کرونا ‘سیکولر وائرس’، اس کا مقصد دین سے بیزاری پھیلانا ہے: ایرانی عالم دین

ایران کے ایک شیعہ مبلغ نے کرونا وائرس کو عالمی استعماری اور لادین طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا ایک ‘سیکولر وائرس’ ہے جس کا ہدف دینی طبقے میں مذہب سے بیزاری پھیلانا اور گمراہی عام کرنا ہے ایران کے مذہبی اہمیت کے حامل شہر قُم میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں علامہ عباس موسیٰ المطلق نے کہا کہ یہ وبا مذہبی معاشروں کو مذہب سے ہٹانے کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ دین کے قریب لوگوں کو مذہب سے دور کیا جا سکے اور ان میں گمراہی پھیلائی جا سکے۔

خیال رہے کہ ایران ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پر کرونا کی وبا نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی اور بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ ایران میں کرونا کے حوالے سے مذہبی حلقوں کی طرف سے متنازع بیانات اور موقف سامنے آتا رہا ہےایرانی علما نے حالیہ دنوں میں ایران میں وبا کی دوسری لہر پھیلنے کی وجہ سے مذہبی مراکز کی بندش ک پر کڑی تنقید کی تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ایرانی حکومت کے علما اور عہدیداروں نے اس وبا کے بارے میں عجیب و غریب خیالات کی بات کی ہے۔ سخت گیر عالم ، آیت اللہ محمد سعیدی نے گذشتہ مارچ میں دعوی کیا تھا کہ اس وبا کے خطرے کو بڑھاوا دینا دشمنوں کی ایک سازش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا "تہذیبوں کے تصادم” کا ایک حصہ ہے تا کہ مغربی طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذموم عزائم کو آگے بڑھا سکیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ مارچ میں ایک تقریر میں واشنگٹن پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک سازش کے تحت کرونا تیار کر کے ایران میں‌ پھیلایا ہے۔تاہم ایران کے نائب وزیر صحت رضا ملک زادہ نے زور دیا کہ لوگوں کو صحت کی ہدایات کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے کیونکہ ایران میں نئی لہر کے دوران وبا کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ایران نواز ملیشیاؤں کی تخریبی کارروائیاں عراق کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں : واشنگٹن

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خارجہ نے بغداد میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر پر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے