چین امریکہ تنائو کس رخ کو بڑھ رہا ہے؟

تحریر: ثاقب اکبر

چین امریکہ تنائو کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی منڈیوں پر بھی اسکے منفی اثرات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ اسوقت دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں پالیسی ساز ادارے غور و فکر کر رہے ہیں کہ وہ آئندہ بدلتی دنیا کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کریں۔ پاکستان بھی تبدیل ہوتی دنیا کو اپنے لیے مخمصہ یا موقع بنا سکتا ہے۔ اس کیلئے احتیاط اور اقدام دونوں کی ضرورت ہے۔ جہاں احتیاط ضروری ہے، وہاں موقع ضائع کرنے کو بھی حماقت ہی سمجھا جائیگا۔ ایران نے چین کیساتھ معاہدے میں پیشرفت کرکے پاکستان کیلئے ایک اور موقع مہیا کیا ہے۔ چاہ بہار سے شمالی سرحد کیطرف ریلوے لائن کی تعمیر کا منصوبہ بھارت سے واپس لیکر ایران نے اپنے مستقبل کی حکمت عملی کا ایک اور اشارہ دیا ہے۔ پاکستان کو نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے فوری طور پر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، چین اس سلسلے میں مزید معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اس میں تو اب عالمی سطح پر کسی کو شک نہیں رہا کہ چین امریکہ تنائو آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ امریکہ کی حکمران قیادت کو اس تنائو کی ضرورت آئندہ انتخابات تک ہے۔ اس بات کو قبول کرتے ہوئے کہ سیاستدان اور خاص طور پر ٹرمپ اور مودی جیسے سیاستدان کسی ملک سے تنائو اور نفرت بڑھانے کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن دونوں ملکوں کے مابین تنائو کے محرکات کو جاننے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ فوری اور سطحی نہیں ہیں۔ یہ تنائو کئی دہائیوں سے جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تو چین کا ایک نئی عالمی قوت کے طور پر اس طرح سے سامنے آنا ہے کہ جس سے امریکی بالادستی متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم اس کے لیے مختلف عناوین کو وقتاً فوقتاً استعمال کیا جاتا ہے۔ عصر حاضر میں جو موضوعات دونوں ملکوں کے مابین اختلاف کے حوالے سے نمایاں ہوئے ہیں، ان کا سرسری جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

حال ہی سامنے آنے والا موضوع بحیرہ جنوبی چین کے اندر چند علاقوں میں چین کی غیر معمولی سرگرمیاں ہیں، جنھیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں موجود قدرتی وسائل کو حاصل کرنے کی چینی کوشش مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ انھوں نے یہ کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بیجنگ کی طرف سے متنازع پانیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہراساں کرنے کی مہم غلط ہے۔ ان کے جواب میں چین کا کہنا ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر حقائق اور بین الاقوامی قوانین کو مسخ کرتا ہے اور امریکہ کا اس علاقے میں کوئی لینا دینا نہیں۔ واشنگٹن میں ایک چینی سفارتکار نے کہا کہ امریکہ خطے کی صورت حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور چین اور بحری خطے کے دیگر ممالک کے درمیان مخاصمت کو بڑھاوا دینا چاہتا ہے۔

کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد امریکی صدر نے اس کا ذمہ دار چین کو قرار دیا۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ چین کی جانب سے ووہان میں کرونا وبا پر پردہ ڈالنے سے عالمی سطح پر بیماری پھیلی۔ انھوں نے کہا کہ بیجنگ عالمی ادارہ صحت کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے امریکہ کی طرف سے ڈبلیو ایچ او کو دی جانے والی 450 ملین ڈالر امداد کو روک لینے کا فیصلہ کیا اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلقات محدود کر لیے۔ اس بیماری کے حوالے سے امریکی کانگرس میں بھی چین کے خلاف ایک بل پیش کیا گیا۔ چین نے ان تمام امریکی اور بعض یورپی الزامات کو مسترد کر دیا، تاہم اس وقت عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تحقیقات کے لیے ایک وفد چین میں موجود ہے۔

ہانگ کانگ کے حوالے سے بھی امریکہ اور چین کے مابین معرکہ آرائی جاری ہے۔ معروف چینی اخبار پیپلز ڈیلی نے اس سلسلے میں چین کی کیمونسٹ پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہانگ کانگ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں امریکی مداخلت کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی پارلیمنٹ کے ہانگ کانگ کے لیے نئے سیکورٹی قانون کی منظوری کے بعد ہانگ کانگ کے لیے مختص خصوصی مراعات ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ چین دنیا میں مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے کہ جن کی وجہ سے چینی اقتصادیات پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔ اس پھیلائو کو امریکہ عالمی سطح پر اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سی پیک کا بھی مخالف ہے۔ اس منصوبے کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو جہاں مختلف طرح سے ڈرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، وہاں تحریص و ترغیب سے کام نکالنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

اگرچہ پاکستان اپنے ماضی کے تجربات اور موجودہ حالات کے پیش نظر جس مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، وہاں پر سی پیک سے واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ایران اور چین کے مابین جس معاہدے کا ان دنوں چرچا ہے، امریکہ کی طرف سے اس کے خلاف بھی ردعمل سامنے آرہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ لداخ میں ہونے والے حالیہ چین بھارت فوجی تنازع کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ موجود ہے، جس نے بھارت کو لداخ میں سڑک تعمیر کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ گذشتہ ہفتے امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ چینی حکومت کی جانب سے چوری اور جاسوسی کے اقدامات امریکہ کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا طویل مدتی خطرہ ہیں۔

واشنگٹن کے ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کہا کہ چین نے بیرونِ ملک رہنے والے چینی شہریوں کو ہدف بنانا اور انھیں واپس لوٹنے کے لیے مجبور کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ وہ امریکہ کی کورونا وائرس پر تحقیق کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوششیں کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین کی پوری ریاست اس کوشش میں ہے کہ کسی بھی ذریعے سے دنیا کی واحد سپرپاور بنا جائے۔ منگل کو تقریباً ایک گھنٹے طویل تقریر میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے چین کی جانب سے امریکی پالیسی پر رشوت، بلیک میل، غیر قانونی سیاسی سرگرمیوں، معاشی جاسوسی، ڈیٹا اور پیسے کی چوری کے ذریعے ایک وسیع تر مہم کی تصویر کشی کی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ایف بی آئی اب ہر 10 گھنٹے میں چین سے منسلک ایک نیا کاؤنٹر انٹیلیجنس کیس کھول رہا ہے۔ ملک بھر میں فی الوقت جاری 5000 ایسے کیسز میں سے تقریباً نصف کا تعلق چین سے ہے۔کریسٹوفر رے کے اس بیان سے دونوں ملکوں کے مابین آویزش کی گہرائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ قبل ازیں ہم اپنے ایک مقالے میں قارئین کی توجہ یورپی یونین کے وزیر خارجہ جوزف بورویل کے ایک خطاب کی طرف دلوا چکے ہیں، جو گذشتہ مئی کے آخر میں انھوں نے جرمنی کے سفارتکاروں کے سامنے کیا۔ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ تاریخ میں کووڈ-19 کی وبا کو ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا، جب دہائیوں بعد امریکہ دنیا کی رہنمائی کرتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا۔ انھوں مزید کہا کہ ماہرین جس ’’ایشیائی صدی‘‘ کی آمد کی پیشگوئی کر رہے تھے، اس کا شاید کورونا کی وبا کے دوران ظہور ہوچکا ہے اور اب یورپی یونین کو اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے چین کے حوالے سے ایک ٹھوس پالیسی بنانی ہوگی۔

جوزف بوریل نے 25 مئی کو جرمنی کے سفارت کاروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تجزیہ کار کافی عرصے سے امریکہ کی سربراہی میں چلنے والے عالمی نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کی باتیں کر رہے تھے۔ یورپی یونین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اب یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور ہم پر کسی ایک سائیڈ کا انتخاب کرنے کے لیے دبائو بڑھتا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایسے شواہد ہیں کہ چین عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کی جگہ لے رہا ہے اور یورپی یونین کو چین کے حوالے سے ایک مضبوط پالیسی طے کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو اپنے مفادات اور اپنی قدروں کو سامنے رکھنا ہوگا اور کسی کا آلہ کار بننے سے بچنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یورپ کو ایک مشترکہ تزویراتی کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے جو اس وقت اس کے پاس نہیں ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین امریکہ تنائو کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے منفی اثرات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں پالیسی ساز ادارے غور و فکر کر رہے ہیں کہ وہ آئندہ بدلتی دنیا کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کریں۔ پاکستان بھی تبدیل ہوتی دنیا کو اپنے لیے مخمصہ یا موقع بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے احتیاط اور اقدام دونوں کی ضرورت ہے۔ جہاں احتیاط ضروری ہے، وہاں موقع ضائع کرنے کو بھی حماقت ہی سمجھا جائے گا۔ ایران نے چین کے ساتھ معاہدے میں پیش رفت کرکے پاکستان کے لیے ایک اور موقع مہیا کیا ہے۔ چاہ بہار سے شمالی سرحد کی طرف ریلوے لائن کی تعمیر کا منصوبہ بھارت سے واپس لے کر ایران نے اپنے مستقبل کی حکمت عملی کا ایک اور اشارہ دیا ہے۔ پاکستان کو نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری طور پر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، چین اس سلسلے میں مزید معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

اوپیک پلس تنازع کا نقصان روس ہی کو ہوگا!

Share this on WhatsAppتحریر؛ سیرل وِڈر شوون سعودی عرب اور روس کے درمیان عالمی مارکیٹ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے