عراق : النجباء ملیشیا کے سرغنے کی جانب سے دھمکی

عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے سرغنوں کی جانب سے عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی پر تنقید کے تیر برسانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا بنیادی سبب جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب چھاپے کی کارروائی ہے۔ کارروائی میں نامعلوم راکٹوں کے داغے جانے کے معاملے میں عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے 14 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں پیر کی شام ان میں سے اکثر کو رہا کر دیا گیا۔ اس حوالے سے آخری نکتہ چینی النجباء ملیشیا کے سکریٹری جنرل اکرم الکعبی کی جانب سے سامنے آئی۔ الکعبی نے غداری کے الزامات کو دہراتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کی جانب اشارہ کیا۔

ٹویٹر پر اپنے بیان میں الکعبی نے کہا کہ ایجنٹوں اور غداروں کی جانب سے مزاحمت کاروں کا راستہ روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ الکعبی کا اشارہ وزیر اعظم مصطفی الکاظمی اور مذکورہ چھاپا مارنے والی انسداد دہشت گردی فورس کی جانب تھا۔

ملیشیا کے سکریٹری جنرل کے مطابق معاملات سنگین ہوتے جا رہے ہیں .. قابض افواج جانا نہیں چاہتی ہیں .. اور وہ اپنے ایجنٹوں کو حرکت میں لا کر مزاحمت کا سقوط چاہتی ہیں۔الکعبی نے اپنی ملیشیا اور دیگر ایران نواز گروپوں کو ہدایت کی کہ وہ "عظیم معرکے” کے واسطے پہلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تیاری کریں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔

پیر کے روز رہا کیے جانے والے حزب اللہ بریگیڈز کے متعدد ارکان نے عراقی وزیر اعظم الکاظمی کی تصاویر کو پاؤں تلے روندا اور ان کو نذر آتش کیا۔حزب اللہ بریگیڈز کے ترجمان جعفر الحسینی باور کرا چکے ہیں کہ گرفتار کارکنوں پر الزام ایک سازشی چال تھی اور حزب اللہ بریگیڈز اس سازش پر وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔

جمعے کے روز جاری ایک بیان میں عراقی حزب اللہ نے عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں امریکیوں کا ایجنٹ اور "غدار” قرار دیا۔ بیان میں عراقی وزیر اعظم کو سزا کی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا کہ "ہم نے آپ پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے”۔

About BBC RECORD

Check Also

یمن کی آئینی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا

Share this on WhatsAppیمن میں آئینی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے