امریکی سینیٹر ٹوم کوٹن ڈیموکریٹس پر چراغ پا ، چین کو پابندیوں کی دھمکی

امریکا میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹوم کوٹن نے چین پر کڑی تنقید کی ہے۔ مزید برآں کوٹن نے امریکا میں بائیں بازو والوں پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے کہ وہ اپنے ملک کی مذمت کرتے ہیں جب کہ چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں موندے رکھتے ہیں جہاں اس نوعیت کی پامالیوں کو شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔

ٹوم نے پیر کے روز امریکی اخبار BreitBart کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "چین میں کمیونسٹ پارٹی ایک شرپسند نظام ہے۔ انہوں نے ملک کے شمال مغرب میں گرفتاری کیمپ قائم کر رکھے ہیں اور اپنے تمام علاقوں میں اقلیتوں کو ظلم و زیادتی کا شکار بنا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے طویل عرصے سے خواتین کو جبری اسقاط حمل پر مجبور کیا ہوا ہے”۔

ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ "لیبرون جیمز جیسے پروفیشنل باسکٹ بال کھلاڑیوں کے زیر قیادت بائیں بازو کا رجحان رکھنے والے متعدد لوگوں نے چین میں (انسانی حقوق سے متعلق) جرائم پر آنکھیں بند رکھی ہیں جب کہ اسی دوران وہ اپنے ملک کے پولیس افسران کی ملامت کرتے ہیں ،،، یہ میرے خیال میں شرم ناک اور نہایت گھٹیا نوعیت کا تضاد ہے”۔

ٹوم کوٹن کے مطابق "چین نے ایک وبا بیماری کو پھیلایا اور امریکا میں اور امریکی کارخانوں میں ملازمتوں کو ہائی جیک کیا۔ مزید یہ کہ چینیوں نے ہانگ کانگ کے حوالے سے اپنی بنیادی پاسداریوں کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے برطانیہ سے ہانگ کانگ کو لیتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ اس کی منفرد شناخت کو 50 برس تک برقرار رکھیں گے .. مگر کچھ سال بعد یہ وعدہ ہوا ہو گیا”۔

ٹوم کوٹن نے توقع ظاہر کی کہ چین کے احتساب کے لیے امریکی سینیٹ کی جانب سے مزید قانون سازی دیکھنے میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ اس وقت غیر ملکی خود مختاری سے متعلق مامونیت کے قانون میں ترمیم پر غور کر رہی ہے تا کہ امریکی شہریوں کو امریکی عدالتوں میں چینی ذمے داران کے احتساب کی اجازت مل سکے۔

امریکی سینیٹر کے مطابق (عالمی ادارہ صحت کی جانب سے) کئی ماہ تک بیجنگ کے دوغلے پن کو چھپایا گیا ،،، یہ ایک اہم وجہ تھی جس نے امریکی صدر کو عالمی ادارہ صحت سے علاحدہ ہونے پر مجبور کر دیا اور اس عمل میں وہ حق پر ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

ملکہ برطانیہ کا شادی کا جوڑا نمائش کے لیے پیش

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ برطانیہ ملکہِ برطانیہ ایلزبتھ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے