نہ نظر کو وقفِ عذاب کر!

تحریر؛ ڈاکٹر محمد آصف احسان

ہر روز صبح جب آپ نیند سے بیدار ہوں، اپنے آپ سے کہیں:’’آج میں جن لوگوں سے ملوں گا،ان میں مخلص و وفادار بھی ہوں گے اور بغل کے دشمن بھی، خدا ترس و مہربان بھی ہوں گے اور بغض و عداوت رکھنے والے بھی، فہم و دانش کے پیکر بھی ہوں گے اور جاہل و گنوار بھی، صلح جو دوست بھی ہوں گے اور جھگڑالو بھی، ستودہ صفات بھی ہوں گے اور تہذیب و شائستگی سے محروم بھی۔ میں جانتا ہوں کہ ہرشخص اپنے فطری رجحانات کی پیروی کرتا ہے۔ چناں چہ اگر کوئی میرے ساتھ برائی کرتا ہے یا جہالت کو روا رکھتا ہے، میں جواب میں تحمل و بردباری سے کام لوں گا۔ کسی سے حسد نہیں کروں گا، کسی پر بے جا تنقید نہیں کروں گا، منفی ذہنیت سے کنارہ کروں گا، شر میں بھی خیر کے پہلو تلاش کروں گا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ پورا دن اس طرح یکجا ہو کر گزاروں گا جیسے دو آنکھیں، دو بازو اور دو ہاتھ ایک دوسرے کا اٹوٹ سہارا ہیں۔‘‘

اس مشق سے آپ کے شب و روز آرام و سکون کا پرتاب نمونہ بن جائیں گے۔ جب آپ احساس برتری، بددیانتی، جھوٹ، خود ستائی، دشمنی، رذالت، عناد، گالم گلوچ، لگائی بجھائی، ناانصافی اور ہٹ دھرمی جیسی برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں گے اور برداشت، درگزر، عاجزی، فراخ دستی، کم گفتاری، مثبت ذہنیت اور نرم خوئی کا مظاہرہ کریں گے تو آپ کی زندگی میں کیف و سرور کی جھلک نمایاں ہو گی۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، آزما کر دیکھ لیں۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ہماری زیادہ تر پریشانیاں خود ساختہ ہوتی ہیں۔ہم خود ہی ان کو تخلیق کرتے ہیں اور خود ہی اپنی زندگی کو مبتلائے عذاب کرتے ہیں۔ بسا اوقات ہم ایسے من پسند خیالات و نظریات کے تانےبانے بنتے ہیں جو دلیل سے عاری اور سمجھ بوجھ کے یکسر خلاف ہوتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ محض جہلا ہی اس حماقت کے مرتکب نہیں ہوتے بلکہ اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی اس گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔

کرونا وائرس کی مثال لیں۔ میرے ایک دیرینہ دوست نے،جو اچھے خاصے تعلیم یافتہ ہیں،پاکستان سے مجھے فون کیا۔ چھوٹتے ہی گویا ہوئے:’’امریکا اور یورپ میں وائرس کے اعداد و شمار مبالغہ آمیز بلکہ جھوٹے ہیں۔‘‘ میں نے متانت سے پوچھا:’’ان ملکوں کو بدترین معاشی حالات کا سامنا ہے۔ اس مبالغہ آرائی میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟‘‘موصوف گویا ہوئے: ’’کفار کا ستارہ برگشتہ ہو! یہ ان ملکوں کی بڑی خطرناک چال ہے۔‘‘میں نے کہا:’’اس چال کی تفصیلات بتائیں، میں تو آج تک بے خبر ہی رہا۔‘‘

بولے:’’یہود و نصاری کی سازشیں بڑی گہری ہوتی ہیں۔ اس چال کی حقیقت واضح ہونے میں تیس چالیس سال لگ جائیں گے۔‘‘میں نے فون بند کر دیا۔
دو تین ماہ قبل پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد بہت کم تھی۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ متاثرین زیادہ ہیں حکومت اس لیے اصل تعداد چھپا رہی ہے تاکہ عوام کا معاشی بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔ مطلب یہ ہے کہ متاثرین کی تعداد زیادہ ہو تو مبالغہ آرائی، تعداد کم ہو تو فرائض سے غفلت۔ اس کیفیت میں مبتلا لوگ ذہنی طور پر بیمار ہیں اور کچھ نہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ اپنی خام لیاقت اور ناپختہ قوت فیصلہ کے ساتھ آسمان پر بھی کمند ڈالتے ہیں۔ حال ہی میں دنیا کے طول و عرض میں موجود ہزاروں،لاکھوں مسجدوں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اکثریت نے رائے زنی کی کہ اللہ تعالیٰ مخلوق سے ناراض ہے وہ نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے گھر میں داخل بھی ہوں۔ سوال یہ ہے ہم کیونکر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ جو مسجد جاتا ہے اللہ اس سے راضی ہے اور جو نہیں جاتا،اس سے ناخوش؟نبوت کا ابتدائی دور تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ا اور صحابہ کرام رضی الله عنهم لگ بھگ تین سال تک دار ارقم میں خفیہ طور پر نماز ادا کرتے رہے اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے جبکہ مسجد حرام برابر میں موجود تھی۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی الله عنه نے اسلام قبول کیا تو اہلِ ایمان نے پہلی مرتبہ بیت اللہ میں علانیہ نماز ادا کی۔ وہ لوگ جو انسانیت کا کمال اور کائنات کا جوہر تھے، کئی برسوں تک خانہ کعبہ میں باجماعت عبادت سے محروم رہے۔ کیا اللہ سبحانه و تعالىٰ ان سے برہم تھا؟ ادب اور ہوش مندی لازم ہے۔ اللہ رب العزت کی تدبیر مستحکم، سلطنت لامتناہی اور قدرت غیر فانی ہے۔ اس کا اقتدار مخلوق کے سجدوں کا محتاج نہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد روزبروز بڑھ رہی ہے۔ احتیاطی تدابیر اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے لوگوں کا طرزِ عمل قابلِ افسوس ہے۔ کچھ لوگ کرونا وائرس کے سرے سے منکر ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ وائرس کا بے محابا پھیلاؤ یہود و نصاری کی ’’ان سنی اور نادیدہ‘‘ سازشوں کا حصہ ہے اور کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ اللہ پر توکل ہو تو کرونا وائرس کا خاتمہ کیا، جلوہ طور بھی ممکن ہے (اگرچہ اپنا چال چلن فرعون وہامان جیسا ہو)۔ کیا ہم سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک کی ذات پر توکل اور معاذالله اسے آزمانے میں فرق ہے؟

ابن جوزی رحمة الله عليه بیان کرتے ہیں کہ ایک روز عیسیٰ عليه السلام پہاڑ کی چوٹی پر عبادت میں مشغول تھے۔ ابلیس آیا اور سوال کیا:’’آپ کا عقیدہ ہے کہ ہر معاملہ تقدیر کے تابع ہے اور کوئی شے بھی قضا و قدر کے دائرے سے خارج نہیں؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’درست، اسی طرح سے ہے۔‘‘ ابلیس بولا:’’اگر ہر چیز پہلے سے مقدر ہے تو آپ اس پہاڑ کی چوٹی سے جست بھریں اور اللہ پر توکل کریں کہ وہی ہو گا جو تقدیر میں لکھا ہے۔‘‘ حضرت عیسیٰ عليه السلام نے جواب دیا:’’اے ملعون! اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے، مخلوق کو حق حاصل نہیں کہ اسے آزمائیں۔‘‘
یقین کریں ہم ذہنی دباؤ اور پریشانیوں سے آزاد زندگی گزار سکتے ہیں، اگر تعصب اور منفی ذہنیت سے گریز کریں، اپنی رائے میں توازن پیدا کریں اور ایسے افکار و نظریات سے متاثر ہونا چھوڑ دیں جن کی حیثیت خس و خاشاک سے زیادہ نہیں۔؎

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر

About BBC RECORD

Check Also

طیب ایردوآن کی لیبیا پر چڑھائی سے یورپی یونین کو درپیش خطرات

Share this on WhatsAppتحریر؛ سلمہ محمد جنگ زدہ لیبیا میں ترکی کو داخل ہوئے چھے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے