حوثیوں کا دباؤ … اقوام متحدہ نے یمن میں اپنے انسانی حقوق کے نمائندے کو فارغ کر دیا

اقوام متحدہ میں باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن نے یمن میں اپنے نمائندے ڈاکٹر العبید احمد العبید کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت حوثی ملیشیا کے مطالبے کی بنا پر سامنے آئی ہے۔

مقامی نیوز ویب سائٹس نے مذکورہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی عہدے داران کی جانب سے انسانی حقوق کے نمائندے کے خلاف کئی ماہ سے جاری تنازع کے بعد ہائی کمیشن حوثیوں کے دباؤ کے آگے کمزور پڑ گیا۔ کمیشن نے اپنے نمائندے کو عہدے سے برطرفی سے آگاہ کر دیا۔صنعاء میں حوثی ملیشیا نے کل بدھ کے روز اقوام متحدہ کی عمارت پر دھاوا بول کر انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کو بند کرا دیا۔ حوثیوں کی جانب سے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ کمیشن کے رابطہ کار نے ان کے ساتھ تعاون کرنے اور اپنے کارکنان کے متعلق رپورٹیں پیش کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ادھر یمن کے انسانی حقوق کے وزیر محمد عسکر نے ایک اخباری بیان میں اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے دفتر کے ڈائریکٹر کی تبدیلی کے لیے حوثی ملیشیا کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہو۔ عسکر کا کہنا تھا کہ "حوثیوں کے آگے جھک جانا اور ان کی بات قبول کرنا بذات خود ایک خلاف ورزی ہے جس سے اقوام متحدہ اور اور اس کی ذیلی تنظیمیں اپنا بہت سا اعتبار کھو دیں گی”۔ڈاکٹر العبید نے اکتوبر 2016 سے یمن میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشن میں کام شروع کیا تھا۔ انہوں نے جون 2018 میں حوثیوں کی جانب سے صنعاء سے نکالے جانے تک اپنی ذمے داریاں انجام دیں۔

ڈاکٹر العبید اور حوثیوں کے درمیان اختلاف کی شروعات تعز میں انسانی حقوق کی خاتون کارکن رہام البدر کے قتل سے شروع ہوئی تھی۔ رہام نے بھی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے منصوبوں کے لیے کام کیا تھا۔ العبید نے بتایا تھا کہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کی جانب سے آنے والا میزائل رہام کی ہلاکت کا سبب بنا۔ اس بیان نے حوثیوں کو چراغ پا کر دیا اور انہوں نے ڈاکٹر العبید کو صنعاء سے نکال دیا۔

حوثیوں نے العبید پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کو پیش کی جانے والی تمام رپورٹیں پہلے حوثیوں کے سامنے پیش کیا کریں۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ العبید انسانی حقوق کی پامالیوں کا پتہ چلانے والے اپنے زمینی ذرائع کا انکشاف کریں۔ ڈاکٹر العبید نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں حوثیوں نے اکتوبر 2019 میں انہیں صنعاء میں داخل ہونے سے روک دیا۔ تاہم ڈاکٹر العبید نے اردن کے دارالحکومت عَمّان سے کام کرتے رہے۔یمن میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے دفتر کی جانب سے اس موضوع کے حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

شام میں گرفتارہونے والے امریکی تربیت یافتہ دہشت گرد کا دلچسپ بیان

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ بغداد شام میں پکڑے گئے دہشت ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے