ایران کو کسی بھی شرپسندی کی بھاری قیمت چکانا ہو گی: امریکی مرکزی کمان

امریکی مرکزی کمان کا کہنا ہے کہ ایران خلیج میں کسی بھی بُری سرگرمی کی بھاری قیمت کو اچھی طرح جانتا ہے۔اس حوالے سے مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل کینیتھ میکنزی نے کہا ہے کہ "ہم نے پہلے سے کہیں زیادہ واضح طور پر ایران کے لیے سرخ لکیروں کا تعین کر دیا ہے”۔جنرل میکنزی کے مطابق ایران ابھی تک اپنے مقاصد پر ڈٹا ہوا ہے تا کہ خطے پر غلبہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون تہران کی شرپسند سرگرمیوں کے لیے بھرپور روک کی حیثیت رکھتا ہے۔

منگل کی شام ٹیلی فون کے ذریعے صحافیوں کو دی گئی بریفنگ کے دوران امریکی جنرل نے باور کرایا کہ واشنگٹن اقوام متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں پر پابندی کی قرار داد کے ذریعے ایران پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔عراق کے حوالے سے امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ مرکزی کمان عراق میں ملیشیاؤں کو ریاست کے زیر کنٹرول کرنے کی کوششوں کے حوالے سے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے اتفاق رکھتی ہے۔

جنرل میکنزی نے بتایا کہ "عراق میں اپنی فورسز کے تحفظ کے واسطے ہم نے بغداد کے گرین زون میں فضائی دفاعی نظام نصب کر دیا ہے”۔انہوں نے واضح کیا کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کا مقصد داعش تنظیم کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا ہے۔لیبیا کے حوالے سے جنرل میکنزی نے زور دیا کہ وہاں سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلاء کی ضرورت ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ سیاسی تصفیہ لیبیا کے بحران سے نکلنے کا مثالی راستہ ہے۔

واضح رہے کہ جنرل میکنزی نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ امریکا کو عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی مدد کی ضرورت ہے۔ امریکی جنرل نے الکاظمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی افواج کو نشانہ بنانے والی ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

یاد رہے کہ اس وقت عراق میں 5000 سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی وجود عراق میں ایران کے نفوذ پر روک لگانے کا کام کر رہا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

وزیراعظم پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ

Share this on WhatsAppڈاکٹر زولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد پاکستان ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے