان کی سیاسی سوچ سے اختلاف کیا تھا ان کا فیصلہ بروقت اور درست تھا۔ شائد قارئین یہ محسوس کریں کہ اس وقت راولاکوٹ کی سیاسی ٹیکری کا تذکرہ بیگم اکبرجہاں کی سرگزشت حیات ترتیب دینے میں اہمیت نہیں رکھتا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ نقطہء نظر جس کو عرصہ دراز سے نظر انداز کیا گیا سامنے لایا جائے۔ 1947ء کی تحریک آزادی کے سیاسی اور تاریخی واقعات کچھ سازشوں اور کچھ اپنوں کی نالائقیوں کی وجہ سے وقت کی گرد میں دب کر رہ گئے۔ اس سے جعلی قائدین اور مفاد پرستوں نے خوب فائدہ اٹھایا ۔بعقول منظر بھوپالی

بیڑ بنے خاموش کھڑے ہیں کیسے کیسے لوگ۔
اور سر چڑھ کر بول رہے ہیں پودے جیسے لوگ۔

گنتی کےچند اسکالرز کو چھوڑ کر لکھنے والوں نے لکھانے والوں سے مال و داد کمائی اور درست تاریخ عام لوگوں تک نہیں پہنچ سکی۔ یہ سکالرز جو غیر جانبدار بھی تھے اور با کردار بھی کی تحقیق میں،1947 میں راولاکوٹ کی سیاسی ٹیکری کے علان بغاوت کے بارے میں مزید کھوج کی ضرورت ہے، تاکہ تحریک آزادی کشمیر آج جس فیصلہ کن موڑ پر ہے اس کے 73 سالہ سفر کے نشیب و فراز اور مدوجزر سے نوجوان نسل کو آگائی ہو سکے۔ کشمیر میں جمہوریت کی تباہی اور عوامی طاقت ،جس کو صدیوں کی کاوش سے حاصل کیا گیا تھا، کی تنزلی کا لمحہ اکبر جہاں اور ان کے بچوں کی زندگی میں ایک اہمیت کا حامل ہے۔ تاریخ نے خود فیصلہ کر لیا کہ اپریل 1947کو راولاکوٹ میں مولوی محمد اقبال کے گھر پر ہونے والی مشاورت کی روشنی میں 19جولائی کو نوجوان رہنماء سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ سری نگر میں پاس ہونے والی قرارداد پر عمل درآمد کے لئے راولاکوٹ کی سیاسی ٹیکری سے 15/ اگست کو ڈوگرہ کے خلاف اعلان بغاوت کا فیصلہ 27/ اکتوبر جموں میں ہونے والے عارضی الحاق کے فیصلہ سے زیادہ بہتر بروقت اور کشمیریوں کے مستقبل کے لئے درست تھا ۔ آج اگر شیخ عبداللہ اور بیگم اکبر جہاں کا پوتا عمر عبداللہ یہ اعلان کرتا ہے کہ 370اور 35 اے کی بحالی کے بغیر انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔ سری نگر کے چوک میں نوجوان یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ” ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہمارا ہے ” تو پس منظر میں سیاسی ٹیکری کا وہ اعلان بغاوت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جدوجہد سے قائم ہونے والا آزاد کشمیر حکومت کا وجود ہے۔ جس نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔کشمیر کے عوام کی رہنمائی کا فریضہ ہو یا ڈوگرہ کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک، سیاسی و جمہوری حقوق کی بالادستی، پونچھ کے عوام خصوصا سدھن قبیلے کے سیاسی و عسکری قیادت نے ہر دور میں رہنمائی کی۔۔راولاکوٹ کی سیاسی ٹیکری جموں کشمیر کی تاریخ میں وہ نمایاں مقام ہے جہاں 15 اگست 1947کو خطہ کے زعماء نے ڈوگرہ حکمران کو کرنل رام لال کمانڈر 9 جموں انفنٹری بٹالین کی موجودگی میں للکارا۔ نیشنل مسلم گارڈ کے کمانڈر کیپٹن محمد اشرف خان نے مسلح جدوجہد کا اعلان کیا اور دفعہ 144 کے دوران 50 ہزار افراد کی موجودگی میں ہتھیاروں کی نمائش کی۔ برٹش آرمی سے ریٹائرڈ 30000 فوجیوں سے جہاد کا حلف لیا۔ سیاسی ٹیکری کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ کشمیر کے بڑے قائدین، چوہدری غلام عباس،چوہدری حمیداللہ، راجہ حیدر خان، اے آر ساغر ، راجہ اکبر اور سردار محمد ابراہیم خان نے یہاں بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ اس لحاظ سے سیاسی ٹیکری جیسے راجہ حیدر خان نے دارالجہاد کا نام دیا تھا کشمیر کی تحریک آزادی کا نقطہ آغاز اور قومی نشانی ہے جہاں ابتداء ہی میں قومی یاد گار تعمیر ہونا تاریخی ضرورت تھی، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ہمارے سیاسی رہنما جو اس جگہ اور اس سے وابستہ یادوں کے آمین تھے مصلحتوں کے باعث خاموش ہو گئے۔ آزاد کشمیر کی خالق جماعت مسلم کانفرنس شرکت غیرے کئی سال تک آزاد کشمیر کے وسائل پر قابض رہی اور ذمہ دار لوگ اس خوف میں کہ قیادت ناراض ہو کر سیاسی بے روزگار نہ کر لے تاریخ کے درست باب پر بولنے سے گھبراتے رہے اور ان کی خاموشی میں تاریخ تبدیل ہوتی رہی۔ 1994ء میں اس وقت کے چئیرمین پی ڈی اے عبدالخالق ایڈووکیٹ کی دعوت پر صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ راولاکوٹ جانا ہوا تو اسٹیٹ گیسٹ ہاوس میں منعقد استقبالیہ پروگرام میں پہلی مرتبہ سیاسی ٹیکری کا نام سن کر تجسس ہوا، اور خیال آیا کہ ٹیکری چوں کہ بلند جگہ کا نام ہے یقینا یہ دھرمسال کے مندر کی جگہ بلند پہاڑی ہی کا نام ہو گا ۔۔ دوسرے دن درجنوں پڑھے لکھے لوگوں سے معلوم کیا مگر راولاکوٹ کے مقامی جن کے اباواجداد نے اس مقام سے کشمیر کی آزادی کی تحریک شروع کی جانتے تک نہیں تھے ۔۔ مجھے سیاسی ٹیکری کی تلاش میں دوسری مرتبہ راولاکوٹ جانا ہوا تو تین دن جدوجہد کے بعد وہ مقام مل تو گیا مگر دیکھنے سے نہ دیکھنا بہتر تھا۔ قبرستان روز بہ روز پھل رہا تھا۔ جو جگہ خالی تھی وہ ذبحہ خانہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی ۔سیاسی ٹیکری کا اس وقت کیا حال تھا اس کے لئے میری کتاب ” پونچھ جہاں سروں کی فصل کٹی، ” جو 1996ء میں شائع ہوئی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے اس کتاب میں راولاکوٹ کے بارے میں کچھ پیشن گوئی اور مشورے دئے گئے تھے آج 24 سال بعد خوشی ہو رہی ہے کہ ان پر عملدرآمد ہو رہا ہے جن میں سیاسی ٹیکری پر مینار کشمیر کی تعمیر سرفہرست تھی۔ میری طرح عبدالخالق ایڈووکیٹ کو بھی پیش کش تھی کہ سیاسی ٹیکری کے مردے کیس کو زندہ کرنے یا وزارت کے منافع بخش کاروبار میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں ۔ عبدالخالق ایڈووکیٹ نے سیاسی ٹیکری پر قومی یاد گار مینار کشمیر کی تعمیر کی ذمہ داری کا انتخاب کر کے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی ورنہ وزارت تو تھی ہی ۔ سیانے لوگ سمجھتے ہوں کہ سیاسی ٹیکری کے نمایاں ہونے سے کتنی دوکانیں بند ہو گئیں ۔اس نیک اور قومی کام میں عبدالخالق خان صاحب کو سابق صدر جنرل حیات خان، جنرل انور خان اور سابق چیف جسٹس سردار شریف خان کی بھر پور سرپرستی حاصل رہی ۔2 کنال 4 مرلے زمین خرید کر 5 کروڑ روپے تخمینی لاگت سے 15 اگست 2005 کو یادگار شہداء کمپلیکس کا کام شروع ہوا۔ اُسوقت کے صدر آزادکشمیر جنرل(ر) سردار محمد انورخان نے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ عبدالخالق خان ایڈووکیٹ کی 15 سال کی محنت سے یہ منصوبہ مکمل ہو چکا اور 15/ اگست 2020 کو اس کا باضابطہ افتتاح کیا جا رہا ہے ۔اس تاریخی کمپلیکس میں ایک لائبریری، میوزیم مینارکشمیر اور پارک شامل ہے۔اس موقع پر سردار عبدالخالق خان ایڈووکیٹ کے بارے میں ڈھیر ساری دعائیں کہ انہوں نے تن تنہا اس قومی یاد گار کو شروع کیا اور اس کو مکمل کر کے یہ ثابت کیا کہ جذبہ ہو تو کوئی کام مشکل نہیں، ان کو اس دوران کتنی مشکلات کا سامنا رہا کچھ کچھ مجھے بھی معلوم ہے مگر انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا مستحکم انداز میں لگے رہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ انہوں نے بھی صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کیا تھا ۔ سابق وزیروں کو تو لوگ جلد بھول جاتے ہیں اور زمین کے نیچے جانے کے بعد تو اپنے بھی بھول جاتے ہیں۔ عبدالخالق ایڈووکیٹ کا کام دنیا میں اس وقت تک باقی رہے گا جب تک یہ مینار کھڑا رہے گا۔ میری تجویز ہے کہ اس منصوبے پر عبدالخالق ایڈووکیٹ کے نام کی تختی لگنی چاہئے کہ آئندہ نسلیں یہ دیکھ سکیں کہ ہمارے بڑوں نے تاریخ بنائی اور ان کی دوسری نسل کے ایک فرزند نیک نے اس تاریخ اور قربانیوں کو محفوظ کیا ۔ ان صاحب بصیرت لوگوں کا بھی شکریہ جنہوں نے مالی یا اخلاقی طور پر تعاون کیا ۔

About BBC RECORD

Check Also

ہنڈراس اپنا سفارت خانہ بیت المقدس میں کھولے گا

Share this on WhatsAppہنڈراس کے صدر جووان اورلینڈو ہرنانڈیز کا کہنا ہے کہ ان کا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے