سعودی عرب کی تاریخ

تحریر؛ ملک ظفر حسین

عرب شریف میں 1922 تک ترکی کی حکومت تھی.جسے خلافت_عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے.1922سے پہلے سعودی عرب کا نام سعودی عرب نہیں بلکہ حجازِ مقدس تھا۔خلافت عثمانیہ دنیا کے تین براعظموں پر 623 سال (1299-1922) تک قائم رہی۔جب پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہوتا تھا تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی.امریکہ ، برطانیہ ،یورپین ، نصرانی اور یہودیوں کو اگر سب سے زیادہ خوف تھا تو وہ خلافت_عثمانیہ حکومت کا تھا.
امریکہ ، یورپ جیسوں کو معلوم تھا کہ جب تک خلافت_عثمانیہ ہے’ ہم مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہیں امریکہ و یورپ نے خلافت_عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی
.
19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ اور روس کے درمیان بہت سی جنگیں بھی ہوئیں چونکہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کے نزدیِک قابلِ احترام ہیں اسی لئے سب سے پہلا فتنہ وہیں سے شروع کروایا۔امریکہ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کھڑا کیا جو کرسچیئن تھا ‘ ایسی عربی زبان بولتا تھا کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں آیااس نے عرب کے لوگوں کو خلافت_عثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی کہ تم عربی ہو اور یہ ترکی عجمی(غیر عربی) ہیں ہم عجمی کی حکومت کو کیسے برداشت کر رہے ہیں پر لوگوں نےاسکی ایک نہ مانی.یہ شخص "لارنس آف عریبیہ” کے نام سے مشہور ہواجو آپ کو اس پوسٹ کی تصویر میں بھی نظر آ رہا ہے۔(آپ لارنس آف عریبین لکھ کر گوگل پر سرچ کرسکتے ہیں) پھر امریکہ نے ایک شخص کو کھڑا کیا جس کا نام عبدالوہاب نجدی تھا۔عبدالوہاب نجدی کی ملاقات عرب کے ایک سوداگر سے ہوئی جس کا نام ابن سعود تھا اس نے ابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا۔پھر ابن سعود نے مکہ ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے لاکھوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے جب ترکی نے دیکھا کہ ابن سعود ہمیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رہا ہے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ ہم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے”اس وجہ سے خلافت_عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔جس کی وجہ سے 40 نئے ممالک وجود میں آئے۔ پھر عرب اور کے مسلمانوں کا زوال شروع ہوا حجاز_مقدس کا نام 1400 سال کی تواریخ میں پہلی بار بدلا گیاابن سعود نے حجاز_مقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکھہ دیا..

اور اس فتنے کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے اور اسی وجہ سے سرکارِ دو عالمﷺ نے سعودی عرب کے شہر نجد کے بارے میں دعا نہیں فرمائی تھی ۔ اسی نجد میں ابن عبدالوہاب نجدی پیدا ہوا جس سے انگریزوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈلوائی اور یہی شہر کذاب کا جائے پیدائش بھی ہے۔ لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئیے انگریزوں نے اس ’نجد‘ شہر کا نام بھی تبدیل کر کے ’ریاض‘ رکھ دیا جو آج کل سعودیہ کا دار الحکومت ہے۔جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ رضوان الہہ اجمعین اور اہل_بیت علیہم السلام کی قبروں پر بلڈوزر چلایا گیا اور تمام قبروں کی بے حُرمتی کر کے ان کو ملیامیٹ کر دیا

(بدقسمتی سے آج بھی کئی بھولے بھالے مسلمان انہی قبروں کو سنت کے مطابق سمجھتے ہیں حالانکہ 1922سے پہلے وہ ایسی نہ تھیں) حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اہل_بیت کے نام پر تھےان کا نام آل سعود کے نام پر رکھا گیا (آپ یہ ساری معلومات انٹرنیٹ کے علاوہ تمام تاریخ کی کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں)انگریزوں نے اپنی اسی سازش کی کامیابی پر 1962 میں ہالی وُڈ نے ’’ Lawrence of Arabia‘‘ کے نام سے فلم بھی بنائی جو بہت زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے۔یہود و نصاری کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن اک جشن ہوا اس جشن میں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے پرائم منسٹر ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ گئےجس عرب کے نام سے یہود و نصاری کانپتے تھے وه سعودیہ ‘ امریکہ کے اشارے پر ناچنے لگااور آج بھی رندوں کے ساتھ ناچ رہا ہےیہود و نصاری کی اس ناپاک سازش کا ذکر کرتے ہوئے”علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے کلام میں لکھا ہے”

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اسکے دل سے نکال دو
فکر_عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز اور یمن سے نکال دو

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے فتنوں سے محفوظ فرما کر پھر سے خلافت کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ماضی کے تلخ حقائق کو سمجھنے کی عقل عطا فرمائے۔ آمین

About BBC RECORD

Check Also

اوپیک پلس تنازع کا نقصان روس ہی کو ہوگا!

Share this on WhatsAppتحریر؛ سیرل وِڈر شوون سعودی عرب اور روس کے درمیان عالمی مارکیٹ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے