کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، تمام دہشتگرد مارے گئے

تجمل ہاشمی
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ کراچی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 6 افراد شہید ہوگئے جب کہ فورسز کی جوابی کارروائی میں چاروں دہشتگرد مارے گئے۔پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم سے حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کردی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور آپریشن شروع کردیا۔

حملہ آور جدید اسلحہ اور گولہ بارود سے لیس تھے: پولیس

پولیس کے مطابق پولیس اور رینجرز اہلکار اسٹاک ایکسچینج میں داخل ہوئے اور فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جب کہ ایک دہشتگرد کو اسٹاک ایکسچینج کے ہال میں مارا گیا۔پولیس ترجمان کا بتانا ہےکہ دہشتگردوں کے حملے میں ایک شہری جاں بحق ہوا جب کہ ایک پولیس سب انسپکٹر سمیت اسٹاک ایکسچینج کے 4 سیکیورٹی گارڈ بھی شہید ہوگئے، اس کے علاوہ پولیس اہلکار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا بھی مکمل محاصرہ کرلیا جب کہ حملے کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہےکہ دہشتگرد جدید اسلحہ سے لیس تھے اور ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹیں بھی موجود تھیں۔

۔

چاروں دہشتگرد مارے گئے: کراچی پولیس چیف

کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ 4 دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی کوشش کی لیکن فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں چاروں دہشتگرد مارے گئے ہیں۔غلام نبی میمن نے بتایا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا سے سلور رنگ کی کار میں آئے تھے ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود بھی تھا جو فورسز نے قبضے میں لے لیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے پولیس اہلکاروں کی طرح کا لباس پہن رکھا تھا، اب صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور دہشتگردوں کے دیگر ساتھیوں کے شبے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کو خالی کرالیا: پولیس

ترجمان سندھ رینجرز نے بھی آپریشن میں تمام دہشتگردوں کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔پولیس کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے لیے عمارت کو مکمل طور پر خالی کرالیا گیا ہے اور عمارت کو بند کرکے آپریشن کیا جارہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہےکہ دہشتگردوں کے پاس موجود جدید اسلحہ،دستی بم اوردیگر اشیاءکو بھی قبضے میں لے لیا گیا جب کہ دہشتگردوں کی زیراستعمال گاڑی کی رجسٹریشن کی معلومات حاصل کی جارہی ہیں اور گاڑی کے مالک کا پتا چلنے کے بعد تحقیقات مزید آگے بڑھائی جائیں گی۔

ڈائریکٹر اسٹاک ایکسچینج کی گفتگو

ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج عابد علی حبیب نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، ہمارے گارڈز نے دہشتگردوں سے مزاحمت کی۔عابد علی حبیب نے بتایا کہ دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج کے گراؤنڈ اور ٹریڈنگ ہال میں بھی فائرنگ کی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ آس پاس کی عمارتوں میں گھس گئے۔عابد علی حبیب کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 میں سے 150 ممبران کے پرائمری دفاتر اسٹاک ایکسچینج میں موجود ہیں، ہم نے واقعے کے بعد خود کو دفاتر میں بند کرلیا۔

ایم ڈی پی ایس ایکس کی گفتگو

ایم ڈی پی ایس ایکس فرخ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے وقت ہماری اپنی سیکیورٹی نے بہت اچھا رد عمل دیا جب کہ پولیس اور رینجرز نے فوری کارروائی کرکے صورتحال کو قابو کرلیا۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے لوگوں کی تعداد کم تھی ورنہ عام حالات میں 5 سے 6 ہزار افراد موجود ہوتے ہیں۔فرخ خان کا کہنا تھا کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور حملے کی وجہ سے ٹریڈنگ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں رکی۔

وزیراعظم کی مذمت

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے کی مذمت ہے۔اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے جوانوں نے بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور حملہ ناکام بنایا، پوری قوم کو اپنے بہادر جوانوں پر فخر ہے۔وزیراعظم نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی صحتیابی کیلئے دعا کی۔

About BBC RECORD

Check Also

’حالات ابھی بد سے بدتر ہوں گے‘: عالمی ادارہ صحت

Share this on WhatsAppعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے متنبہ کیا ہے کہ کووڈ۔19کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے