ایران شکار کے بحری جہازوں کے ذریعے حوثیوں کو اسلحہ اسمگل کر رہا ہے : یمن

یمن میں آئینی حکومت نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چکمہ دینے اور حوثی ملیشیا کے لیے ہتھیاروں، بیسلٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی اسمگلنگ پر پردہ ڈالنے کے لیے یمن کے علاقائی پانی میں شکار کے بحری جہازوں کا استعمال کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیر کی شام منعقدہ ہونے والے ایک ورچوئل اجلاس میں یمنی کابینہ نے یمن کے علاقائی پانی میں ایرانی بحری جہازوں کی مکرر معاندانہ سرگرمیوں کی شدید مذمت کی۔ ان سرگرمیوں میں ماہی گیری کے پیشے کی بربادی، یمنی ماہی گیروں اور ان کی مچھلیاں پکڑنے کی کشتیوں پر فائرنگ کے واقعات اور مذکورہ ایرانی جہازوں کو حوثیوں کے لیے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو ڈھانپنے کے واسطے استعمال کرنا شامل ہے۔

اسی طرح کابینہ نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حامل ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاندانہ سرگرمیوں کی مذمت کریں۔ علاوہ ازیں ایرانی نظام پر دباؤ ڈالیں تا کہ اسے یمن کی خود مختاری، سیکورٹی اور استحکام کو نقصان پہنچانے سے روکا جا سکے۔اجلاس میں یمن کے فشری کے وزیر نے ایرانی بحری جہازوں کی جانب سے غیر قانونی شکار کا انکشاف بھی کیا۔ اس کے علاوہ یمنی سمندری پانی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے آکری واقعہ گذشتہ ہفتے پیش آیا جب سمندری شکار کے ایرانی جہاز سمندری حدود میں داخل ہو کر یمنی ساحلوں سے صرف 9 میل کے فاصلے پر رہ گئے۔

دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے باور کرایا ہے کہ ایران ان جہازوں کو چکمہ دینے اور حوثیوں کے واسطے ہتھیاروں، بیسلٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ٹویٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں الاریانی نے کچھ عرصہ قبل سمندری شکار کے جہازوں اور فشریز پر نظر رکھنے والی دو تنظیموں گلوبل فشنگ واچ (GFW) اور ٹرگ میٹ ٹرام (TMT) کی جانب سے کیے گئے انکشافات کا بھی حوالہ دیا۔ ان معلومات میں ایرانی جہازوں کی جانب سے یمنی علاقائی پانی میں غیر قانونی شکار پر روشنی ڈالی گئی۔

رپورٹ میں یہ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ ایرانی بحری بیڑہ جو 192 جہازوں پر مشتمل ہے ،،، وہ شکار کے اجازت ناموں کے بغیر ہی صومالیہ اور یمن کے ساحلوں پر شکار کی غیر قانونی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ شکار کے سیزن مین یمن کے علاقائی پانی میں ایران کے 144 جہاز دیکھے گئے۔یمنی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی جہازوں کی جانب سے مچھلیوں کے شکار (ٹونہ فِش وغیرہ) کو پکڑنے کے لیے Drift Gillnetting کا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ واقوام متحدہ نے 2.5 کیلو میٹر سے زیادہ طویل سمندر میں ان کا استعمال ممنوع قرار دیا ہے۔ اس کا مقصد آبی ثروت کی حفاظت اور فشری کی بربادی کے عمل کو روکنا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

بھارت:فیس بُک پراسلام مخالف پوسٹ کے ردِّعمل میں پُرتشدد احتجاج، تین افراد ہلاک،100 گرفتار

Share this on WhatsAppبھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے گڑھ بنگلور میں فیس بُک پر توہین ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے