لداخ میں کشیدگی۔۔دولت بیگ کا چرچہ ۔بھارت مشکلات میں

تحریر؛ بشیر سدوزئی

ایشیا کے دو بڑی ایٹمی طاقتیں چین اور بھارت ایک دوسرے کے بارے میں ایسے خاموش ہیں جیسے ان کی دوستی مثالی ہو۔ میڈیا خصوصا سوشل میڈیا کی جانب سے لداخ میں فوجوں کے درمیان کشیدگی کی خبریں، تصویریں اور ویڈیوز ریلیز ہونے کے باوجود وزیر دفاع راج باتھ سنگ کے علاوہ دونوں ممالک کے حکام نے اس حوالے سے لب کشائی تو نہیں کی لیکن دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خطہ میں کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے ۔ 14000 فٹ کی بلندی پر دونوں ممالک کے درمیان چھڑپیں غیر معمولی واقعہ نہیں تھا۔ پہلے بھی کئی جنگوں سمیت چھوٹی موٹی جھڑپیں معمول رہا ہے مگر نیو یارک ٹائمز کے مطابق لداخ میں چینی فوجیوں کا بھارتی فوجیوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جو نہ صرف اکسائے چن کے علاقے تک محدود رہا بلکہ ایک ہزار میل طویل سرحد تک پھیل گیا۔ ان واقعات کے بعد دونوں ممالک نے کثیر تعداد میں فوج اس علاقے میں تعینات کر دی ہے ۔ چین آرٹلری بکتر بند گاڑیاں، فوجی بردار ٹرک، کھدائی کرنے والی بھاری مشینری، کے ساتھ بھارتی علاقے پر قابض ہو گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑی جنگ کا خطرہ فی الحال نہیں ہے تاہم چین نے جو کام کرنا تھا وہ کر لیا۔ دولت بیگ پر قبضہ کر کے سی بیک کو محفوظ بنا لیا جس کے خلاف بڑے پیمانے پر سازشیں ہو رہی تھی۔

دولت بیگ جس کا آج کل دنیا بھر کے میڈیا میں چرچہ ہے، ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان ایک وسیع سرد ریگستان علاقہ ہے۔ گرمیوں کے دوران چند ماہ کے لئے اس میدان میں جنگلی گھاس اور پھول دکھائی دیتے ہیں، باقی اوقات اس کی سطح برف سے ڈھکی رہتی ۔ سردیوں میں درجہ حرارت منفی 55 ڈگری سیٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ یہاں سے چینی سرحد آٹھ کیلومیٹر اور سب سے قریبی انسانی آبادی سوکلومیٹر مورگو گاؤں ہے، جہاں بلتی نسل کے لوگآباد ہیں ۔ چین نے اس پر قبضہ کر کے سی پیک اور گلگت بلتستان کو محفوظ کر لیا جس کے خلاف سازشیں ہو رہی تھی۔ امریکا اور چین کے درمیان جاری سرد جنگ میں بھارت امریکا کا برید حرب و ضرب بن رہا ہے اور سی پیک کے خلاف سازش کا مین کردار بھی، ممکن ہے چین بھارت کو یہ پیغام دے رہا ہو کہ وہ امریکا کے زیادہ قریب جانے سے گریز کرے۔ پہلے ہی بھارت چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کے دباؤ میں ہے ۔ مغرب میں چین پاکستان میں سی پیک کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں مصروف ہے، امریکا، اسرائیل اور بھارت نہیں چاتے کہ یہ منصوبہ کامیاب ہو۔ وہ بھارت کو اکسا ریے ہیں کہ سی پیک کی شہ رگ شاہ راہ ریشم پر آمدورفت میں رکاوٹ ڈالی جائے چناں چہ بھارت پڑوسیوں کی سرحدوں پر ایسی حماقتیں کرتا ہے جس سے کشیدگی میں اصافہ ہو۔ مشرق میں نیپال طویل عرصے تک بھارت کی کالونی کے طور پر رہا جس کی خارجہ اور داخلہ پالیسی تک بھارت کے ہاتھ میں تھی اب نیپال چین کا قابل اعتماد دوست اور سی پیک میں شامل ہو چکا سری لنکا بھی سی پیک کا حصہ ہے جب کہ بھوٹان اور میانمار کے ساتھ چین تعلقات استوار کر رہا ہے ۔اس صورت حال میں مودی پریشان ہے۔

دنیا کہ بلند ترین محاذ پر یہ جھڑپیں اسی پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں ۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ پین گونگ جھیل کے اطراف ہونے والی اس جنگ میں بھارتی فوجی شدید زخمی ہوئے کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالنا پڑا ۔ چین نے سرکاری طور پر یہ نہیں کہا کہ ہمالیہ کے دامن میں چین کی کثیر فوج تمام تر جنگی سازوسامان کے ساتھ پہنچ چکی مگر چینی کمیونسٹ پارٹی کے غیر علانیہ ترجمان ” ڈیلی گلوبل ٹائمز” کے مطابق چین نے بھارت کی طرف سے سرحد کے قریب غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کے لئے اپنی سرحد کے قریب فوجیوں میں اضافہ کیا ہے ۔ بھارت نے سرکاری طور پر اس کی تردید نہیں کی کہ چینی طیارے اور ہیلی کاپٹرز لداخ میں نئے تعمیر کردہ ائر بیس پر پہنچ گئے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ پر چینی فوجیں اتر چکی ، ‏گیلون ندی (لداخ) سمیت تین مختلف مقامات پر چینی فوج 4-5 کلومیٹر تک سرحد سے آگے مورچہ بند ہے، پانچ ہزار کے قریب فوجی بھارتی قبضے کے علاقے لداخ میں داخل ہیں اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو ملانے والے راستے سری گوری کوریڈور کے قریب پہنچ چکے۔ دونوں ممالک کی جانب سے فوجیوں کو ہدایت ہے کہ ایک دوسرے پر گولی نہ چلائی جائے مگر مسلح افواج اس صورت حال میں کب تک خاموش رہ سکتی ہے ۔ کسی ایک جانب کی ذرہ سی غلطی سے بھی جنگ چھڑ سکتی ہے ۔اب کے بار جنگ ہوئی تو مودی کو ساری آنیاں جانیاں بھول جائیں گی چین کے ساتھ جنگ لڑنا تو دور کی بات ہے مرغی کی گردن نما، سری گوری کوریڈور پر اکر چین کا قبضہ ہو گیا

تو بھارت کے لئے شمال مشرق کی 8 ریاستوں کا دفاع مشکل میں پڑھ جائے گا ” ڈیلی گلوبل ٹائمز” نے بھارت کی جانب سے جن سڑکوں کی تعمیر کا اشارہ کیا وہ یہی کوری ڈور اور لداخ کی چوٹیوں پر ہونے والی تعمیرات تھی۔ جن کو چین کی فوجوں نے بزور طاقت بند کرایا۔ بھارت کی جانب سے ان ترقیاتی منصوبوں کا اجراء شہریوں کو سوک سہولتوں کی فراہمی نہیں بلکہ دفاعی حصار کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان پر جارحیت اور اکسائے چن میں چائنا فوجیوں پر برتری حاصل کرنے کی منصوبہ بندی تھی۔ جب کہ بھارت خاموشی کے ساتھ سری گوری کوریڈور کو کشادہ کرنے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے تھا جس کی بعض جگہوں پر چوڑائی 17 فٹ سے بھی کم ہے۔اس کوریڈور کے ذریعے بھارت شمال مشرق کی 8 ریاستوں سے منسلک ہے ۔ ان میں آسام، ارونا چل پردیش، ہمالیائی ریاست سکم، منی پورہ، میگھالیہ ، ناگالینڈ شامل ہیں، ان ریاستوں میں آباد باشندوں میں ہندو دھرم کے پیروکار بھی ہیں مگر اکثریت بی جے پی کے ہندوتاو فلسفے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ مختلف قبائل اور نسلی گروہوں میں تقسیم ہے۔ 84 ملین آبادی جو بھارت کی آبادی کا تقریبا 8% ہے کی آمدنی کا انحصار زراعت اور جنگل کی پیداوار پر ہے۔مودی حکومت کا شہریت ایکٹ ان ریاستوں میں برسوں سے مقیم باشندوں کو زمینوں اور جنگلات سے بے دخل کر کے نسل کشی کا قانونی جواز فراہم کرتا ہے جس سے وہاں کے عوام میں بھارت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دراصل مودی کا اس قانون سازی کے پیچھے ان علاقوں کے کروڑوں افراد کو اباو اجداد کی زمینوں سے بے دخل کر کے یہاں کنٹرول سخت کرنا تھا جہاں پہلے ہی سے علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ۔ ان تحریکوں میں سے کچھ افراد کشمیر کی تحریک آزادی کی طرح مسلح جدوجہد بھی کر ریے ہیں جو ماؤ باغی کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ ماضی میں یہاں علیحدگی کی تحریکیں فعال رہی، قدیمی باشندے اور قبائلی اپنی شناخت کے تحفظ کے بارے میں خاصے حساس ہیں۔ انہی ریاستوں میں سے ایک اروناچل پردیش ہے۔شمال میں عوامی جمہوریہ چین سے منسلک تاریخی لحاظ سے یہ ریاست چین کا حصہ تها۔چین اسی لئے اس پر بھارت کے قبضے کو غاصبانہ قرار دیتا ہے ۔ بھارت اور چین کے درمیان یہی مسئلہ بڑا تنازعہ ہے جس کے لئے 1962ء کی جنگ سمیت سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ بھارت ان 8 ریاستوں جہاں شہریت قانون کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا انتظامی کنٹرول کو سخت کرنے کے لئے واحد زمینی راستے سری گوری کوریڈور کو زیادہ کشادہ اور پختہ کرنے چاہتا تھا

مگر اس کی مضبوطی سے لداخ کے سرحدی علاقے میں چینی فوج کی سکورٹی مسائل پیدا ہوتے اس لیے چین نے یہ کام بند کرا لیا جس سے کشیدگی پیدا ہوئی ۔
اگر یہ کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو بھارت کا چین کے ساتھ مقابلہ ممکن نہیں ہو گا دونوں ممالک کی آبادی تو ایک جیسی ہے لیکن چین ایک مضبوط فوجی طاقت ہی نہیں دنیا کی اول اقتصادی طاقت بن چکا جو ایک قوم ہے۔ جب کہ آبادی کے لحاظ سے چین کے برابر ہو ے کے باوجود بھارتی ایک قوم نہیں ۔کانگریس کے نام نہاد سیکولر ڈیموکریٹک ہندوستان کے فلسفہ نے عوام کو جو ایک دوسرے کے ساتھ تھوڑا بہت جوڑ رکھا تھا بی جے پی کے ہندوتوا اور نازی ازم نے مکمل طور پر توڑ دیا ہے۔ اب بھارت کی مختلف اکائیوں میں یکجہتی نہیں ۔ تقریبا 30 کروڑ مسلمان مودی کی پالیسیوں سے نالاں ہیں، اتنی ہی تعداد کے دلتوں کو اعلی ذات کے ہندوں کی گندگی صاف کرنے پر مامور کیا ہوا ہے۔ جن کا قومی امور میں کچھ لینا دینا نہیں ۔ کشمیر پہنجاب اور شمال مشرقی ریاستوں سمیت 15 سے زائد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ۔ جنگ کی صورت میں یہ سارے لوگ جن کی تعداد 80 ،90 کروڑ سے زیادہ ہے انڈین فوج کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ اگر ملک کے اندر ہی اتنی بڑی افراتفری ہو گی تو فوج کیا کارگردگی دیکھا سکتی ہے

۔ چین فوری طور پر شمال مشرق کی 8 ریاستوں کو ملانے والے راستے سری گوری کوریڈور کو منقطہ کرنے کی پوزیشن میں ہو گا جب کے اس علاقے کے پڑوسی بھی بھارت سے زیادہ خوش نہیں نیپال، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور میانمار اگر چین کی حمایت نہیں کریں گے تو ایسے حالات میں جب یورپین یونین امریکہ کو چھوڑ کر چین کی طرف آ رہے ہیں تو چین کے پڑوسی ” بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ "کیوں بنیں گے۔رہی بات پاکستان کی تو پاکستان کو 1962ء کی طرح غیر جانبدار نہیں بلکہ کشمیر کے محاذ پر جنگ کے آغاز کے ساتھ کشمیری مجاہدین سمیت سکھوں اور بھارت سے آزادی کی خواہش مند دیگر علاقائی تنظیموں کی بھی مدد کرنی چاہیے خصوصا کشمیری مجاہدین کو وافر مقدار میں اسلحہ مہیا کیا جائے یہ پاکستان کی قومی ذمہ داری ہے کہ سری نگر کے قبرستان کو دیکھ لے شہداء کی قبروں پر پڑے ہوئے پاکستان کے پرچموں کی ہٹانے کی جرائت بھارتی فوج بھی نہیں کر سکتی۔ اس مرتبہ ہندوں کو ایسا سبق سیکھایا جائے ایک طرف چین دوسری طرف پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین مودی کے گھمنڈ اور بی جے پی کے غرور کے غبارے سے ہوا نکالیں ۔ اگر کسی بھی مصلحت کے تحت پاکستان نے اس مرتبہ بھی خاموشی اور غیرجانب داری کی چادر اوڑھنے کی کوشش کی تو پھر تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی اور نہ ہی ایک لاکھ کشمیری نوجوان شہیدوں کے ورثاء معاف کریں گے ۔ ممکن ہے پاکستان کو یہ موقع کبھی دوبارہ نہ ملے ۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے