چین ایران معائدہ بھارت تنہا اور خارجہ پالیسی سکڑ رہی ہے ؟ تجزیہ

تحریر؛ بشیر سدوزئی

چند سال پہلے مودی نے سی پیک اور گوادر بندرگاہ کے مقابلے میں چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی اور افغانستان کے ذریعے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لئے کوری ڈور تعمیر کرنے کا ایران کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ ان ہی دنوں مودی جی یہ اعلان بھی کر رہا تھا کہ پاکستان کو نہ صرف خطہ میں بلکہ دنیا بھر میں تنہا کر دوں گا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ فاشزم جہاں کئی بھی ہو آج کی معزز دنیا کو قابل قبول نہیں۔ بین الاقوامی دوروں اور پاکستان کے خلاف لابنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود مودی کی انتہا پسند اور ہندو فاشسٹ پالسیوں کے باعث بھارت آج خطہ میں تنہا اور خارجہ پالیسی سکڑ رہی ہے ۔اقوام متحدہ سمیت تمام ہی ملک بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت کر رہے ہیں ۔ بڑے ممالک کے سربراہان کے ساتھ بغلگیر ہوتے مودی کی اچھل کود اب کئی نظر نہیں آ رہی۔ چین نے پہلے پڑوس کے ممالک سے بھارت کے اثرورسوخ کا صفایا کیا، پھر لداخ میں کئی کلومیٹر سرحد کے اندر داخل ہو کر 20 سے زائد فوجیوں اور افسران کو مارا اور اب تازہ اطلاعات کے مطابق چاہ بہار ، زاہدان ریلوے لائن منصوبے سے بھی بھارت کو باہر نکال دیا گیا ۔چاہ بہار بندرگاہ سے افغانستان کی سرحد کے قریب ایرانی شہر زاہدان تک 628 کلومیٹر طویل ریلوے لائن انڈیا کی مدد سے تعمیر ہونا تھی

جس کو بعد میں افغانستان تک توسیع دی جاتی۔انڈیا اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ اس وقت طے پایا تھا جب نریندر مودی چاہ بہار بندرگاہ کی تعیمر کے معاہدے پر دستخط کرنے تہران گیا تھا۔اس وقت مودی نے اعلان کیا تھا کہ یہ معاہدہ انڈیا، افغانستان اور ایران کے درمیان ایک متبادل تجارتی راستہ تعیمر کرنے کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ مودی نے اس وقت جس بڑے متبادل تجارتی راستے کا حوالہ دیا تھا وہ دراصل سی پیک کے مقابلے کا ایک کوری ڈور تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے جو بھارت، ایران اور افغانستان سے وسط ایشیاء کی ریاستوں تک طویل ہے ۔اس منصوبے سے الگ کیے جانا بھارت کے لیے سفارتی اور علاقائی سطح پر بڑا دھچکہ اور متبادل منصوبے کا خاتمہ ہے ۔ ایران نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا جب ایران اور چین کے درمیان 25 برس کے لیے سٹریٹیجک پارٹنرشپ کا ایک معاہدہ ہوا ۔ خبر یہ بھی ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ بھی چین کو لیز پر دی جا سکتی ہے۔اس کا اشارہ ایران نے گذشتہ برس گوادر اور چاہ بہار کے درمیان معاہدے کی تجویز دے کر دیا تھا ۔ اگر اس تجویز کو مان لیا گیا تو یہ بھارت کے لیے موت سے کم نہیں ہو گا اور بھارت ایشیا سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گا۔ چین حتی الامکان کوشش کرے گا کہ بھارت کو خطہ میں تنہا کر دیا جائے تاکہ یہ معاشی طور پر کمزور ہو۔ پاکستان کی سرحد کے قریب چاہ بہار میں بھارت کی موجودگی نہ صرف سی پیک کے لئے خطرے ناک ہے بلکہ دونوں برادر اسلامی ممالک ایران اور پاکستان کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات کو کسی بھی وقت دراڑیں پڑنے کا خدشہ رہتا ہے ۔ بھارت کبھی بھی اپنے ناپاک عزائم سے باز نہیں آئے گا اور پاکستان کو یہ شکایت رہے گی کہ اس کی سالمیت کے خلاف ایرانی زمین استعمال ہو رہی ہے ۔ لہذا پاکستان کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ ایران اور چین کے ساتھ اپنے بہتر سفارتی تعلقات کو استعمال میں لاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کو اور زیادہ مضبوط کرنے میں بھر پور کردار ادا کرے تاکہ مودی کے شیطانی اثرات سے ایران مکمل طور پر پاک ہو جائے ۔ یہ صورت حال خود ایران کے لیے مناسب ہے ۔ چوں کہ امریکا نے اس پر عالمی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں ان سے چھٹکارے کا واحد راستہ بیجنگ سے گرتا ہے ۔ خطے میں دوسرے ممالک کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور اسٹریٹیجک پارٹنر شپ سے بھارت کو شدید تشویش ہو گی خاص طور پر ایران اور چین کے درمیان قریبی تعلقات سے بھارت کو بہت بڑا نقصان ہو گا۔ کیوں کہ چین اور ایران کے درمیان تعاون اور اشتراک سے پاکستان اور ایران کے سمندر تک چین کا کنٹرول ہو گا اگر بھارت اس کو استعمال کرنے چاہئے گا تو پھر مسئلہ کشمیر حل کرنے سمیت توسیع پسندانہ عزائم کو ختم اور علاقائی ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سفارتی تعلقات استوار کرنے پڑھیں گے ۔ سر دست انڈیا کو ایک بڑے منصوبے سے باہر نکالا گیا ہے ۔ بظاہر تو تہران نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ بھارت نے فنڈ دینے میں تاخیر کی ہے ۔ بے شک ایران کے پاس یہ ایک جواز تھا مکر کون نہیں جانتا کہ جہاں چین ہو گا

بھارت اس کے قریب بھی نہیں رہ سکتا ۔ اس منصوبے سے بھارت کو یہ سہولت تھی کہ اس کو چاہ بہار کی بندر گاہ سے افغانستان کے راستے وسط ایشیاء تک سامان پہنچانے میں آسانی ہوتی مگر اب ایران نے یہ سہولت واپس لے لی جو بھارتی معشیت کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ایران اور چین کے درمیان ہونے والے اسٹریٹیجک پارٹنر شپ معائدے کو عالمی توجہ حاصل ہوئی ہے ۔ کیوں کہ اس کے اثرات بین الاقوامی طور پر محسوس کئے جائیں گے ۔چین نے ایران کے ساتھ یہ معاہدہ ایران پر امریکا کی پابندیوں اور دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے جس کی تپش بھارت کے علاوہ خلیج، یورپ اور امریکا میں بھی محسوس کی جائے گی ۔ نیویارک ٹائمز نے 18 صفحات پر مشتمل معائدے کی دستاویزات حاصل کی ہیں جس کے مطابق یہ معائدہ جون 2020 کو ہوا دستاویزات کا آغاز روایتی الفاظ سے ہٹ کر تحریر پر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘دو قدیم ایشیائی ثقافتیں تجارت، سیاست، ثقافت اور سکیورٹی کے شعبوں میں یکساں نظریات کے حامل دو اتحادی، بہت سے مشترکہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی مفادات رکھنے والے ممالک چین اور ایران ایک دوسرے کو اپنا اسٹریٹجک اتحادی سمجھیں گے۔’ایران کی تیل و گیس کی صنعت کی ترقی کے لئے چین 280 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

جبکہ پیداواری اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی 120 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں چین 5 جی ٹیکنالوجی، بینکاری، ٹیلی مواصلات، بندرگاہوں، ریلوے اور دیگر درجنوں ایرانی منصوبوں میں اپنی شرکت میں اضافہ کرے گا۔مشترکہ فوجی مشقیں ،دونوں ملک مل کر اسلحہ بنائیں گے اور انٹیلی جنس معلومات بھی شیئر کریں گے۔ایران آئندہ 25 سالوں تک چین کو سستی قیمتوں پر خام تیل اور گیس فراہم کرے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین، ایران کا اتحاد امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب جیسے طاقتور ممالک کے لئے بھی چیلنج ہو گا۔ تاہم بھارت اس سے براہ راست متاثر ہو گا جو چاہ بہار بندرگاہ پر سرمایہ اور گوادر بندرگاہ کا متبادل سمجھ رہا ہے اب اس کی اس سرمایہ کاری کو خطرہ لاحق ہے ۔ جب کہ یہ معاہدہ سٹریٹیجک لحاظ سے بہت اہم ہے جس سے خلیج میں بڑی تبدیلی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے

About BBC RECORD

Check Also

اوپیک پلس تنازع کا نقصان روس ہی کو ہوگا!

Share this on WhatsAppتحریر؛ سیرل وِڈر شوون سعودی عرب اور روس کے درمیان عالمی مارکیٹ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے