ملانیا ٹرمپ کا مجسمہ جلا دیا گیا


سلووینیا میں امریکی یوم آزادی کے دن بعض شرپسندوں نے امریکی خاتونِ اول کے مجسمے کو آگ لگا دی۔مشرقی یورپ کا ملک سلووینیا ملانیا ٹرمپ کا پیدائشی ملک ہے۔ لکڑی کا یہ مجسمہ جرمنی میں مقیم امریکی آرٹسٹ بریڈ ڈاؤنی نے بنوایا تھا اور اسے سلووینیا کے ایک لوک فنکار نے درخت کا تنا تراش کر بنایا تھا۔

اس مجسمے میں ان کے چہرے کے نقوش نہیں تھے تاہم اس میں انہیں اسی طرح کے ہلکے نیلے رنگ کے لباس میں دکھایا گیا ہے جو ملانیا ٹرمپ نے اپنے شوہر کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں زیب تن کیا ہوا تھا۔آرٹسٹ بریڈ ڈاؤنی کے مطابق قدآور مجسمے کو جلا کر نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں پانچ جولائی کو اس واقعے کی اطلاع دی، جس کے فوری بعد مجسمے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

انہوں نے کہا، "میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مجسمے کو کیوں نقصان پہنچایا گیا یہ مجسمہ پچھلے سال جولائی میں نصب کیا گیا تھا۔ اس وقت بعض حلقوں کی جانب سے خاصی نکتہ چینی کی گئی تھی کہ نہ تو مجسمہ خوبصورت تھا اور نہ ہی ملانیا ٹرمپ سے مشابہت رکھتا تھا۔امریکا میں وائٹ ہاؤس نے اس واقع پر فی الحال کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق سلووینیا کی پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔


پچھلے سال اگست میں سلووینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ایک 8 میٹر لمبا لکڑی کا مجسمہ کھڑا کیا گیا تھا، جسے اس سال جنوری میں کچھ لوگوں نے آگ لگا کر خاکستر کردیا تھا۔امریکی خاتون اول کا پچپن سلووینیا میں گذرا۔ اس وقت ان کا ملک یوگوسلاویا کا حصہ تھا، جو نوے کی دہائی میں خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ اسی دوران ملانیا امریکا منتقل ہوگئیں جہاں انہوں نے ماڈلنگ میں نام کما یا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سلووینیا میں ملانیا کے آبائی علاقے میں لوگوں کی دلچسپی بڑھی اور اس بہانے وہاں سیاحت کو فروغ ملا۔

About BBC RECORD

Check Also

سوڈان کے سابق وزیر اعظم صادق المہدی کی کورونا سے موت

Share this on WhatsAppسوڈان کے اہم رہنما اور سابق وزیر اعظم صادق المہدی کی کورونا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے