نہ ہسپتالوں میں جگہ، نہ آکسیجن سلنڈر میسر، مریض بدحالی کا شکار

نسیم الغنی
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد
پاکستانی ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے۔ ہسپتالوں میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کے لیے مزید بستر میسر نہیں ہیں۔ گھر بھیجے جانے والے مریض بھی آکسیجن سلنڈر کی کمی کے باعث اپنی دیکھ بھال نہیں کر پا رہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی اعدادوشمار کے مطابق اسلام آباد میں 26 فروری سے عید الفطر (24 مئی) تک کورونا مریضوں کی تعداد محض 1592 تھی، جو اب بڑھ کر 8500 سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ اس طرح عیدالفطر سے اب تک اسلام آباد میں 7000 کے قریب نئے کیسز کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسز میں مردوں کی شرح 66.41 فیصد جب کہ خواتین کی شرح 33.59 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک سے 10 سال کے 657 افراد، 11 سے 20 سال کے 563 افراد ، 21 سے 30 سال کے 1665 افراد ، 31 سے 45 سال کی عمر کے سب سے زیادہ 1592 افراد، 46 سے 60 سال کے1588 افراد، 61 سے 80 سال کے 680 افراد، جبکہ 81 سال سے اوپر کے 50 افراد کورونا کا شکار ہیں۔

پنجاب سے بیوروچیف شبیر خان سدوزئی کے مطابق لاہور سے ڈاکٹر عمر شفیق نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ”حکومت نے لاہور میں کووڈ انیس کے مریضوں کے لیے 241 وینٹیلیٹرز مختص کیے تھے۔ آج کی تاریخ میں نوے فیصد وینٹیلیٹرز زیر استعمال ہیں۔ اس وقت مایو ہسپتال کے علاوہ لاہور کے تمام بڑے ہسپتالوں میں نہ ہی مزید مریضوں کے لیے وینٹیلیٹرز دستیاب ہیں اور نہ ہی بیڈز۔‘‘ ڈاکٹر شفیق کے مطابق مالی استطاعت رکھنے والے گھرانے اپنے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخل کرا رہے ہیں جہاں وہ یومیہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے ہسپتال کی فیس دے رہے ہیں۔ لاہور کی صورتحال بتاتے ہوئے ڈاکٹر شفیق کا کہنا تھا کہ جن مریضوں کو ہسپتال میں بیڈز کی کمی کے باعث گھر بھیجا جا رہا ہے وہ بھی آکسیجن سلنڈرز کی کمی اور ان کی مہنگی قیمتوں کے باعث اپنا خیال نہیں رکھ پا رہے۔


ڈاکٹر شفیق نے بتایا، ”تین سے چار ہزار روپے میں فروخت ہونے والا سلنڈر اس وقت مارکیٹ میں بیس ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ کووڈ انیس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بارہ ہزار روپے کی دوائی بلیک میں چھ لاکھ روپے تک میں فروخت کی گئی ہے۔‘‘ ڈاکٹر شفیق نے کہا کہ ملک میں پلازمہ عطیہ کرنے کی مہم اور غریب مریضوں کی مالی امدد کرنے کی مہم ڈاکٹر اور سول سوسائٹی کے اراکین مل کر چلا رہے ہیں۔ حکومت ہسپتالوں کی استطاعت نہیں بڑھا سکتی تو کم از کم مہنگے داموں طبی ساز سامان فروخت کرنے والوں پر تو قابو پانے کی کوشش کر سکتی ہے۔

خیبر پختونخواسے بیوروچیف عدیل شاہ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ڈاکٹر رضوان کنڈی نے بتایا، ”کورونا وبا کی صورتحال شدت اختیار کر گئی ہے۔ ہسپتالوں میں جو بیڈز کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص کیے گئے تھے وہ ختم ہو چکے ہیں۔ آئی سی یو میں بھی بیڈز میسر نہیں ہیں۔‘‘ ڈاکٹر کنڈی نے کہا کہ صوبے کا قریب تیس سے چالیس فیصد طبی عملہ کووڈ انیس سے متاثر ہو چکا ہے جن میں ساڑھے پانچ سو ڈاکٹرز شامل ہیں اور اب تک تین ڈاکٹرز ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔خیبر پختونخوا کے ایک اور ڈاکٹر فہیم اللہ محسود کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کا شروع سے یہی مطالبہ تھا کہ کورونا وائرس کے زور کو توڑنے کے لیے لاک ڈاون ضروری ہے۔ عید کے دنوں میں لاک ڈاون میں نرمی کی گئی اب حال یہ ہے کہ بیڈز ہی نہیں مل رہے۔ ڈاکٹر فہیم کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاون اثر نہیں کرے گا کیوں کہ لوکل ٹرانسمیشن بڑھ چکا ہے اب ملک میں مکمل لاک ڈاون کی ضرروت ہے۔

بیورو چیف بلوچستان کے مطابق سے ڈاکٹر رحیم خان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور عوام میں آگاہی کی کمی کے باعث ڈاکڑز کا مورال پستی کی طرف جا رہا ہے۔ ڈاکٹرز کے خلاف پروپگینڈا کیا جا رہا ہے اور کچھ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر رحیم نے بتایا کہ بلوچستان کے دو سو سے زائد ڈاکٹر کورونا وائرس ے متاثر ہوئے ہیں اور چار ڈاکٹرز اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔پاکستان میں لاک ڈاون سے متعلق حکومتی پالیسی واضح نہیں رہی۔ گزشتہ ہفتے عالمی ادارہء صحت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کو فوری طور پر لاک ڈاون کرنا ہوگا۔ پاکستان لاک ڈاون اٹھانے کی کسی ایک شرط کو بھی پورا نہیں کرتا۔

گزشتہ روز پاکستانی وزیر اسد عمر کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ حکومت اسمارٹ لاک ڈاون کی حکمت عمل پر کام کر رہی ہے۔ لاک ڈاون ست متعلق حکومتی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے سلمان صوفی فاونڈیشن کے بانی سلمان صوفی، جو خود بھی کورونا وائرس سے متاثر ہیں، نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”لاک ڈاون نے پوری دنیا میں مثبت نتائج دیے ہیں۔ حکومت کا موقف رہا ہے کہ ملک میں غربت ہے عوام کے پاس کھانے پینے کے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن اگر لوگ بیمار پڑیں گے تو وہ دوائیاں کیسے خریدیں گے اور علاج کیسے کرائیں گے۔ وہ گھر میں بھی اپنا خیال نہیں کر سکتے ہیں۔ لاک ڈاون فوری طور پر کیا جانا چاہیے معاشی نقصان تو ہوگا لیکن اگر بیماری بڑھے گی تو حکومت کو دوائیوں، طبی ساز وسامان کی بر آمد وغیرہ پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

نوازشریف کی واپسی کیلیے برطانیہ بھی جانا پڑا توجاؤں گا، وزیراعظم

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وزیراعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے