خواتین کی عالمی جدوجہد: چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

’ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے میں کبھی بھی یہ سوچ کر بڑی نہیں ہوئی کہ میری جنس میری زندگی کے کسی بھی مقصد کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔ آخر میں نیوزی لینڈ کی پہلی نہیں بلکہ تیسری خاتون وزیراعظم ہوں۔‘

یہ تاریخ ساز الفاظ نیوزی لینڈ کی 38 سالہ سربراہ مملکت کے ہیں جو مجھے ذاتی طور پر بہت متاثر کرتے ہیں۔ میں نے جسینڈا آرڈن کا نام پہلی مرتبہ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر ہونے والے حملوں کے بعد سنا۔ یہ جسینڈا کے دور حکومت میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جس کے بعد بطور وزیراغظم انہوں نے اپنے ہمدردانہ رویّے اور بروقت فیصلہ سازی کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی آج جب پوری دنیا کرونا کی وبا کے باعث شدید مسائل سے دوچار ہے، تو جسینڈا اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے اپنے ملک کو اس شدید بحران سے نکالنے میں کامیاب رہی ہیں جس کی بدولت وہ ایک بار پھر عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔

لیکن جسینڈا وہ واحد خاتون سربراہ مملکت نہیں جنہیں موجودہ صورت حال میں اپنے مثالی اقدامات کی وجہ سے سراہا جا رہا ہے۔ تائیوان کی صدر سائی اینگ وین، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فن لینڈ کی وزیراعظم سنا میرین کی بروقت اور معقول فیصلہ سازی کی بدولت ان کے ممالک وبا پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔خواتین کی سیاست میں شمولیت بالخصوص بطور سربراہ مملکت دنیا بھر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اس تناظر میں اگر اپنے وطن پاکستان کو دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہمارا ملک اس سنگ میل کو آج سے 30 سال قبل عبور کر چکا ہے جب ہمارے عوام نے بے نظیر بھٹو کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا جو اس وقت وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے والی دنیا کی کم عمر ترین سربراہ مملکت تھیں۔

تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ اسی ملک میں خواتین کی عملی سیاست میں شرکت کی شرح انتہائی کم ہے؟ 2018 کے عام انتخابات کے بعد ایوان بالا کی کل نشستوں پر منتخب ہونے والے 104 ارکان میں سے 19 فیصد اور ایوان زیریں کی کل 341 نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان میں محض 20 فیصد خواتین شامل ہیں۔ جبکہ یہ تعداد خواتین کی ایوان زیریں میں موجودہ شرح کی 24 فیصد عالمی اوسط سے بھی کم ہے۔پارلیمانی ارکان میں خواتین ارکان کی موجودہ شرح کے لحاظ سے عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے کی جانے والی درجہ بندی کے مطابق پاکستان کا نمبر سواں ہے جبکہ مشرقی افریقہ کا ملک روانڈا ایوان زیریں میں خواتین نمائندگان کی 61 فیصد اور ایوان بالا میں 35 فیصد شرح کے ساتھ سرفہرست ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ گلوبل جینڈر انڈیکس میں روانڈا کی موجودہ رینکنگ نو ہے جسے کبھی صنفی مساوات کے اعتبار سے دنیا کے بد ترین ممالک میں شمار کیا جاتا تھا ۔ یہ ایک ترقی پزیر ملک ہے جہاں 1994 میں تتسی قبیلے کے خلاف سو دن تک جاری رہنے والی قتل و غارت کی ایک منظم مہم کے دوران آٹھ لاکھ افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد میں اکثریت 80 فیصد خواتین کی تھی۔ اس کے علاوہ مردوں کی اکثریت یا تو مفرور تھی یا جیلوں میں قید۔

اس وقت روانڈا کی خواتین نے تصادم کے باعث پیدا ہوجانے والے قیادت کے فقدان کو پر کرنیکا بیڑا اٹھایا۔ سول سوسائٹی کے ارکان اور قانون دانوں نے مل کر مختلف قوانین کے تحت نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح دی بلکہ معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی۔تصادم کے نتیجے میں جنم لینے والی روانڈا کی موجودہ حکمران جماعت روانڈا پولیٹیکل فرنٹ کی جلاوطن کیے جانے والے افراد کی وطن واپسی کی تحریک میں بھی جماعت کی خواتین ارکان پیش رہیں۔

سال 2003 میں سیاسی شمولیت میں شرکت میں اضافے کے لیے پارلیمںٹ کی 30 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے اپنے طور پر بھی خواتین امیدواروں کے لیے کوٹا مختص کیا۔ ارکانِ پارلیمان میں موجود خواتین محض اپنے منصب پر موجود نہیں بلکہ قوانین کی تشکیل اور فیصلہ سازی میں بھی نمایاں کردار ادا کررہی ہیں۔ 1996 میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھںے والی خواتین ارکانِ پارلیمان پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا گیا جس کا مقصد نہ صرف اپنے ممبران کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے بلکہ اس کے ساتھ معاشرے کی خواتین کو بااختیار بنانا اور تمام ترحکومتی پالیسی اور قوانین کا معاشرے کے مختلف طبقات پر اثرات کا جائزہ لینا ہے

2006 میں اس فورم کی جانب سے صنفی تشدد کے خلاف ایک اہم بل متعارف کروایا گیا جس کی منظوری کے بعد ملک میں بہلی مرتبہ جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کو جرم قرار دے کر قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے لیے سخت سزا کا تعین کیا گیا۔ اس فورم نے نہ صرف ازدواجی ریپ جیسے سنگین جرائم کے خلاف سزا متعین کی بلکہ خواتین کے وراثتی حقوق کے حوالے سے بھی موثر قانون سازی کی۔

اس کےعلاوہ سپریم کورٹ کی اب تک کے سات چیف جسٹس میں سے چار خواتین رہیں، جبکہ کابینہ کے کل 26 ارکان میں سے 13 خواتین ہیں۔ اس حوالے سے اگر میں روانڈا کا موازنہ پاکستان سے کروں تو گلوبل جینڈر انڈیکس میں پاکستان151 ویں پوزیشن پر موجود ہے اور خواتین کی سیاست میں شمولیت کے اعتبار سے بھی تعداد متاثر کن نہیں۔ سیاست میں خواتین کی شرح میں اضافے کے لیے انتخابات میں کوٹے کے تحت نمائندگی کے ساتھ پارلمان میں نشستیں بھی مختص کی گئیں۔ اس کے علاوہ الیکشن قانون 2018 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کو پابند کیا گیا کہ عام انتخابات میں وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے کم از کم پانچ فیصد خواتین کو بطور امیدوار لایا جائے۔

تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود بیشتر سیاسی جماعتوں نے تو انتخابات میں کسی خاتون کو امیدوار نامزد ہی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ بھی عام طور پر جماعتیں محض کوٹے کو پر کرنے کے لیے خواتین امیدواروں کو منتخب کر تو لیتی ہیں مگر زیادہ تر خواتین کو بطور حکمت عملی ایسے حلقوں سے ٹکٹ جاری کیے جاتے ہیں جہاں ان کے جیتنے کے امکانات نہیں ہوتے۔حتیٰ کہ الیکشن 2018 میں یہ بھی دیکھںے میں آیا کہ ان میں سے بہت سی خواتین امیدواروں نے الیکشن مہم تک نہ چلاِئی۔ جبکہ مخصوص نشستیں بھی قابلیت یا جنس کے بجائے ذاتی پسند اور اقرباپروری کی بنا پر نوازی گئیں۔ اس کے علاوہ پارلیمانی عہدوں پر فائز خواتین اراکین کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو قومی اسمبلی کی 33 قائمہ کمیٹیوں میں سے صرف ایک کمیٹی کی سربراہی خاتون رکن کے پاس ہے۔ جبکہ سینیٹ کی 36 میں سے چھ قائمہ کمیٹیوں کی قیادت خواتین اراکین کے پاس ہے۔ موجودہ کابینہ کے کل 49 اراکین میں سے صرف چھ جبکہ پارلمانی سیکریٹری کے عہدوں پر41 خواتین اور 22 مرد اراکین فائز ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی خواتین تمام تر مسائل کے باوجود دیگر شعبوں کی طرح سیاست میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ موجودہ اراکین نے بھی کئی اہم قوانین کی تشکیل میں قابل غور کردار ادا کیا ہے لیکن مسلسل امتیازی سلوک، جنسی بنیادوں پر مزاحمت اور بے عزّتی، اور مساویانہ نمائندگی نہ ملنے کے باعث ان کا کردار اب بھی محدود ہے۔

ہر بحران میں کئی مواقعے بھی پوشیدہ ہوتے ہیں جو قوموں کی شاندار ترقی کو بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ جو قومیں اس بات ک سمجھ لیتی ہیں وہ دنیا میں اپنا ایک واضح مقام بنا لیتی ہیں۔ اس حوالے سے روانڈا کی مثال سر فہرست ہے جبکہ وطن عزیز میں قیام سے اب تک پیدا ہونے والے تمام سیاسی بحرانوں میں خواتین کی تاریخی جدوجہد کے باوجود گھر کی چار دیواری سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے عورت کی جہد مسلسل نہ جانے کب تمام ہو گی۔آج کی دنیا میں جہاں خواتین اپنی بے شمار صلاحیتوں کے ذریعے تصویر کائنات کے رنگوں کو چار چاند لگا رہی ہیں وہیں میں اپنی تحریر کا اختتام بھی اسی امید کے ساتھ کروں گی کہ ہمارا معاشرہ بھی ایک نہ ایک دن اپنے اس طبقے کی بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا قائل ضرور ہو گا اور عورت کی شخصیت کو روایتی تصور سے زیادہ پہچانا جائے گا لیکن معاشرے میں خواتین کے متحرک کردار کی مکمل بحالی، صنفی بنیادوں پر استحصال کے خاتمے اور جائز حقوق کی فراہمی تک ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا ہو گا۔

About BBC RECORD

Check Also

سشانت کا سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا، کنگنارناوت

Share this on WhatsAppممبئی: بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کا کہنا ہے کہ سشانت سنگھ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے