پہنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء سے نتائج کا حصول ممکن نہیں ۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی

پہنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء یکم مئی 2020ء کو نافذ ہو چکا۔ قانون کے مطابق چھ ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرا کر نومبر سے قبل ادارے منتخب نمائندوں کے حوالے کئے جانے ہیں۔اس ایکٹ کو روبہ عمل لانے کے لئے عمران خان نے اپنی حکومت کے ڈیڑھ سال ضائع کر دیئے. لگتا ہے کہ ایکٹ کے لئے کی جانے والی مشق سے پی ٹی آئی وہ نتائج حاصل نہیں کر سکے گی جو تعمیر و ترقی کے حوالے سے عمران خان کا خواب اور نیت ہے ۔ ظاہر ہے تعمیر و ترقی خصوصا شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کا دارومدار نیتوں پر نہیں اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنے پر ہے۔ تیسرے درجہ کی بلدیاتی حکومت یا لوکل گورنمنٹ ہی وہ واحد ادارے ہیں جن کو مالی اور انتظامی طور پر مضبوط، خود مختار اور خود کار بنائے بغیر تعمیر و ترقی کا مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا جو آج کی معزز دنیا میں ترقی کا ماڈل ہے۔ عمران خان ترقی یافتہ دنیا سے منسلک ہے اور ترقی کے ماڈل کو سمجھتا بھی ہے، گزشتہ دور حکومت میں کے پی کے میں بلدیاتی اداروں کو کچھ اختیارات کے ساتھ منتخب نمائندوں کے حوالے کر کے وہ ایک کوشش کر بھی چکے۔ اسی بنیاد اور امید کے ساتھ عوام ان کو ایوان میں لائیے کہ وفاقی سطح کی حکومت ملنے کے بعد ملک بھر میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی مگر ابھی انتظار ہے ۔ پہنجاب بلدیاتی ایکٹ 2019ء کے مطالعے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انتظار مذید ساڑھے تین سال رہے گا اس وقت تک جب خان صاحب کی حکومت کا دورانیہ ختم ہو گا۔ بلدیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ پاس ہونے والے ایکٹ سے نتائج کا حصول مشکل ہے خواہ نیت اچھی ہی کیوں نہ ہو پہنجاب کے بلدیاتی ادارے اس ایکٹ کے بعد مضبوط نہیں محتاج ہوں گے ہیں ان کمیشنوں کے جو ان پر بلاجواز مسلط کر دئے گئے ہیں ۔نئے ایکٹ کے تحت افسران کی تعیناتیاں ہو چکی اور اداروں نے کام شروع کر دیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان مشکل میں ہے اور ہر شاخ پر مافیہ کا قبضہ ہے۔ جہاں معاملے کو درست کرنے کی کوشش ہوتی ہے وہی خرابی ہو جاتی ہے، چینی بحران ہو، آٹے کا مسئلہ، پٹرول کی کمی کا سامنا ہو یا مہنگائی کا کنٹرول کوئی شعبہ بھی قابو میں نہیں آ رہا۔ خان صاحب صاف دل اور نیک نیت انسان ہیں اس لئے ان کی باتیں لوگوں کو اچھی لگتی ہیں لیکن تقریریں اسی وقت عوام کو متاثر کرتی ہیں جب لیڈر اپوزیشن میں ہو، حکومت میں وسائل ہوں یا نہ ہوں سیلاب ہو زلزلہ یا کرونا وائرس عوام زمین پر نتائج مانگتے ہیں اور دنیا بھر میں جہاں ترقی نظر آتی ہے وہ تیسرے درجے کی حکومت یعنی انتظامی اور مالی طور پر مضبوط، خود مختار، بااختیار اور خود کار مقامی حکومت ہی کی وجہ سے ہے۔ عمران خان کی تقریروں میں مقامی حکومت کے نظام کے حوالے سے واضح پیغام تھا کہ ان اداروں کو ملک کی ترقی کی سیڑھی بنایا جائے گا اسی لئے لوگ انتظار کر رہے تھے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ کا بلدیاتی نظام کیسا ہو گا تاکہ دیگر صوبوں اور وفاقی علاقوں میں اس کو ماڈل کے طور پر اپنایا جائے ۔

لگتا ہے کہ پہنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء میں بھی عمران خان کے ساتھ دھوکہ ہو گیا۔جیسے چینی کی سبسڈی میں ہوا۔ میرا بلدیاتی تجربہ کہتا ہے کہ نافذ کئے گئے بلدیاتی قوانین میں اتنا الجھاو ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہو گا اداروں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رابط نہیں ۔کئی نا کئی بیوروکریسی کی ٹانگ کو پھنسایا گیا ہے۔ منتخب نمائندے ٹائیگر فورس سے ہی کیوں نہ ہوں، ٹانگ کی کنچا تانی میں الجھ کر پریشان ہی ہوں گے ۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ نافذ ہونے والا بلدیاتی نظام دو مسودوں میں منظور ہوا جو خاصا پیچیدہ ہے ۔(1) پہنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 (2) پنجاب ویلج پنچائیت اینڈ نیبرہوڈ کونسل ایکٹ 2019۔ شہری علاقوں میں چار درجے قائم ہوں گے، میٹروپولیٹین کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیاں، اور ٹاؤن کمیٹیاں۔ یہ 2013 ایکٹ کے قریب ہے۔ اگر ایسا ہی کرنا تھا تو ڈیڑھ سال ضائع کرنے کا کیا جواز ہے۔ البتہ اس میں نئی بات یہ ہے کہ 9 شہروں کو میٹروپولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے جن کے اختیارات میں بھی اضافہ ہو گا یقینا ان شہروں کے عوام کو اس سے فائدہ ہو گا جن میں گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، ساہیوال، بہاورلپور، ڈیرہ غازی خان اور لاہور کے دو اضلاع شامل ہیں۔

ضلعی و تحصیل کونسل ختم کر کے "ویلج اینڈ نیبرہوڈ کونسلز” کا نظام متعارف کرایا گیا ہے ۔ دیہی علاقوں کے لیے ویلج کونسلز اور تحصیل کونسلز متعارف کروائی گئی ہیں تاہم ان دونوں اداروں کا آپس میں کوئی انتظامی یا قانونی ملاپ نہیں ہے۔ بات یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ پنجاب ویلج پنچائیت اینڈ نیبرہوڈ کونسل ایکٹ 2019 میں بھی کئی وضاحت نہیں کی گئی کہ نیبرہوڈ کونسل کن علاقوں پر بنائی جائیں گی تاہم عام رائے ہےکہ یہ ادارے بڑے شہروں کے ان علاقوں میں قائم کئے جائیں گے جو نہ تو میٹروپولیٹن کارپوریشن میں آتے ہیں اور نہ ہی دیہی علاقوں میں۔ اگر ایسا ہے تو یہ ادارے بالکل غیر ضروری اور علاقے کو ترقی دینے کے بجائے خرابیوں کا باعث بنیں گے ۔اس سے بہتر یہ ہوتا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی حدود میں اضافہ کر کے مئیر کو ان علاقوں کی ترقی کی ذمہ داری دی جاتی۔ مضافاتی علاقوں کو ٹاون پلانگ کے قانون اور ضابطہ میں لایا جاسکتا تاکہ کچی آبادی اور بے ہنگم تعمیرات کے تصور اور جاری عمل کو روکا جاتا ۔ اس کا ایک تجربہ کراچی میں ہوا کہ شہر کے اندر اور قرب و جوار میں کچی آبادیاں تعمیر ہونا شروع ہوئیں شہری اداروں نے ان کو آون نہیں کیا ۔آج کراچی میں سب سے زیادہ مسائل ان کچی آبادیوں کی وجہ سے ہیں جن کو مالکانہ حقوق تو مل گئے مگر ٹاون پلانگ نہ ہونے کے باعث مسائل کا شکار ہیں۔ پہنجاب کے بڑے شہروں کے لئے بنایا گیا بلدیاتی نظام چند سال بعد کراچی جیسے مسائل پیدا کرئے گا۔جہاں بڑے شہروں کے اطراف حکومت 20 سے 25 ہزار آبادی کے حامل نیم شہری قصبوں میں ایک نیا ادارہ قائم کرنے جارہی ہے جس کا نام نیبر ہوڈ کونسلز ہو گا ۔ان علاقوں کا دہی علاقوں کی تحصیل کونسلوں اور شہری علاقوں کی میٹروپولیٹین کارپوریشن یا مونسپل کمیٹیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جب کہ چند سال بعد یہ علاقے میٹروپولیٹن کا حصہ تو ہوں گے مگر یہاں ٹاون پلانگ کا فقدان ہو گا۔ اس لیے کہ نیبر کونسل ایک چھوٹا مگر خود مختار ادارہ ہوگا جس کی حدود میں کوئی دوسرا ادارہ مداخلت نہیں کر سکتا اور خود اس کے پاس انفراسٹرکچر نہیں ہو گا جو مکمل ٹاون پلانگ کی نگرانی کر سکے ۔اس کے ارکان کی تعداد پانچ سے آٹھ ہوگی

جبکہ ویلج کونسل کے ممبران کی تعداد تین سے پانچ ہوگی۔ ان کے انتخابات غیر جماعتی ہوں گے ۔32 سو 81 یونین کونسلز کی جگہ اب 22 ہزار ولیج کونسلز قائم کی گئی ہیں جن پر انتظامی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو گا ۔ 35 اضلاع میں ضلع کونسلز ختم کر کے 138 تحصیل کونسلز بنائی گئی ہیں۔ خوف ناک بات یہ ہے کہ قانون کے مطابق وزیر خزانہ کی سربراہی میں 13 افراد پر مشتمل لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن قائم کیا جائے گا وزیر بلدیات شریک چئیرمین صوبائی سیکرٹری خزانہ کمیشن کا سیکرٹری سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ دو ممبران کا انتخاب میٹروپولیٹن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیز اور ٹاؤن کمیٹیوں کے سربراہان میں سےجبکہ دو کا چناؤ تحصیل کونسلزسے قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔یہ ارکان ایک سال کے لیے ہوں گے اور چار ماہرین کو حکومت مقرر کرے گی ۔کمیشن ہر مالی سال کے پہلے مہینے میں مقامی حکومتوں کی سالانہ مالی کارکردگی پرمبنی ایک رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ ایک دوسرا ادارہ مقامی حکومتوں کے کام کی نگرانی اور رپورٹنگ کے لئے قائم کیا جائے گا

جو ‘انسپکٹروٹ آف لوکل گورنمنٹ’ کہلائے گا جس کا سربراہ انسپکٹر جنرل ہوگا۔ اس قانون کے تحت مقامی حکومتوں کے اوپر ایک تیسرا ادارہ لوکل گورنمنٹ کمیشن ہو گا جس کا سربراہ صوبائی وزیر بلدیات ہو گا جب کہ وزیر اعلی اور قائد حزب اختلاف اسمبلی میں سے دو ،دو ممبر نامزد کریں گے۔صوبائی سیکرٹری قانون، سیکرٹری بلدیات اور 20 سال کا بلدیاتی تجربہ رکھنے والےچار ماہرین اس کمیشن کے رکن ہوں گے جن کو حکومت نامزد کرے گی ۔ایک چوتھا ادارہ جو ہر ضلع کی سطح پر قائم ہو گا وہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیشن ہو گا جس کے پانچ ممبر ہوں گے۔جس کا سربراہ متعلقہ مقامی حکومت کا چیف آفیسراور اس کا ہمراہ ماہر انجنئیر ہو گا۔ ایکٹ میں یہ واضح نہیں کہ بقیہ تین یا تین سے زیادہ افراد کون سے ہوں گے۔ مقامی حکومت کے نظام سے متعلقہ تمام ہی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پہنجاب میں متعارف کرایا گیا بلدیاتی نظام انتہائی پیچیدہ اور ناقابل عمل ہے، چھوٹے شہریوں یا ڈسٹرکٹ کی تو بات ہی نہیں لاہور سمیت میٹروپولیٹن کارپوریشن کا مئیر چار مختلف نوعیت کے کمیشنوں اور اداروں کی موجودگی میں جو ہر وقت ان کے سر پر رئیں گے کس طرح آزادی اور خود مختاری کے ساتھ کام کر سکتا ہے اتنے بڑے بھاری بھرگم کمیشنوں جس میں سنئیر سیاست دان اور بیوروکریسی موجود ہو جنہوں نے ماضی میں ان اداروں کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا ان کے زیر سایہ یہ ادارے کس طرح پنپ سکتے ہیں ۔۔ منتخب نمائندوں کو بے اختیار کر کے غیر ضروری طور پر کمیشن اور صوبائی سطح پر ادارے قائم کئے گئے جس میں صوبائی بیوروکریسی اور کابینہ و اسمبلی ممبران کو مداخلت کا راستہ دیا گیا جو آج تک اس نظام کو پنپنے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے ۔۔ جن لوگوں نے اس نظام کو تسلیم ہی نہ کیا ہو عمران خان کو ان سے خیر کی توقعات ہیں کہ صوبے میں تعمیر و ترقی کا انقلاب برپا ہو گا ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا اگر اس نظام میں فورا تبدیلی کر کے بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی خود مختاری نہیں دی گئی تو 2023 میں خان صاحب اسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں آج ہیں بلکہ پاکستان آج سے زیادہ مسائل میں ہو گا ۔۔۔بڑے شہروں کے مسائل میں زیادہ اضافہ ہو گا ۔

About BBC RECORD

Check Also

کرونا وائرس:ایران اپنے بچّہ مزدوروں کو کیوں مورد الزام ٹھہرا رہا ہے؟

Share this on WhatsAppتحریر؛ شہزادی نور پہلوی دنیا کی حکومتوں کو جب لاکھوں نہیں، صرف ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے