سعودی عرب کا معاملہ ۔ پریشانی کیا ہے ۔۔۔۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی

یہ معلومات اب پوشیدہ نہیں رہی کہ پاکستان کے جنم دن کے دوست سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات تاریخ کے ایک نئے موڑ پر پہنچ چکے، لگتا ہے کہ پاکستان اب اس راستے سے یو ٹرن لے رہا ہے جس پر لیاقت علی خان نے سفر شروع کیا تھا ۔ ایسا کرنا پاکستان کی مجبوری نہیں وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان محسوس کر رہا ہے کہ ایسی دوستی کا بھی کیا فائدہ خواہ کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو، جس میں عزت و احترام کے رشتے باقی نہ رہیں اور خود داری متاثر ہوتی ہو۔۔ بالکل صحیح کہا شاہ محمود قریشی صاحب نے ” دوست ساتھ دے یا نہ دے کشمیر کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ، اب فیصلہ کن معرکہ ہوگا۔ اس بیان کا مقصد بالکل واضح ہے کہ کوئی طاقت ور اور بااثر دوست پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ کشمیر کے پرانے اور دیرینہ موقف سے پیچھیں ہٹے۔ نریندر مودی بند گلی میں پھنس چکا اور اطلاعات ہیں کہ 15 اگست 2020ء یوم آزادی ہند کے موقع پر کشمیر کے حوالے سے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لینے کا اعلان کرنے پر سوچ بچار اور ساتھیوں سے مشاورت کر رہا ہے ۔۔ کیا ہمارے دوست اور امت مسلمہ کی قیادت کے دعویدار اس فیصلہ کن موڑ پر کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو بھول کر، بھارت کے ہندوں کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک، مسلمان بیٹی اور قرآن کی محقق ڈاکٹر آسیہ اندرابی اور علی گیلانی سمیت ہزاروں مسلم بچوں بچیوں کی عزت و عصمت کی کوئی حثیت نہیں، ہندوں بنیئے کے ساتھ سودی کاروبار کی بہت اہمیت ہے۔ کیا دنیا میں اللہ کا نام لینے والا کوئی ملک نہیں کہ بت پرستی کے فروغ کے لیے 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

حکومت پاکستان کی طرف سے سفارتی آداب کے ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کو وزارت خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے سرکاری خارجہ پالیسی کہہ کر اس پر مہر ثبت کر دی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے برسوں پرانے تعلقات میں دراڑیں پڑھ چکی اور یہ پاکستان کی برداشت کی انتہا ہے ۔ تاہم سوشل میڈیا پر سنئیر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں نے جو ویڈیو اور تحریریں شئیر کی ہیں ابھی تک سرکاری سطح پر ان کی تردید نہیں کی گئی۔ ان تحریروں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی ہے وہ فی زمانہ بروقت اور درست ہے ۔سعودی عرب کا بلا وجہ کا دباؤ اور دھمکی کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو سیاسی نقشے میں شامل کیوں کیا۔ اس پر پاکستان کے دوٹوک جواب پر سود پر ادہار دئے گئے تین ارب ڈالر قرضہ کی واپسی کے لیے یک بعد دیگر دو خطوط روانہ کرنا دوستی کے تقاضوں کے منافی ہے ۔ دباؤ پر ایک ارب ڈالرز چین کی طرف سے پاکستان کو دئے گئے جو سعودی ارب کو ادا ہوئے۔ ذرائع کے مطابق باقی دو ارب بھی چند دنوں میں ادا کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔ شہباز شریف ہوں یا احسن اقبال، مولانا طاہر اشرفی ہوں ، مسلم لیگ ن یا کسی اور مدرسے کا کوئی مولوی یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس میں کیا برا کہہ دیا کہ ان کو ہلگان ہونے لگا۔ذاتی تعلقات کو ملکوں کے تعلقات پر ترجیح نہیں دی جا سکتی، شاہ صاحب نے تو صرف یہ کہا کہ ” کشمیر ایک سال سے لاک ڈاون میں ہے ہمارے دوستوں کو واضح کرنا ہو گا کہ ہمارے ساتھ ہیں یا بھارت کے ساتھ اگر کشمیر ایشو پر ہمارے ساتھ ہیں تو فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے۔ اجلاس نہ بلانے کی صورت میں او آئی سی کی ممبر شپ سے دستبردار ہونے اور اسلامی ممالک کا نیا اتحاد بنانے کے بارے میں وزیر اعظم سے کہاوں گا” ۔آو آئی سی کا ممبر ہونے کی وجہ سے پاکستان کا یہ حق ہے کہ وہ اجلاس کا مطالبہ کرے اور ایجنڈے کے تعین کی تجویز بھی دے۔

امریکی کانگریس، برطانوی پارلیمنٹ، یورپی یونین، اقوام متحدہ میں کشمیر پر بحث ہوچکی۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کی مذمت کر رہے ہیں، مگر مسلمان ممالک کی تنظیم کا اجلاس تک نہیں ہوا ۔ ملیشیا جیسے ترقی پذیر ملک نے اپنے پائم آئل کی وسیع تجاوزات کو کشمیر پر قربان کر دیا۔ مگر اللہ تعالی کی دی ہوئی دولت سے مالا مال ملک سعودی عرب تیل کی تجارت اور سرمایہ کاری کی وجہ سے او آئی سی کا اجلاس نہیں بلانے دے رہا ۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور خادمین حرمین شریفین خاموش ہیں ۔ اس صورت حال میں اگر پاکستان کے وزیر خارجہ نے پالیسی بیان دیا ہے تو پریشانی کیا ہے۔؟ اس بیان پر ملک کے اندر ایک لابی نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے جیسے سعودی عرب کا نام لینے سے مقامات مقدسہ کی توہین ہو گئی ہو ۔ سب سے زیادہ تکلیف مسلم لیگ ن اور مدرسوں کے مولویوں کو ہے، مگر ان کو اس بات پر کبھی تکلیف نہیں ہوئی کہ جس سرزمیں سے بتوں کے خاتمے کے لیے انبیاء کرام، خصوصا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیفیں اٹھائیں اور جدوجہد کی اس پر دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر بیت المال سے ہونے اور اس کے افتتاح کے لئے عصر حاضر کے سب سے بڑے بت پرست نرندر مودی کو بلانا، عرب حکمرانوں کا پھول لے کر اس کے استقبال کے لیے کھڑا رہنے کا کیا مقصد ہے ۔ ہمارے ان حضرات کو اس سے بھی تکلیف نہیں ہوئی کہ خادمین حرمین شریفین آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہزاروں ماننے والوں کے قاتل اور ناپاک شخص مودی کو کس کارکردگی پر پاک سرزمین پر بلا کر سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازتا ہے،

ہمارے ان مہربانوں کو اس بات پر بھی کبھی تشویش نہیں ہوئی کہ اسلامی دنیا کے عظیم رہنما اور مسلمانوں کے منتخب صدر مرسی کو زبردستی اقتدار سے ہٹانے اور پھر اس کو قتل کرنے تک کی سازش میں یہ لوگ کس قدر ملوث رہے ہیں۔ ان کو اس بات کی بھی فکر نہیں کہ اسلامی دنیا کے محبوب ترین اور ہر دل عزیز حکمران، طعیب اردگان کی کس قدر مخالفت کی جا رہی ہے، اب تو عربوں نے یہ تک کہہ دیا کہ کہ ترکی خلافت کی بحالی کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ گویا دل کی اصل بات زبان پر آ گئی۔ ہمارے مولوی تو بھول ہی گئے ہوں گے مگر امت سو سال پہلے لارنس آف عریبیہ کو نہیں بولی کہ سعودی عرب کے قذاقوں نے کس طرح یورپ کے ساتھ مل کر عرب ازم کا نعرہ لگایا اور برطانوی انٹیلیجنس کا نمائندہ خالص عیسائی انگریز لارنس آف عریبیہ اس تحریک کی قیادت کر رہا تھا۔ اسی تحریک نے مسلمانوں کی مرکزیت خلافت کو ختم کیا۔ ان سب نے خلیج کو ریاستوں میں تقسیم کر کے بادشاہت و ملوکیت قائم کی جو اسلام کے نظام حکومت کی ضد ہے اور از خود مقامات مقدسہ کے نگران بن بیٹھے ۔ ہمارے ان مہربان عرب دوستوں کو نہ آیا صوفیہ کے آباد ہونے میں خوشی ہوتی ہے نہ بابری مسجد کے اجڑھنے کا غم۔ بھارت کشمیریوں پر تشدد کر رہا ہے، اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم، دونوں ممالک مسلمانوں کے ازلی دشمن ۔ ایک یہودی اور ایک کافر، دونوں سے ان کے تعلقات۔ اتحاد بین مسلیمین کے قائل نہیں، کشمیر پر او آئی سی اجلاس بلانے میں رکاوٹ ۔ مسلمانوں کی مرکزیت خلافت کی بحالی میں دیوار ۔ ایک سو سال سے عرب ریاستیں یورپ اور امریکا اور مغرب کے مفاد کو تقویت اور تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں ۔

بلواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیل کے ساتھ دوستی اور فلسطین کے مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں، ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے تو ایک بیان کے سوائے ان کے پاس دوسرا کوئی اقدام نہیں، ایران، ترکی، ملیشیا، انڈونیشیا یا کوئی دوسرا اسلامی ملک ترقی کرے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے، پاکستان کا سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی ترقی ان کو برداشت نہیں کہ دبئی کی بندرگاہ پر فرق پڑے گا ۔ ٹھیک ہے سعودی عرب نے پاکستان کی ہر مشکل وقت میں مالی مدد کی مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ چند ارب ڈالر اور 40 لاکھ مزدوروں کی ملازمت کے خوف سے دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ، آبادی کے لحاظ سے چھٹا اور دنیا کی ستائیسویں معیشت اپنی خودمختاری اور عزت و حرمت کو ہی ختم کر دے، اور کسی کی ڈائریکشن پر، ترکی ملیشیا، ایران، چین اور دیگر ممالک سے سفارتی تعلقات محدود کرے۔ 7 لاکھ مسلمانوں کی شہادت کو بھول کر مسئلہ کشمیر سے دست بردار ہو جائے اور سعودی عرب کے تواسط سے امریکا کی کالونی کے طور پر کام کرتا رہے، سعودی عرب اگر مدرسوں کو مالی امداد دیتا ہے یا شریف فیملی سے ذاتی تعلقات ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان اپنے قومی مفاد میں خارجہ پالیسی نہ بنائے ۔ سعودی عرب کی ناراضگی سے عرب ریاستوں میں کام کرنے والے 40 لاکھ افراد کی بے روزگاری اور 4 ارب ڈالر کی ادائیگی سے ملک میں مسائل پیدا ہوں گے، مگر آج وقت آ گیا ہے کہ پاکستان قومی مفاد میں سخت فیصلے کرے ۔ آج ملک میں جو فضاء قائم ہے وہ ماضی میں دیکھنے میں نہیں آئی، سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک صفحہ پر ہیں ۔ اس اشتراک سے جو فیصلے ہوں گے وہ ملک کو آگئیں لے جائیں گے ۔ کوئی فرد ہو خاندان یا ملک دوسروں کے سہارے اور مانگ تانگ کر گزارا کرنے سے نہ غربت ختم کر سکتا ہے نہ ترقی اور نہ خود داری زندہ رہ سکتی ہے ۔

لہذا حکومت کو کابینہ اور اسمبلیوں سمیت انتظامی اخراجات کم کر کے عربوں کے پیسے تو واپس کرنے چاہئے تاکہ خطوط پر خطوط کا سلسلہ بند ہو ۔ عمران خان، طعیب اردگان اور مہاتیر محمد کے درمیان یو این اجلاس کے موقع پر جو بات ہوئی تھی اس پر فوری کام شروع کر دیا جائے ۔ آو آئی سی سے باہر مسلمان ممالک کا اجلاس اسلام آباد میں ہی طلب کرنا چاہئے ۔ پاکستان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کرئے ۔قا اب پاکستان کو یہ ذمہ داری انجام دینے کے لیے خود کو پیش کر دینا چاہیے ۔ میری رائے میں 57 اسلامی ممالک میں سے مندرجہ ذیل پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔افغانستان ، ایران ،موریتانیہ ، سوڈان ، یمن ، الجزائر ، برونائی دارالسلام ، اتحاد القمری ، جبوتی، عراق، مالدیپ ، ملائیشیا، مراکش، فلسطین ، قطر، صومالیہ،انڈونیشیا، سوریہ، بنگلادیش ، البانیا، آذربائیجان ،بوسنیا و ہرزیگووینا ، برکینا فاسو ، چاڈ، گیمبیا، جمہوریہ گنی ، گنی بساؤ ، قازقستان، کوسووہ ، کرغیزستان ، لبنان ، کرغیزستان ،مالی ، نائجر، نائجیریا ، سینیگال، سیرالیون، تاجکستان، ترکی ، ترکمانستان ، ازبکستان اگر کسی دباؤ کے باعث ان میں سے چند ممالک نہ بھی آ سکیں پھر بھی 35 سے زیادہ ممالک کی آمد یقینی ہے۔ ایران، ترکی، ملیشیا اور دیگر مسلمان ممالک کی سفارت کاری بھی کام آئے گی ۔ یہ اجلاس کامیاب ہو گا انشاءاللہ، اور پاکستان کی دنیا میں پوزیشن بہت زیادہ بہتر اور نمایاں ہو گی۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کی قیادت کرے۔ بیساکھیوں پر کھڑے ہونے کی پرانی عادت کو ترک کر دے اور اپنی قوت کو دیکھائے کہ وہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور دنیا میں بھارت سے زیادہ اس کا اثر ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے