اٹلی میں کینیڈا سے ترکی اور لیبیا کے لیے چُرا کرلائی گئی لگژری کاروں کی کھیپ ضبط

اٹلی کی ریاستی پولیس نے کینیڈا سے چُرا کر لائی گئی لگژری گاڑیوں کی کھیپ ضبط کرلی ہے۔ یہ گاڑیاں ترکی اور لیبیا میں فروخت کے لیے لائی گئی تھیں۔
مقامی میڈیا رائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے تیس گاڑیاں ضبط کی ہیں اور ان کی مالیت 15 لاکھ یورو سے زیادہ ہے۔انھیں اٹلی کی دو بندرگاہوں سالرنو اور جیویا کے ذریعے دو ممالک میں منتقل کیا جارہا تھا۔ جیویا کی بندرگاہ پر کسٹم حکام نے چار مختلف مال بردار جہازوں پر لدے 25 کنٹینروں کی خصوصی اسکینروں کے ذریعے مکمل تلاشی لی ہے۔پھر انھوں نے راہداری دستاویزات کا جائزہ لیا ہے۔

ان کنٹینروں پر 100 گاڑیاں لدی ہوئی تھیں۔حکام نے کینیڈین پولیس سے رابطے اور ان گاڑیوں کے شناختی نمبروں کی تصدیق کے بعد 30 گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان گاڑیوں کی مالیت 50 ہزار سے ایک لاکھ یورو کے درمیان ہے۔یہ ترکی اور لیبیا کی بندرگاہوں مرسین اور خمس میں منتقل کی جارہی تھیں اور انھیں وہاں متموّل افراد کو فروخت کیا جانا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ مال بردار بحری جہازوں کے ذریعے اشیاء اور گاڑیاں ترکی اور لیبیا لائی جارہی تھیں۔فروری میں اطالوی حکام نے ایک لبنانی پرچم بردار بحری جہاز کے کپتان کو گرفتار کر لیا تھا۔اس جہاز کو اطالوی بندرگاہ جینوآ پر پکڑا گیا تھا اور اس میں لیبیا کے لیے اسلحہ اسمگل کرکے لایا گیا تھا۔ان میں ٹینک اور توپ خانہ بھی شامل تھا۔اس جہاز کے کپتان نے مبیّنہ طور پر حکام کو بتایا تھا کہ اس پر ترکی کی بندرگاہ مرسین سے اسلحہ لادا گیا تھا اور اس کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے لیے بھیجا گیا تھا۔

18 فروری کو طرابلس کی بندرگاہ پر اسلحہ اور گولہ بارود سے لدے ایک ترک جہاز کو میزائل حملے میں تباہ کردیا گیا تھا۔ترکی لیبیا میں اسلحہ کے علاوہ شامی جنگجوؤں کو بھی قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت میں خلیفہ حفتر کی فوجوں کے خلاف لڑائی کے لیے بھیج رہا ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق لیبیا میں اب تک 11600 اجرتی جنگجوؤں کو بھیجا جاچکا ہے اور قریباً ڈھائی ہزار کو یکم جون کو ترکی میں تربیت کے لیے بھیجا گیا تھا

About BBC RECORD

Check Also

پاکستان میں حقیقی امن افغانوں کے امن و سکون سے مشروط ہے، وزیراعظم پاکستان

Share this on WhatsAppڈاکٹر زولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد پاکستانی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے