کب تلک آنکھ نہ کھولے گا زمانہ…!!

تحریر: گلشن ناز

”کون بتلائے گا مجھ کو کِسے جاکر پوچھو
زندگی زہر کے سانچوں میں ڈھلے گی کب تک
کب تلک آنکھ نہ کھولے گا زمانے کا ضمیر
ظلم و جبر کی یہ رِیت چلے گی کب تک“

”پڑھا, سنا یقین نہ آیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟؟ اب تک تو معصوم کلیاں نوچی جاتی تھیں, خواتین کو بری نظروں کا نشانہ بنایا جاتا تھا, ابھی تو زینب قتل کیس کے اثرات اذہان سے محو ہونے لگے تھے, ابھی تو مدارس کے قاریوں کو ہوس کا پجاری دکھایا جارہا تھا, ابھی تک کو اپنے محرم رشتوں سے زیادتی کے واقعات روح کو تڑپا رہے تھے,لیکن ابھی تو یہ سب انسانوں سے انسانوں تک تھا__ ابھی تو انسانی ذہن کی پستی کی ایک اور حد دیکھنی تھی ابھی تو عقل سلیم کو اور ماتم کناں ہونا تھا ابھی تو فطرت شرم ساری سے نظریں چرانے لگے گی ابھی تو بہت کچھ دیکھا سنا جائے گا۔اففف کیا گزری کہ جب یہ خبر پڑھی کہ لاہور کا ایک پندرہ سالہ لڑکا اپنے کزنز کے ساتھ مل کر ایک معصوم سے بلی کے بچے کے ساتھ گینگ ریپ کرتا رہا اففف ایک اور گینگ ریپ؟وہ بھی بلی کے بچے ساتھ؟ جی ہاں…ایسا ہی تھا.. ان نگاہوں کو لکھے ہوئے لفظ غلط لگنے لگے..کانوں کو سننے کے باجود یقین نہیں آیا..زہن قبول کرنے کو تیار ہی نہیں تھا کہ اب اک معصوم سا بلی کا بچہ بھی ہوس کا نشانہ بنے گا اور وہ بھی پندرہ سالہ قریب البلوغ لڑکے کا؟ پھر بات کسی ایک کی تربیت کے بگاڑ تک محدود نہیں تھی بلکہ دیگر کزنز کوبھی شاملِ کار رکھا ہوا تھا۔یہ ضروری تو نہیں ِ کہ انسان کی تربیت ہر بار مورد الزام ٹھہرے کبھی انسان کی فطرت اور عقل بھی اسے بہت کچھ سکھا دیتی ہے, ضمیر کی صدا عقل کی ٹھٹک اسے الارمنگ سگنلز دے دیتی ہے۔ کیا اتنی کم عمر میں یہ فطرت اس قدر آلودہ ہونے لگی ہے؟ کیا عقلوں پر اس قدر پردے پر گئے

وہ بھی کسی ایک کے نہیں ایک منظم گینگ کی صورت میں…؟ کیا سب کے والدین اندھے تھے؟ کیا سب کی تربیت اس قدر گھٹیا تھی کہ عقل و فطرت اس کے سامنے شرمندہ رہیں؟ کیا گھر کا ہر فرد اس قدر مصروف تھا کہ فیملی کے ان جوان ہوتے غنچوں پر نظر نہیں رکھی جاسکی؟ آخر یہ اسکول جانے کی عمر میں بلوغت کو چھوتے اذہان کیسے اس غلیظ اپروچ تک کیسے پہنچے؟ اور سوال یہ بھی نہیں کہ ایک بار غلطی تھی..محض اتفاقی حادثہ تھا جو سب سے چھپ کر کیا گیا اور سب لاعلم ہوں بلکہ یہ کام مسلسل ہوتا رہا..کہاں, کب اور کیسے؟؟ کیا بچوں کا ایک ایسے کام کے اکھٹا ہونا سب کو مشکوک نہیں لگا؟ کیا بچوں کی بدلی حرکات و سکنات پر سب ماؤوں کی آنکھیں بند رہی؟ وہ مائیں جن کی خوبی تو یہ ہوتی ہے کہ اڑتی چڑیا کہ پر گننے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہ مائیں..جی ہاں مائیں کسی ایک ماں کی تربیت کا قصور نہیں گینگ ریپ میں ملوث ہر بچے کی ماں میرے نزدیک اندھی بہری گونگی ٹھہری، کہا جاتاہے بچے اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں,اپنے ارد گرد کے ماحول سے سیکھتے ہیں,آخر اس کام کا اتنا منظم پلان ان لڑکوں نے کیسے طے کرلیا..؟ کہاں سے یہ سوچ آئی کس سے سیکھا؟ کس کو ایسا کرتے دیکھا..؟ جب دماغ تربیت کی کھوج میں لگاتے ہیں تو ہزار سوال سر اٹھاتے ہیں اور میرا، آپ کا اور اکثر لوگوں کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ بچے سوشل میڈیا سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں پورن کلپس اور ویب سائیٹس تک سب کی رسائی ہے..؟ مگراب کیا سوشل میڈیا کا جن کسی والدین کے قابو میں نہیں رہا؟ کیا کوئی باپ عقاب جیسی نظر نہ رکھ سکا؟ سہولیات اور آسائشیں ہر والدین کا خواب اور اولاد کا حق ہے لیکن کیا صرف میسر کردینا کافی ہے..؟

کیا اسکول جانے کی عمر میں جنسیت اتنی غالب ہونے لگی کہ اب انھیں اسکول کالج بھیجنے کی بجائے شادیاں کروا کر بند کمروں میں رومانس کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے..؟ کیا جس عمر میں فطری شرم و حیا ہر برائی پر غالب رہتی ہے یہ بیباکی کیا صرف سوشل میڈیا نے دے دی..؟ برائی کتنی ہی عام ہو اور کتنا ہی مضبوط پنجے گاڑ لے میرا یقین ہے کہ اچھی تربیت میں اللہ کا خوف بہت سی برائیوں پر غالب ہوجاتا ہے, مگر کیا ہمارے یہ بڑھتی نسل خوف خدا سے بھی گئے..؟ یہ کونسی اور کیسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جس سے جانور بھی محفوظ نہیں, یہ اتنی شہوانیت کہاں سے غالب آرہی اتنی کم عمری میں..؟ کیا گناہوں کی لذت نے ہر اخلاقیات کو مٹی میں ملا دیا..؟ کیا اب جانوروں کو بھی پالا نہ جاسکے گا..؟ یہ کس ڈگر پر جارہی ہے نسل نو_ کون ان بے لگام ازہان پر لگام ڈالے گا؟شرافت پاکیزگی شرم و حیا کا درس سکھانا کس کی زمہ داری ہے؟ کیا بحیثیت انسان،بحیثیت فرد, بحیثت پڑوسی اور شہری ہم سب اپنے ارد گرد کے ماحول اور برائیوں سے چشم پوشی نہیں کیے ہوئے ہیں؟ کیا اس گینگ ریپ کے قصوروار صرف وہی لڑکے ہیں؟ ”کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُُّلکُمْ مَسْؤلٍ عَنْہٗ“ کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اسے سے اس کے ماتحت پلنے والوں,رہنے والوں کے متعلق سوال کیا جائے گا؟ ہم نے سوچا بھی ہے کہ کیا اس معصوم بلی کی آہ بروز قیامت ہمیں مجرم نہیں بنائے گی کہ جب تمھاری اولادیں بگڑ رہی تھیں, جب شیطان ان کے معصوم دلوں پر شیطانیت و شہوانیت کے پنجے گاڑ رہا تھا

جب یہ جرم پہلی بار نظر انداز کیاگیا تو تم سب اس وقت کہاں تھے..؟؟ کیا ہر فرد معاشرے میں دوسرے سے اتنا بیاعتنا اور لاپرواہ ہوگیا ہے ہر انسان اپنے آپ میں اتنا مصروف ہوگیا ہے کہ اس کا بچہ کچھ بھی کرتا پھرے ہمیں کیا!! اور پھر ہماری یہی سوچ ایک دن وہی برائی لیے ہماری دہلیز پر دستک دینے لگتی ہے..؟ اور پھر ایسے ہی کء معاشرتی جرائم سامنے آتے ہیں,ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ہماری اپنی چشم پوشی کے سبب ہم سب ہر معاشرتی جرم میں برابر کے شریک ہیں, ہماری مصروفیات اور اغراض نے ہمیں اردگرد سے غافل کردیاہے,خدارا بحیثیت زمہ دار فرد اپنے اردگرد پر نظر رکھیے والدین اپنے گھروں میں بچوں کے معمولی سے معمولی حرکات و سکنات پر نظر رکھیے, سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ مثبت اور اخلاقی چیزیں پوسٹ کیجیے اچھائی پھیلائیں گے تو اچھائی پھیلے گی یہ براٰئی کا مذموم چہرہ دکھانے کا خبط اندھیرے کو بڑھا رہا ہے روشنی اندھیرے کو مٹائے گی نہ کہ اندھیرا..!! والدین سے خصوصی التماس ہے اپنی حلال کماٰئی پر زور دیجیے رزق حلال بچوں کی تربیت پر بہت پر موثر اور مثبت انداز میں اثرانگیز ہوتا ہے

اور کء فطری اچھائیوں کو مسخ نہیں ہونے دیتا لہذا تربیت اولاد میں رزق حلال کی اہمیت نظرانداز مت کجیے پیسے کی پیچھے بھاگ کر اپنی نسلوں کو تباہ مت کیجیے اولاد ہی آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے اسے نظرانداز نہ کریں, ساتھ ہی اساتذہ بھی بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت پر بھرپور توجہ دیجیے صرف پیسے کمانے کے لیے یہ عظیم پیشے کا انتخاب نہ کیجیے ان معاشرتی برائیوں کی جڑ کاٹنے میں آپ اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے, خدارا! اپنے مقام کو پہچان کر فرائض انجام دیں اور نسل نو کے مصلح بنیں نہ کہ پیسوں کے پجاری.., اور ساتھ ہی ہر شہری اپنے اردگرد برائیوں پر خود بھی گہری نظر رکھیے اور دوسروں کو بھی آگاہ کیجیے..ورنہ بچے بہت جلد ایک دوسرے کو کاپی کرتے ہیں اور یہ صرف ابھی ایک کیس سامنے آیا ہے اس سے پہلے کے اور زہن گندگی سے بھریں برائیوں کی روک تھام میں اپنا اپنا عملی کردار ادا کیجیے..یاد رہے بہترین بااخلاق معاشرے کی ابتدا ہم سے ہی ہے،

About BBC RECORD

Check Also

لبنان کا نسلی امتیاز اور شامی مہاجرین

Share this on WhatsAppتحریر؛ مکرم رباح کرسمس کے جلو میں شمالی لبنان کے علاقے منیہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے