سعودی عرب، یمن میں تنازع ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے: جنرل میکنزی

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب صدقِ دل کے ساتھ یمن میں جاری تنازع کے ایک متفقہ حل تک پہنچنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

میکنزی نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف مڈل ایسٹ کو دیے گئے بیان میں کہی۔ یہ بیان امریکی مرکزی کمان نے ٹویٹر پر جاری کیا ہے۔ جنرل میکنزی نے واضح کیا کہ "بدقسمتی سے ان مذاکرات میں ایک تیسرا فریق بھی ہے جس کا نام ایران ہے. اس جنگ کے ختم ہونے میں ایران کا کوئی مفاد نہیں”۔

امریکی جنرل کے مطابق سعودی عرب مطلوبہ مقصد کے حصول کی کوشش میں اچھی نیت کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے . متعلقہ فریقوں کے درمیان سعودی عرب میں ہونے والے مکالمے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں .. یمن کے تنازع کے اختتام کے لیے سعودی عرب پوری دیانت داری سے کوشاں ہے۔

شام کے حوالے سے جنرل میکنزی کا کہنا تھا کہ "ہم سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی سپورٹ جاری رکھیں گے کیوں کہ یہ مقامی فورس ہے۔ بالآخر ایک طرح کی مقامی سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے یہ فورس ضروری ہو گی۔ ہم (شام میں) داعش کے خلاف کام کرتے رہیں گے”۔

About BBC RECORD

Check Also

ارنب گوسوامی اسکینڈل نے بھارت میں تہلکہ مچادیا، اپوزیشن کا پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ

Share this on WhatsApp بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ نئی دہلی بھارت میں متنازع ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے