کووڈ19 سے متعلق پاکستانی ایپ ایمرجنسی میں مددگار کیسے؟

حکومتی ادارے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کی جانب سے ایک ایسی ایپ تیار کی گئی ہے، جو نہ صرف کرونا (کورونا) وائرس کے مریضوں کے لیے مفید ہے بلکہ ان افراد کے لیے بھی جو کرونا سے محفوظ ہیں’کووڈ 19 جی او وی پی کے’ (Covid 19 GOV PK) نامی پاکستانی ایپ اب تک پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کی جانب سے ڈاؤن لوڈ کی جاچکی ہے۔ یہ ایپلیکیشن اینڈروئیڈ فونز میں پلے سٹور اور آئی فونز میں ایپل سٹور پر مفت دستیاب ہےحال ہی میں ایک فرانسسی سکیورٹی ریسرچر، جو ٹوئٹر پر فرضی نام ایلیٹ ایلڈرسن کے نام سے موجود ہیں، کی جانب سے اس ایپ میں کرونا کے مریضوں کی معلومات کی پرائیویسی کے حوالے سے کافی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

مذکورہ ریسرچر کا دعویٰ تھا کہ اس ایپ کا ‘ریڈیئس الرٹ’ فیچر ہارڈ کوڈڈ پاس ورڈز کے ذریعے مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر کام کر رہا ہے۔ ‘پاس ورڈ ہارڈ کوڈنگ’ کا مطلب یہ ہے کہ سورس کوڈ (کمپیوٹر پروگرام) میں سادہ الفاظ میں یعنی خفیہ طریقے کے بغیر ہی پاس ورڈ کو لکھ دینا۔ ایلیٹ کے مطابق لوگوں کا پاس ورڈ واضح پتہ چلنے سے ان کی معلومات اس ایپ میں غیر محفوظ ہیں۔

فرانسسی ریسرچر کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ یہ ایپ کرونا وائرس کے مریضوں کے عین طول البلد (لونگی ٹیوڈ) اور عرض بلد (لیٹی ٹیوڈ) کو ڈاؤن لوڈ کر رہا ہے، جس کے ذریعے کوئی بھی ہیکر با آسانی پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی لوکیشن معلوم کر سکتا ہے۔ایلیٹ ایلڈرسن کے ان دعوؤں کے حوالے سے ہم نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سربراہ شباہت علی شاہ سے بات کی تو انہوں نے اس کا اعتراف کیا کہ واقعی اس ایپ میں کرونا کے مریضوں کی معلومات نان انکرپٹڈ (غیر خفیہ) طریقے سے موجود تھی لیکن اس معلومات کو اب محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس ایپ میں سات فیچرز ہیں جن میں سے چھ فیچرز پہلے سے انکرپٹڈ تھے مگر اب ہم نے کرونا کے مریضوں کی معلومات کو محفوظ بنانے کے لئے ریڈیس الرٹ فیچر کو بھی انکرپٹ کردیا ہے۔’

یہ ایپ ایمرجنسی کی صورت میں کیسے کام آتی ہے؟

‘کووڈ 19’ ایپ میں سب سے مفید اور ایمرجنسی کی صورت میں کام آنے والا فیچر ہے ‘پاک نگہبان’۔ اس فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ آپ ایمرجنسی کی حالت میں اگر کسی کرونا کے مریض کو ہسپتال لے کر جانا چاہتے ہیں تو یہ فیچر آپ کو کراچی کے تمام ہسپتالوں میں مریضوں کے بستر اور وینٹی لیٹرز کی صورت حال کے حوالے سے آگاہ کرے گا۔

ایپ میں اس فیچر کا انتخاب کرتے ہی آپ کے پاس دو آپشنز آئیں گے جو کہ ‘ویو ہیلتھ اینڈ لیب فیسیلیٹیز’ اور ‘ہیلتھ آفیسر لاگ اِن’ کے ہیں۔ ان دونوں آپشنز میں سے اس وقت ‘ہیلتھ آفیسر لاگ اِن’ کا آپشن فعال نہیں ہے۔ اس حوالے سے شباہت علی شاہ کا کہنا تھا کہ ‘یہ فیچر خصوصاً ڈاکٹرز نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے لیے ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے ہمیں ہسپتال اور لیبز کی صورت حال سے آگاہ کرتے رہیں۔ ہم اس فیچر کو جلد ہی فعال کریں گے۔’

دوسرا آپشن ‘ویو ہیلتھ اینڈ لیب فیسیلیٹیز’ ایمرجنسی کی صورت میں آپ کے کافی کام آئے گا کیوں کہ آج کل کئی لوگ ہنگامی حالات میں کرونا کے مریضوں کو جب ہسپتال لے کر جانا چاہتے ہیں تو انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کن ہسپتالوں میں بستر اور وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں کراچی کے ڈاکٹر فرقان کی وفات سے لی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر فرقان بھی کرونا کے مریض تھے اور سانس کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ وہ اپنے آخری لمحات میں تین سے چار ہسپتالوں میں گئے جہاں پہنچنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہاں بستر اور وینٹی لیٹر دونوں دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث وہ اپنے گھر میں ہی انتقال کرگئے۔

اس آپشن کو استعمال کرنے کا طریقہ بہت ہی آسان ہے۔ آپ ‘ویو ہیلتھ اینڈ لیب فیسیلیٹیز’ کا انتخاب کریں جس کے بعد یہ ایپ آپ کو اطراف میں موجود ہسپتالوں کی صورت حال کے حوالے سے بتائے گی۔ جن ہسپتالوں میں ہرے رنگ سے ایک دائرے میں انگریزی کا حرف ‘ایچ’ لکھا ہے اس کا مطلب ہے کہ اس ہسپتال میں بستر اور وینٹی لیٹرز دونوں دستیاب ہیں۔

جن ہسپتالوں کی جگہ ‘پیلے’ رنگ سے ایچ لکھا ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہاں دونوں میں سے صرف ایک چیز دستیاب ہے، یا تو بستر یا پھر وینٹی لیٹرز لیکن اگر کسی ہسپتال کی جگہ ‘لال’ رنگ سے ایچ لکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں دونوں چیزیں موجود نہیں۔اگر آپ کسی ہسپتال کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کے ایچ پر کلک کریں۔ اس کے بعد آپ کی سکرین پر ہسپتال کا نام ظاہر ہوگا اور ساتھ میں بستروں اور وینٹی لیٹرز کی معلومات۔ اگر آپ اس ہسپتال تک جانے کا راستہ جاننا چاہتے ہیں تو ہسپتال کے نام کی دائیں جانب ایک لال رنگ کے دائرے میں تیر جیسا نشان بنا ہوا ملے گا، اس پر کلک کرتے ہی یہ ایپ آپ کو گوگل میپ پر لے جائے گی جہاں سے آپ ہسپتال جانے کا راستہ معلوم کرسکتے ہیں۔بالکل یہی طریقہ ان لیبز کی معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

اس ایپ میں مزید کیا فیچرز ہیں؟

اس ایپ کو فون پر کھولنے کے بعد سکرین پر سب سے پہلے آنے والا فیچر ہے ‘ڈیش بورڈ’۔ یہ فیچر آپ کو پورے پاکستان میں کرونا کے کُل کیسز کی تعداد بتاتا ہے جن میں سے صحت یاب یاب ہونے والے اور پیچیدہ کیسز کی تعداد بھی الگ سے بتائی جاتی ہے۔ ساتھ ہی کرونا سے ہونے والی اموات کے اعداد بھی بتائے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف پورے پاکستان سے پچھلے 24 گھنٹوں کا ڈیٹا شیئر کرتا ہے بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں سے بھی یہ معلومات آپ کو دیتا ہے۔

اس کے علاوہ ‘ریڈیئس الرٹ’ نامی فیچر سے آپ کو یہ معلومات حاصل ہو سکتی ہیں کہ آپ کے اطراف میں کرونا وائرس کے کتنے مریض ہیں۔ اس فیچر میں کرونا کے مریض اپنی جانب سے خود کو ڈکلیئر کرسکتے ہیں جس کے لیے ان کا نام، فون نمبر اور شناختی کارڈ نمبر کا اندراج ضروری ہے۔اس کے بعد ہے ‘کووڈ 19 اسیسمنٹ ٹول’۔ یہ اس ایپ کا وہ معلوماتی مرکز ہے جہاں سے آپ چند سوالات کے جوابات دے کر یہ معلوم کرسکتے ہیں آپ کو کرونا وائرس ہونے کا خدشہ ہے یا نہیں۔ اس مختصر سے امتحان میں آپ کا شہر، سفری معلومات، کرونا کے کسی مریض سے رابطے میں آنے اور کرونا کی علامات کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے۔ ان جوابات کی بنیاد پر یہ ٹول آپ کو یہ بتاتا ہے کہ کیا آپ میں کرونا وائرس کی موجودگی کا خدشہ ہے یا نہیں۔

اسی طرح کا ایک اور ٹول کا نام ‘کرونا چیٹ باٹ’ ہے۔ اس ٹول کے ذریعے آپ کرونا وائرس سے متعلق ضروی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ معلومات آپ کو اس ایپ کے ایک اور فیچر ‘اویئرنس ویڈیوز’ سے بھی مل سکتی ہے۔ان تمام کاموں کے بعد اگر آپ اپنے ہاتھ دھونا بھول جائیں تو یہ ایپ آپ کو یہ بھی یاد دلائے گی، اپنے ‘واش ہینڈز’ فیچر کے ذریعے۔ اس میں ہاتھ دھونے کا طریقہ بھی موجود ہے مگر یہ فیچر صرف کچھ فونز میں صحیح سے کام کرتا ہے، باقی فونز میں اس کے ‘پش نوٹیفیکیشنز’ کھولنے کے باوجود بھی یہ ایپ ہاتھ دھونے کے بارے میں یاد نہیں دلاتی، اس لیے بہتر ہے کہ یہ ایک ضروری کام ہم خود یاد رکھ لیں۔

About BBC RECORD

Check Also

منٹوں میں نئے کام کے لئے تیار ہونے والے ’گرگٹ‘ سیٹلائٹ

Share this on WhatsAppآسٹن، ٹیکساس: اس وقت سینکڑوں ہزاروں سیٹلائٹ مختلف مداروں میں زیرِ گردش ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے