شام کے حوالے سے ایران، ترکی اور روس کا سہ فریقی اجلاس، شامی قیادت نظرانداز

ایران، ترکی اور روس شام کے حوالے سے آج ایک اہم اجلاس منعقد کررہے ہیں مگر اس اجلاس میں شامی رجیم یا اپوزیشن قیادت کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
کل منگل کے روز ماسکو کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کو تینوں ممالک روس، ایران اور ترکی کے صدور ولادی میر پوتین، حسن روحانی اور طیب ایردوآن ایک ویڈیو اجلاس سے میں شرکت کریں گے۔

خیال رہے کہ روس اور ایران کو اسد رجیم کے بڑے حامیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور بشارالاسد کے اقتدار کی بقا ان کے دم قدم سے ہے جب کہ ترکی شامی اپوزیشن کی بعض قوتوں کی حمایت کرتا ہے۔شام میں حکومت اور حزب اختلاف نے سنہ 2017ء میں لڑائی روک کر بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کرملین کا کہنا ہے کہ آج بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں صدر ولادی میر پوتین، ایران کے حسن روحانی اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن مقامی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے ایک ویڈیو اجلاس میں شرکت کریں گےطویل لڑائی ، خون خرابے اور ایک ملین شامیوں کی نقل مکانی کے بعد گذشتہ مارچ میں روس اور ترکی نے شمال مغربی صوبے ادلب میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ جون میں ادلب کے مختلف علاقوں میں اپوزیشن کے ٹھکانوں پر طیاروں سے بمباری کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

وزیراعظم پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ

Share this on WhatsAppڈاکٹر زولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد پاکستان ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے