لیبیا کے قبائل ترکی کے حریصانہ عزائم کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار

لیبیا کے قبائل نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا ہے کہ وہ ترکی کے حریصانہ عزائم کے خلاف اپنے ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ لیبیا میں قبائلی عمائدین کی سپریم کونسل کے سربراہ صالح الفاندی اور ان کے نائب شیخ السنوسی الحلیق نے واضح کیا کہ کونسل لیبیا میں ترکی کی مداخلت اور شامی اجرتی جنگجوؤں کے ذریعے وفاق حکومت کی فورسز کی سپورٹ کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ دونوں شخصیات نے زور دے کر کہا کہ لیبیا کے عوام ترکی کے حریصانہ عزائم کے سامنے قومی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

مصر کی الشرق الاوسط خبر رساں ایجنسی نے بدھ کی شب صالح الفاندی کا ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ پوری طاقت سے لیبیا کا دفاع کریں گے۔ الفاندی کے مطابق ان کے پاس دس لاکھ شہری تیار ہیں جن کو ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل ہے۔ ان افراد کو لڑائی کے میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔ کونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ نے لیبیا کے قبائل کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور اس کے عہدے دار عوامی مطالبات سننے کے لیے بنغازی بھی نہیں آئے۔ تاہم اسی دوران وہ طرابلس گئے جب کہ دارالحکومت امن و امان سے محروم ہو چکا ہے۔

دوسری جانب شیخ السنوسی الحلیق نے باور کرایا کہ عوام اور قبائل لیبیا کے دفاع کے سلسلے میں قومی فوج اور مصری فوج کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ لیبیا کی دولت پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی حرص کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔کونسل کے نائب سربراہ نے واضح کیا کہ لیبیا کے لوگ جنگ کی دعوت نہیں دے رہے تاہم اگر انہیں لڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ اپنے وطن کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ السنوسی نے عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ مذمتی بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ اس سلسلے میں ایک متحد موقف اپنائے۔ یہ صرف لییا اور مصر کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عرب دنیا کا معاملہ ہے۔

اس سے قبل ترکی نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ وہ لیبیا کی فوج کے خلاف وفاق حکومت کی فورسز کی سپورٹ کے واسطے مطلوبہ اقدامات کرنے میں ہر گز نہیں ہچکچائے گا۔یاد رہے کہ لیبیا جو براعظم افریقا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھتا ہے ،،، وہاں کئی برسوں سے وفاق حکومت کے گروپوں اور لیبیا کی فوج کے درمیان تنازع دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران ترکی کی فوجی مداخلت نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس لیے کہ ترکی نے فائر بندی کے لیے اپنی شرائط مسلط کر دی ہیں اور وہ سرت اور الجفرہ پر کنٹرول کے لیے وفاق حکومت کے ساتھ موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔

مصر نے اس صورت حال کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ قاہرہ نے گذشتہ ہفتے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی کی فوج اور وفاق حکومت کی ملیشیاؤں نے تزویراتی ساحلی شہر سرت کی جانب پیش قدمی کی تو مصر فوجی مداخلت سے نہیں رکے گا۔ اس شہر کو ملک کے مشرق میں تیل کا مرکزی دروازہ شمار کیا جاتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ایران پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ضرورت پورا کرنے کے لئے تیار

Share this on WhatsAppایران کے سفیر نے پاکستان سے قریبی اور گہرے تعلقات سمیت تجارتی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے