ترکی جس فوجی حل کا خواہاں ہے اس سے لیبیا کے مصائب میں اضافہ ہو گا : قرقاش

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ انقرہ لیبیا میں جس عسکری حل کے لیے کوشاں ہے وہ لیبیا کے عوام کے مصائب کو طول دے گا .. اور یہ بین الاقوامی اتفاق رائے کے مخالف ہے۔جمعرات کے روز ٹویٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ لیبیا کے حوالے سے مصری منصوبہ، لیبیا میں امن و استحکام کی واپسی کے لیے عرب اور بین الاقوامی سیاسی عمل کی ٹھوس بنیاد بن چکا ہے۔

اماراتی وزیر نے زور دیا کہ ان کا ملک لیبیا میں فوری فائر بندی اور سیاسی راستے کو متحرک کرنے کے لیے قاہرہ کی کوششوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
اس سے قبل مصر اور امارات نے بدھ کے روز باور کرایا کہ "لیبیا میں صرف سیاسی حل ہی واحد قابل قبول راستہ ہے”۔ دونوں ملکوں نے لیبیا میں عسکری کارروائیوں کے روکنے اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

مصر اور امارات نے خبردار کیا کہ بیرونی طاقتوں کی حمایت یافتہ مسلح جماعتیں لیبیا کے شہر سرت میں عوام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔یاد رہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز ایک سیاسی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد لیبیا میں معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ السیسی نے بحران کے حل کے لیے عسکری آپشن کو پکڑے رہنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی حل ،،، اس بحران کے حل کا واحد راستہ ہے۔

یہ منصوبہ "اعلانِ قاہرہ” کے نام سے سامنے آیا ہے۔ منصوبے میں زور دیا گیا ہے کہ لیبیا کی یک جہتی کے حوالے سے تمام تر بین الاقوامی قرار دادوں اور پیر 8 جون سے فائر بندی کا احترام کیا جائے

About BBC RECORD

Check Also

امریکی قانون سازوں کا ٹرمپ سے سعودی عرب میں جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ واشنگٹن امریکی قانون سازوں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے