ٹائیفائیڈ کیوں ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہے؟

’غذا اور دوستی میں اگر فتور پیدا ہوجائے تو شدید نقصانات جھیلنا پڑتے ہیں اس فتور سے مراد گندگی ہے، گندگی ہمیشہ کسی نہ کسی جراثیم کی افزائش کا باعث بنتی ہے۔ ٹائی فائیڈ فیور (حمی طیفوریہ) اسی قبیل (گروہ) سے ہے کہ گندے کھانوں سے پھیلتا ہے۔ اس بخار کا سبب جراثیم ’’ سیلمونیلا ٹائی فی ‘‘ ہے۔ یہ ایک متعدی مرض ہے جو ایک مریض سے صحت مند شخص کو پھیل سکتا ہے۔اس مرض کی مدّت اکیس ایام ہے یا اس سے زیادہ بھی رہ سکتا ہے۔

عموماًاس بخار میں باریک دانے جسم پر نکل آتے ہیں۔ یہ خصوصاً سینہ ،شکم اور پشت پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کا مرکز’’ آنتیں‘‘ ہیں۔ یہیں اس جراثیم کے بُرے اثرات خون میں شامل ہوتے ہیں۔ اس بخار کے جراثیم چھوٹی آنتوں کے غدود میں ورم اور قرح (وہ زخم جس میں پیپ بھی پیدا ہوجائے) پیدا کرتے ہیں۔ یہ جراثیم جگر ، تلی، پتہ، دماغ کی جھلیاں اور ہڈی کے گودے میں بھی سرایت کر جاتے ہیںاور فضلات کے ذریعے خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اِن کی افزائش آنتوں میں بہت تیزی سے ہوتی ہے۔ جو دانے جسم پررونما ہوتے ہیں یہ جراثیم ان دانوں کے مواد میں بھی موجود رہتے ہیں۔

ٹائیفائیڈکے اسباب: پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والے ’’ٹائی فائیڈ‘‘ بخار کا ذمہ دار جراثیم2تا 5 مائیکرون طویل اور0.5 تا 1.5 مائیکرون عریض ہے۔ اس مرض کے پھیلنے کا ذریعہ مریض کے بول و براز کے علاوہ مریض کا پسینہ اور تھوک ہیں۔ بعضعلاقوں میں یہ مرض ایسے کنوؤں اورتالابوں سے پھیلتا ہے جس میں کسی مریض کے فضلات شامل ہوں، نیز کچے دودھ، گندے پانی سے کاشت کی گئی سبزیاں، مریض کے برتن، کپڑے وغیرہ سے مرض منتقل ہوتا ہے۔یاد رہے کہ اس مرض سے شفاء یاب ہونے کے بعد بھی کچھ لوگوں کے فضلات میں اس مرض کا جراثیم مہینوں تک خارج ہوتا رہتا ہے۔یہ بیماری گرم ممالک ، برسات اور تیز گرم موسم میں زیادہ پھیلتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ مرض زیادہ تنگ کرتا ہے۔ بعض اشخاص میںاس مرض کے خلاف قوتِ مدافعت کمزور ہونے کی وجہ سے یہ مرض دوسروں کی نسبت جلدی ہوجاتا ہے، اس مرض کے خلاف قوتِ مدافعت کمزور کرنے میں ہاضمے کی کمزوری ، زیادہ تفکرات، دلی دکھ، خراب غذاؤں کا زیادہ استعمال مدد گار ہوتے ہیں۔

مدّت حصانت، جراثیم کے داخل ہونے کے آٹھ سے پندرہ دن کے بعد یہ مرض ظاہر ہوتا ہے۔ اس مدّ ت کا انحصار جراثیم کی مقداراور طاقت پر ہے، بعضافراد میں تین دن سے ایک ماہ کے بعد یہ مرض ظاہر ہوتا ہے، بعض اشخاص میں پانچ دن اور بعض میں بائیس ایام بعد بھی ظاہر ہوتا ہے۔علامات، چھٹے سے بارہویں روز تک سینے ، پشت، اور پیٹ پر چھوٹے چھوٹے گول دانے نکل آتے ہیںاور آپس میں مل کر گلابی دھبے نما بن جاتے ہیں، انہیں دبانے سے کچھ دیر تک انکی سرخی زائل ہوجاتی ہے پھر دوبارہ لوٹ آتی ہے یہ اس مرض کی خاص علامت ہے۔ کچھ لوگوں میں سفید اور چمکدار دانے نکلتے ہیں، کبھی یہ دانے پہلو، پشت، بازو او ر رانوں پر بھی نکلتے ہیں عموماََ تین ہفتے یا اس سے زائد عرصے تک پرانے دانے ختم اور نئے دانے بنتے رہتے ہیں، ہر دھبہ تین سے چار دنوں میں غائب ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں:

1۔ بخار ( 102 تا 103 ڈگری فارن ہائیٹ)، 2۔ کمزوری، 3۔ پیٹ اور سر میں درد، 4۔ بعض لوگوں کو قبض اور بعض کو اسہال، 5۔ بھوک کی کمی، 6۔ خارش، 7۔ السر، 8۔ خشکی (خون کے گاڑھے ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے)، 9۔ سانس میں تنگی، 10۔ چہرہ کا زرد ہونا، 11۔ حرارت کا پانچ دن تک روزانہ 2 درجہ بڑھنا (یہاں تک کہ 103 تا 104 فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتی ہے، 12۔ آنکھ کی پتلی کا پھیلنا، 13۔ ہونٹ کا سیاہ ، زبان کا خشک ہونا نیز زبان کے دونوں طرف سفید تہہ جم جاتی ہے، 14۔کبھی نکسیر ہو جاتی ہے، 15۔ ناف کے نیچے دائیں جانب دبانے سے درد ہونا، 16) دست کا رنگ زرد اور قوام پتلا ہونا، کبھی ان میں خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے، 17۔ تلی بڑھ جاتی ہے، 18۔ بول کی مقدار کم،گاڑھا اور رنگ سیاہی مائل، 19۔دس سے چودہ ایام کے بعد بخارکبھی چڑھتا اور کبھی اترتا ہے، صبح کو بخار معتدل اور شام کو 101 ڈگری فارن ہائیٹ تک ہوجاتا ہے، پھر ایک دو دن بعد بخار صبح اور شام معتدل رہتاہے مگر جسمانی کمزوری رہتی ہے ۔ بخار بالکل ٹھیک ہونے سے چند دن قبل سے ہی بھوک محسوس ہونے لگتی ہے۔

ٹائیفائیڈ کے نتائج، 1) دل اور دماغ کی کمزوری، 2۔ ہاضمے کی شکایات،3۔ نیند اور سستی میں اضافہ، 4۔ زبان خشک اور چہرہ غبار آلود، 5۔ عضلات کا ضعف، 6۔ دانت پیلے،7۔ ہونٹ پر پپڑیاں، 8۔ بول وبراز کا بعض اشخاص میں رکنا اور بعض کا بے ارادہ خارج ہونا (حالتِ طیفوریہ)،9۔ پھیپھڑوں کے عروقِ خشنہ (برانکیولز) میں ورم۔

ٹائیفائیڈ کا علاج:

ماڈرن ہربلزم : برگ ِ نیم، ادرک، لہسن، سہانجنہ کے پتے کا قہوہ پئیں،ساتھ پپیتہ کے بیج بھی کھلائیں۔ مقدار ِخوراک بمطابق عمر اور وزن، 20 منٹ بعد’ سفوف زہرِ مہرہ آدھا گرام دیں۔

ایلوپیتھک علاج:

’فلوروکوئیونولون اینٹی بائیوٹک ‘، 20 منٹ بعد’پیراسیٹامول ‘2گولیاں دیں اور اسہال کے لیے کیولین پاوڈردیں۔ اکثر معالج تشخیص پر کم توجہ دیتے ہیںاور جس مرض کا زیادہ لوگ شکار ہوں اس مرض کی دواء دیتے ہیں، اس سے پرہیز کریں۔

ٹائی فائیڈ سے کیسے بچیں؟

1۔ ہاضمہ درست رکھیں، 2 ۔قبض نہ ہونے دیں، 3 ۔ اُبلا ہوا پانی استعمال کریں، 4 ۔ مریض کو ہوا دار کمرے میں رکھیں تاکہ تندرست لوگوں کو نہ پھیلے۔

About BBC RECORD

Check Also

نوازشریف کی واپسی کیلیے برطانیہ بھی جانا پڑا توجاؤں گا، وزیراعظم

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وزیراعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے