لیبیا میں مصر کی فوجی مداخلت سے نمٹنے کے لیے ترکی کا منصوبہ

ترکی نے لیبیا میں ممکنہ طور پر مصری فوجیوں کے بھیجے جانے سے نمٹنے کے لیے عسکری اور سفارتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ یہ بات ترکی کے اخبار "زمان” نے ترک حکومت کے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتائی ہےاخبار نے مذکورہ ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ انقرہ حکومت (مصری افواج لیبیا بھیجے جانے کی اجازت سے متعلق) مصری پارلیمنٹ کے فیصلے کا قریب سے جائزہ لے رہی ہے”۔

ذرائع کے مطابق ترکی لیبیا میں موجود اپنی افواج پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے خواہ یہ حملہ کسی بھی فریق کی جانب سے ہو۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگر مصر نے اپنی فوج لیبیا بھیجی تو ترکی کے پاس لیبیا میں موجود اپنی فوج اور عسکری ساز و سامان میں اضافے کا منصوبہ تیار ہے تا کہ مصر کی فورسز کے سامنے کھڑا ہوا جا سکے۔

کچھ عرصہ قبل ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن یہ باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک کشیدگی بڑھانے اور لیبیا میں مصر کا مقابلہ کرنے کا خواہش مند نہیں ،،، تاہم ساتھ ہی انہوں نے طرابلس میں وفاق حکومت کے لیے ترکی کی سپورٹ پر زور دیا۔اسی سیاق میں "ماڈرن ڈپلومیسی” ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مقابلے کی صورت میں مصری فوج ترکی کی فوج پر غالب آنے اور اسے لیبیا سے نکال دینے پر قادر ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مصر بڑی تیزی کے ساتھ لیبیا میں اپنی افواج تعینات کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں "محمد نجيب فوجی اڈے” سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ مشرق وسطی میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے رپورٹ کے مطابق لیبیا میں مصر اور ترکی کے براہ راست تصادم کی صورت میں انقرہ کی ہزیمت یقینی ہے۔ اس لیے کہ مصر کے پاس جدید اسلحہ ہے اور اس کی فوج صحرائی علاقوں میں کارروائی کا تجربہ رکھتی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی قانون سازوں کا ٹرمپ سے سعودی عرب میں جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ واشنگٹن امریکی قانون سازوں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے