ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

ایرانی استغاثہ نے انٹرپول پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر مہلک فضائی حملے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ریڈ نوٹس‘ جاری کرے ایرانی استغاثہ نے انٹرپول پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر مہلک فضائی حملے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ‘ریڈ نوٹس‘ جاری کرے۔ ایران نے ٹرمپ کے ممکنہ طور پر اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی اس معاملے کی پیروی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تہران کے پراسیکیوٹر علی القاصی مھر نے پیر کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 35 دیگر افراد کو ایران میں ‘دہشت گردی اور قتل کے الزامات‘ کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکام نے پہلے ہی امریکی صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

ایران نے فرانس میں بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ امریکی صدر کی گرفتاری میں مدد دے۔۔ ریاستی استغاثہ علی القاصی مھر نے کہا کہ انٹرپول سے کہا گیا تھا کہ وہ ٹرمپ اور دیگر مدعا علیہان کے خلاف ‘ریڈ نوٹس‘ جاری کرے۔ یہ نوٹس اعلیٰ سطح کی درخواست ہوتا ہے، جس کے تحت گرفتاری کا اعلان انٹرپول ہی کرسکتی ہے حالانکہ صرف انفرادی ممالک کے حکام ہی مشتبہ افراد کو گرفتار کر سکتے ہیں۔ایران رواں برس جنوری میں بغداد کے نزدیک جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کا سبب بننے والے امریکی ڈرون حملے کے سلسلے میں صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی فوجی اور سویلین حکام پر مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔ امریکا کی طرف سے کیے گئے اس حملے میں ایران اور عراق کی دو بہت اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد یہ خطہ تقریباﹰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر آ کھڑا ہوا تھا۔


کیا انٹرپول کوئی ایکشن لے گی؟

اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ انٹرپول ایران کو صدر ٹرمپ کی فراہمی میں مدد کرنے پر راضی ہو جائے۔ بین الاقوامی پولیس ان رہنما اصولوں پر عمل کرتی ہے، جو اس کو ‘کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت یا سرگرمیوں‘ سے باز رکھتے ہیں۔ایرانی وکیل استغاثہ علی القاصی مھر نے کہا کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدر کے عہدے سے آئندہ رخصتی کے بعد بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ٹرمپ نومبر میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جنرل سلیمانی پر امریکی حملے نے عراق اور ایران میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور اس واقعے کے کئی دن بعد تہران نے عراق میں امریکی اہداف پر میزائل بھی فائر کیے تھے۔ ایرانی فوج نے امریکی اڈوں کی طرف راکٹ فائر کرنے کے چند گھنٹوں کے بعد ایک سویلین ایئرلائن کے مسافر طیارے کو، جس میں 176 مسافر سوار تھے، مار گرایا تھا۔ ایران کے مطابق اور بظاہر بھی یوکرائن کا یہ مسافر طیارہ غلطی سے نشانہ بنا تھا کیونکہ اس ہوائی جہاز کو بظاہر ‘کروز میزائل‘ سمجھ لیا گیا تھا۔رواں ماہ کے آغاز پر ایران نے ایک ایرانی نژاد شخص پر یہ الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکا اور اسرائیل کو سلیمانی کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ اس الزام کے تحت اس شخص کو ایران میں سزائے موت سنا دی گئی تھی۔

About BBC RECORD

Check Also

کولمبیا میں بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی، الزام ملکی فوجیوں پر

Share this on WhatsAppکولمبیا میں کچھ فوجیوں کی طرف سے ایک مقامی لڑکی کو اجتماعی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے