امریکی تاریخی دستاویز میں مسئلہ فلسطین کے لیے سعودی حمایت کی تصدیق

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ امریکہ
خارجہ پالیسی سے متعلق سرکاری دستاویزات نشر کرنے کے ذمے دار سرکاری دفتر "Office of The Historian” نے ایک تاریخی دستاویز جاری کی ہے۔ اس میں سعودی عرب کی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزيز آل سعود اور امریکی صدر روزیلٹ کے درمیان گفتگو کی یادداشت شامل ہے۔ یہ گفتگو 14 فروری 1945 کو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "کوئنسی 5” پر ہوئی تھی۔

دستاویز کے پہلے حصے کے مطابق گفتگو کے آغاز میں امریکی صدر نے یہودی پناہ گزینوں کے حوالے سے مشورہ طلب کیا جن کو یورپ میں ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر سعودی فرماں روا نے کہا کہ ان افراد کو اُس سرزمین پر واپس لوٹنے دیا جائے جہاں سے انہیں بے دخل کیا گیا۔ جہاں تک ان کے گھر تباہ ہو جانے اور ان کے لیے روز گار کے مواقع نہ ہونے کا تعلق ہے تو اس کے لیے انہیں اُن ممالک میں رہنے کی جگہ دی جانی چاہیے جن ممالک نے ان کو تکلیف پہنچائی۔

اسی طرح شاہ عبدالعزیز نے ملاقات میں عربوں اور ان کی سرزمین پر ان کے قانونی حقوق کا معاملہ پیش کیا۔ سعودی فرماں روا نے باور کرایا کہ عربوں اور یہودیوں کے درمیان تعاون ممکن نہیں ،،، نہ فلسطین میں اور نہ کسی اور ملک میں !

شاہ عبدالعزیز نے یہودیوں کی مسلسل ہجرت اور ان کے فلسطینی اراضی خریدنے کے نتیجے میں جنم لینے والے بحران کی جانب توجہ دلائی۔ اس موقع پر سعودی فرماں روا نے باور کرایا کہ عراب اپنی سرزمین یہودیوں کے حوالے کرنے کے بجائے موت کا انتخاب کریں گے۔ شاہ عبدالعزیز کے مطابق عربوں کو اپنے معاملے کے حوالے سے امریکی حمایت کے حصول کی امید ہے۔

اس کے مقابل امریکی صدر روز ویلٹ نے شاہ عبدالعزیز کو باور کرایا تھا کہ وہ عربوں کے خلاف یہودیوں کے لیے کچھ نہیں کریں گے ،، اور وہ کوئی معاند قدم ہر گز نہیں اٹھائیں گے۔ البتہ انہوں نے تصدیق کی کہ کانگرس یا امریکی صحافت کی جانب سے کسی بھی موضوع کے بارے میں جاری ہونے والے بیانات اور فیصلوں کو روکنا ممکن نہیں ہو گا۔

دستاویز کے دوسرے حصے میں شاہ عبدالعزیز نے شام اور لبنان کی خود مختاری کے مسئلے کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی صدر سے اس حوالے سے موقف کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر روزویلٹ نے جواب دیا کہ فرانس نے انہیں ایک سرکاری کتاب دی ہے جس میں شام اور لبنان کی خود مختاری کو شامل کیا گیا ہے .. لہذا کسی بھی وقت فرانس کو تحریر ارسال کر کے اپنی بات کے احترام کی ضرورت یاد دلائی جا سکتی ہے۔

دستاویز کے تیسرے حصے میں امریکی صدر نے زراعت کے حوالے سے اپنی توجہ پر گفتگو کی۔ انہوں نے آبی وسائل کی ترقی اور کاشت کی گئی اراضی میں اضافے کے حوالے سے اپنے خصوصی اہتمام کا ذکر کیا۔ روزویلٹ کے مطابق عربوں کو اس میں شامل ہونا چاہیے۔

اس پر شاہ عبدالعزیز نے جواب دیا کہ زراعتی اراضی سے صحرائی علاقہ کم ہو گا اور زیادہ بڑی آبادی کو آسودہ زندگی میسر آئے گی۔ تاہم سعودی فرماں روا نے واضح کیا کہ اگر زراعتی ترقی یہودیوں کا ورثہ بن گئی تو پھر وہ اپنے ملک میں زراعتی ترقی کو جوش و جذبے کے ساتھ داخل نہیں کر سکیں گے۔

About BBC RECORD

Check Also

بھارت:فیس بُک پراسلام مخالف پوسٹ کے ردِّعمل میں پُرتشدد احتجاج، تین افراد ہلاک،100 گرفتار

Share this on WhatsAppبھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے گڑھ بنگلور میں فیس بُک پر توہین ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے