ایرانی وزارتوں، ایٹمی ایجنسی کے حکام سمیت کئی مبینہ جاسوس گرفتار

ایران میں حال ہی میں پانچ ایسے مشتبہ جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں خارجہ اور دفاع کی وزارتوں اور ملکی ایٹمی ایجنسی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ افراد مبینہ طور پر مغربی ممالک اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے تھے۔بیرونی ممالک کے لیے جاسوسی کرنے والے ان مشتبہ جاسوسوں کی گرفتاری کا اعلان تہران میں ملکی وزارت انصاف کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے منگل گیارہ اگست کے روز کیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ان پانچ میں سے دو ملزمان کو جرم ثابت ہو جانے پر دس دس سال قید کی سزائیں سنائی بھی جا چکی ہیں۔

ہالینڈ کی نوجوان خاتون ماتا ہری نے 1910ء کے عشرے میں پیرس میں ’برہنہ رقاصہ‘ کے طور پر کیریئر بنایا۔ ماتا ہری کی رسائی فرانسیسی معاشرے کی مقتدر شخصیات تک بھی تھی اور اس کے فوجی افسروں اور سایستدانوں کے ساتھ ’تعلقات‘ تھے۔ اسی بناء پر جرمن خفیہ ادارے نے اسے جاسوسہ بنایا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد فرانسیسی خفیہ ادارے نے بھی اسے اپنے لیے بطور جاسوسہ بھرتی کرنے کی کوشش کی۔ یہ پیشکش قبول کرنے پر وہ پکڑی گئی۔

اسماعیلی نے بتایا کہ جن دو افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں، ان میں سے ایک ایران آسٹریا فرینڈشپ سوسائٹی کا سیکرٹری جنرل مسعود مصاحب تھا، جس پر الزام تھا کہ وہ جرمن اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ان پانچ ملزمان میں سے ایک کا نام جمشید شرمحد بتایا گیا ہے، جو ایک ایرانی نژاد جرمن شہری ہے اور امریکا میں مقیم تھا۔ اس مبینہ جاسوس کی گرفتاری کی اسی مہینے کے اوائل میں ایرانی انٹیلیجنس ایجنسی نے بھی تصدیق کر دی تھی۔ جمشید شرمحد کے خلاف مقدمے میں متعلقہ ایرانی عدالت نے ابھی اپنا فیصلہ نہیں سنایا۔

جمشید شرمحد پر الزام ہے کہ وہ جنوبی ایران کے شہر شیراز کی ایک مسجد میں 2008ء میں ہونے والے ایک ہلاکت خیز حملے میں ملوث تھا۔ تہران حکومت کا شرمحد پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم تندر تحریک کا سربراہ ہے، جسے ایران ایک ‘دہشت گرد گروپ‘ قرار دیتا ہے۔ تندر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ‘مجلس بادشاہت ایران‘ نامی شاہ پرست گروپ کا عسکری بازو ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہی تندر اور ‘مجلس بادشاہت ایران‘ شیراز کی ایک مسجد میں تقریباﹰ بارہ سال قبل کیے گئے اس حملے میں ملوث تھے، جس میں 14 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ مجرم ثابت ہو جانے پر جمشید شرمحد کو سزائے موت کا حکم سنایا جا سکتا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے تمام مبینہ جاسوس ایرانی شہری ہیں۔ ان میں سے کا نام شہرام شیرخانی بتایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر برطانوی خفیہ ادارے کے لیے جاسوسی کرتا تھا۔ وزارت انصاف کے ترجمان کے مطابق شہرام شیرخانی نے چند دیگر ایرانی سرکاری اہلکاروں کو برطانوی انٹیلیجنس ایجنسی ‘ایم آئی سِکس‘ کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ شیرخانی نے ایرانی مرکزی بینک اور وزارت دفاع کی طرف سے کیے جانے والے معاہدوں سے متعلق حساس معلومات غیر ملکی خفیہ اداروں کو پہنچائی تھیں۔ شیرخانی کو بھی دس سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

گرفتار کیے گئے مبینہ جاسوس ایران کے ریاستی ڈھانچے میں کس قدر اہمیت کے حامل منصبوں پر فائر تھے، اس بارے میں وزارت انصاف کے ترجمان نے بتایا، ”ان پانچ مشتبہ جاسوسوں میں ملکی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے علاوہ ایران کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔‘

About BBC RECORD

Check Also

ایران نواز ملیشیاؤں کی تخریبی کارروائیاں عراق کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں : واشنگٹن

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خارجہ نے بغداد میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر پر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے