صدر ٹرمپ نے جرمنی سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا حکم جاری کردیا

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ امریکہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت ساڑھے نو ہزار امریکی فوج جرمنی سے نکل جائے گي۔ اس وقت جرمنی میں 34 ہزار 500 امریکی فوج تعینات ہیں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمنی سے ساڑھے نو ہزار امریکی فوج کے انخلا کے ایک منصوبے پر منگل 30 جون کو دستخط کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایک روز قبل ہی صدر کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوف مین کا کہنا تھا کہ اس قدم سے ” جہاں روس کے خلاف صف بندی میں مدد ملے گی وہیں نیٹو کو بھی مزید تقویت حاصل ہوگی۔” لیکن حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی کہ جن فوجیوں کو جرمنی سے واپس بلایا جارہا ہے انہیں کہاں تعینات کیا جائے گا۔
جرمنی کی مختلف ریاستوں اور علاقوں میں مجموعی طور پر امریکا کے 34 ہزار 500 فوجی موجود ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اس میں کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نیٹو کے لیے جو تعاون برلن کو کرنا چاہیے تھا، اس میں اس سے غفلت ہوئی ہے۔ انہوں نے جرمنی پر روس سے توانائی کی خرید و فروخت کا الزام بھی عائد کیا۔

سینیٹ میں ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت

امریکی سینیٹ میں بعض ڈیموکریٹ اور ریپبلک اراکین نے امریکی افواج کے جرمنی سے انخلاء کے ٹرمپ کے منصوبے کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ سینیٹ کے بعض اراکین نے 2021 کے قومی دفاعی اخراجات میں بعض ترامیم کا اشارہ دیا ہے۔ ان ترامیم کے مطابق اگر اگر جرمنی میں فوج کی تعیناتی میں کمی کی جاتی ہے تو فوجی اخراجات میں بھی کمی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔سینیٹ اراکین کی تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج میں کمی اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وزیر دفاع کی جانب سے اس طرح کی تجزیاتی رپورٹ سامنے نہ آجائے کہ امریکی فوج کے انخلاء سے اتحادی ملک کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

پینٹاگون کے ترجمان ہوف مین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اگلے چند ہفتوں میں آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مزید صلاح و مشورہ کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اب اگر فوج کو واپس بلایا جاتا ہے تو ماسکو کو پیغام دینے کے لیے اس میں سے کچھ فوجیوں کو مشرقی یورپ کے بعض ممالک میں تعینات کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ تعیناتی کم وقت کے لیے نہیں بلکہ طویل مدت کے لیے ہوگی۔پولینڈ کے رہنما اندریز ڈوڈا نے حال ہی میں واشنگٹن کا دورہ کیا تھا اور صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ جرمنی سے واپس آنے والے فوجیوں کو پولینڈ میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”اس میں سے کچھ تو گھر واپس آئیں گے اور کچھ دوسرے مقامات کے لیے روانہ ہوں گے۔ اور ان میں سے پولینڈبھی ایک مقام ہوگا۔”

About BBC RECORD

Check Also

امریکا؛ نئی حکومت کی شعبہ اطلاعات کی ٹیم کے تمام عہدے خواتین کو تفویض

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ واشنگٹن امریکی صدارتی الیکشن میں کامیاب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے