کیا ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف دہشت گردی کے معاون ہیں؟

تحریر؛ ڈاکٹر رضا پرچی زادہ

جولائی 2019ء کو ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر پابندیاں عاید کی تھیں اور ان کا نام امریکا کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔توقع کے عین مطابق مغرب میں بائیں بازو اور لبرل میڈیا نے فوری طور پر جواد ظریف کے لیے اس نئے ٹائٹل پر شوروغوغا کیا تھا۔انھوں نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ وہ وزیر خارجہ جواد ظریف کو ایک ایسے اعتدال پسند اور امن پسند سفارت کار کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جس کے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں سخت گیروں کے ساتھ معاملات گڑ بڑ کا شکار ہیں۔ان میں سفاک مگر میزائل بردار سپاہِ پاسداران انقلاب ایران (آئی آر جی سی) بھی شامل ہے لیکن یہ مغربی میڈیا ہمیشہ جس بات کا حوالہ دینے میں ناکام رہا ہے،وہ یہ کہ جواد ظریف بھی اس نظام کے ایک راضی برضا آلہ کار اور چہرہ ہیں جو ’’مرگ بر امریکا‘‘ کے نعرے لگاتا ہے،اسرائیل کی تباہی چاہتا ہے اور عرب دنیا کو بھی اپنا مفتوح بنانے کے درپے ہے۔

درحقیقت جواد ظریف نے امریکا میں رہبرِ اعلیٰ اور سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے ایماء پر ایک مؤثر مہم چلائی ہے۔انھوں نے اپنے مسکراتے چہرے اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے جمہوری دنیا کے دفاع کو تسخیر کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ پاسداران انقلاب زیادہ تباہ کن انداز میں حملہ آور ہوسکیں۔اس انداز سے جواد ظریف نے جو کچھ کیا ہے،یہ بہت ہی پریشان کن اور امریکا کے سکیورٹی مفادات کے علاوہ مشرقِ اوسط اور عالمی امن کے لحاظ سے اتنا ہی ضرررساں ہے جتنا کہ پہلے سے دہشت گرد قرار دیے گئے سپاہ پاسداران انقلاب اور اس کی القدس فورس کے مقتول کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی ضرررساں تھے۔

جواد ظریف کو دہشت گرد اور انسانیت مخالف مجرم قرار دینا اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کہ ایران میں اسلامی نظام کی برائی کا منبع شہنشاہیت کے خلاف جنگ یا سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد ادارہ قرار دینے کا معاملہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ مطلق العنان ، تنہائی پسند ، مداخلت پسند اور مغرب مخالف نظام ہے۔اس نظام نے اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر اپنے قانونی جواز سے محرومی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک ایسا میکانزم وضع کررکھا ہے جس کے تحت ایک آمرانہ اور شورش پسند اسلامی نظام کو ایک جمہوری ، مستحکم اور مقبول عام روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ داخلی سطح پر اس کی حزب اختلاف بھی موجود ہے تاکہ دنیا کو اس کے کھلے پن اور متحرک ہونے کا یقین دلایا جاسکے۔

ایرانی نظام گذشتہ بیس سال کے دوران میں مغرب میں بائیں بازو اور لبرل میڈیا کی مدد سے جن اصلاح پسند اور اعتدال پسند دھڑوں کو پروان چڑھاتا رہا ہے،یہ دراصل ایک جعلی اور ریاست کے رحم وکرم پر حزبِ اختلاف کی تخلیق کے لیے سکیورٹی منصوبے کا مظہر ہے۔ یہ اپوزیشن دراصل اندرون ملک اور بین الاقوامی منظرنامے پر ایک محفوظ والو کے طور پر کام کرتی ہے۔

جواد ظریف مغرب میں ایرانی نظام کی اپنی پروردہ جعلی اپوزیشن کے ایک کٹھ پتلی ماسٹر ہیں۔انھوں نے 1980ء کے عشرے میں نیویارک میں ایران کے نائب مندوب کی حیثیت سے اور پھر 2000ء کے اوائل میں ایران کے مستقل مندوب کے طور پر اپنے دوسرے ساتھی عاملین کے ساتھ مل کر امریکا میں اسلامی نظام کی لابی کی بنیاد رکھی تھی۔یہ تمام ایرانی عہدے دار اس زمانے میں’’نیویارک بوائز‘‘ کے نام سے معروف تھے۔ یہ مفاداتی گروپ امریکا میں روابط کو مضبوط بنانے اور بائیں بازو اور لبرل میڈیا ، تنظیموں اور سیاست دانوں کی حمایت کے حصول پر اپنی توجہ مرکوز کرتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نظام ہی کے کارندوں کو ’’ناراض مخالفین‘‘ کےبہروپ میں جمہوری دنیا کے حساس تزویراتی شعبوں ، انسانی حقوق کی تنظیموں ، جامعات ، تھنک ٹینکس ،سرکاری اور نجی میڈیا اور حتیٰ کہ سرکاری اداروں میں بھی گھسانے میں کامیاب ہوجاتا رہا ہے۔

جواد ظریف بیرون ملک ایک جعلی حزب اختلاف کو چلاتے ہیں اور وہ اسلامی نظام ہی کی طرف سے دراصل کام کررہی ہوتی ہے۔ ان کا ایک کام مغرب کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ ’’اپوزیشن‘‘تو نظام کا دھڑن تختہ نہیں چاہتی ہے بلکہ وہ اصلاحات چاہتی ہے۔اس کا دوسرا مقصد ایرانی عوام اور عالمی برادری کو مسلسل ایران میں نظام کی تبدیلی کے مضمرات سے ڈرانا دھمکانا اور یہ باور کرانا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔اس طرح انھیں ریاست کے بندوبستی انتظامات انتخابات اور مذاکرات وغیرہ میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ نظام کے لیے قانونی جواز حاصل کیا جاسکے۔

ان گروپوں کا دوسرا کام نظام کے لیے سودے بازی ہے۔ خواہ یہ نجی اداروں کے ساتھ ہو یا حکومتوں کے ساتھ ۔ ان سودوں اور سمجھوتوں میں سب سے معروف مثال تو چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ جولائی 2015ء میں طے شدہ مشترکہ لا ئحہ عمل کے نام سے جوہری سمجھوتا ہے۔امریکا کی سابق اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ یہ سمجھوتا طے کیا تھا مگر یہ دنیا کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔

تاہم پورے نظام کے دھڑن تختہ کے امکان کے پیش نظر جعلی حزب اختلاف ڈھونگ ہی ثابت ہوئی ہے اور اعتدال پسندوں اور سخت گیروں کے درمیان دوئی کا دعویٰ بھی دھندلا ہوتا نظر آرہا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت اور واضح ہوجاتا ہے جب جواد ظریف کے زیر قیادت جعلی حزب اختلاف نے امریکا اور یورپ میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور سپاہِ پاسداران انقلاب کو پابندیوں کے علاوہ اور انھیں بین الاقوامی دہشت گردی اور جنگی جرائم میں ملوّث ہونے سے بچانے کے لیے لابی مہمیں برپا کی تھیں۔اس رجحان کی ایک مشتبہ مثال یہ ہے کہ جواد ظریف اور ان کے نیٹ ورک نے مغرب میں امریکا کی جانب سے آئی آر جی سی کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے خلاف خوب واویلا کیا تھا۔ان میں بعض نام نہاد اعتدال پسند ایران میں آئی آر جی سی کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر اس دہشت گرد تنظیم کی وردی اور اسکارف بھی پہنتے رہے ہیں۔ ظریف بہ ذات خود قاسم سلیمانی کے شانہ بشانہ منظرعام پر آتے رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے درمیان بالکل ٹھیک ٹھیک تال میل اور کار سرکار کی تعلق داری قائم تھی۔ ان ہی اعتدال پسندوں میں سے بعض نے اس سال جنوری میں قاسم سلیمانی کی امریکا کے حملے میں ہلاکت کی بڑے بلند آہنگ انداز میں مذمت کی تھی۔

حال ہی میں جواد ظریف نے مجلس (ایرانی پارلیمان) کے ایک اجلاس کے دوران میں تقریر کرتے ہوئے کھلے بندوں یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کے اعتدال پسند ہونے سے متعلق اگر کسی کے ذہن میں کوئی التباس ہے تو وہ اس کو نکال دے۔نیز وہ ’’مجرم نظام‘‘ سے آزاد کوئی وجود نہیں رکھتے ہیں۔

پارلیمان کے ارکان کو ان پر اس بات پر غصہ تھا کہ وہ نظام کے علاقائی منصوبے اور ڈیزائن سے وفادار نہیں ہیں۔جواد ظریف نے انھیں ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا:” آپ کا جو جی چاہتا ہے، وہ کہہ لیں لیکن شہید سلیمانی اور میں ہر ہفتے ایک ملاقات کرتے تھے اور آپس میں رابطے میں ہوتے تھے۔علاقائی امور سے متعلق ہم جو کرتے تھے، وہ باہمی رابطے کے بعد ہی کرتے تھے۔ جو لوگ شہید قاسم سلیمانی کو جانتے ہیں اور جو ان کے قریب تھے اور جو لوگ سیّد حسن نصراللہ اور عراق ، لبنان اور فلسطین میں مزاحمت سے تعلق رکھتے ہیں، وہ ہمارے تعلقات کی گہرائی سے آگاہ ہیں،مگر آپ نہیں۔‘‘

جواد ظریف نے خود ایک مرتبہ اعتراف کیا تھا اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اس کی نشان دہی کی تھی کہ جب ایرانی نظام امریکیوں کو ہلاک کررہا تھا تو وہ تب قاسم سلیمانی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہوتے تھے۔ وہ شام ، عراق اور یمن میں انسانیت مخالف جرائم میں بھی مل جل کر کام کرتے تھے۔

ایران کا اسلامی نظام مغرب اور عوام کو گذشتہ دو عشرے کے دوران میں دُہرے نظام کے حوالے سے فریب دیتا رہا ہے۔اس کے اس دُہرے نظام میں ایک طرف مغرب کے حامی اعتدال پسند اور اصلاح پسند دھڑے ہیں اور دوسری جانب مغرب مخالف سخت گیر اور آئی آر جی سی گروپ ہے۔ تاہم اب یہ نظر آرہا ہے کہ آزاد دنیا اس عفریتی نظام کے اصل جوہر کو دیکھنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ وہ ظریف اور جعلی اپوزیشن کے مصنوعی قانونی جواز سے ماورا دیکھ رہی ہے۔ اس تناظر میں جواد ظریف کو دہشت گرد قرار دینا مغرب میں اسلامی نظام کے اثرانداز ہونے والے نیٹ ورک کی توڑ پھوڑ کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے اور آخر کار اس کی بدتر شہنشاہیت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے