قومی وفاق سے مذاکرات سے قبل ترکی کو لیبیا سے نکلنا ہوگا: حفتر

لیبیا کے متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی خبروں کے جلو میں باغی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ قومی وفاق حکومت کے ساتھ مذاکرات سے قبل ترکی کو لیبیا سے نکلنا ہوگا۔

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ کے مطابق ایک بیان میں خلیفہ حفتر کا کہنا تھا کہ قومی وفاق حکومت کے ساتھ وہ اسی صورت میں مذاکرات کرسکتے ہیں کہ پہلے لیبیا میں موجود تمام غیرملکی جنگجو بالخصوص ترک فوج اور ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں کو دیس نکالا دیا جائے۔

لیبیا کی نیشنل آرمی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ترکی کے لیے لیبیا کی سرزمین میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے لیبی فوج پر عالمی سطح پر اسلحے کے حصول پرعاید کردہ پابندیاں ختم کرنے اور مصر سے لیبیا میں ترکی کی دراندازی روکنے کے لیے کرداردا کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے لیبیا میں ترکی کی مداخلت روکنے کے لیے عرب ممالک کے مشترکہ مانیٹرنگ نگرانی کے معاہدے کو فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔دریں اثنا مصری حکومت نے خلیفہ حفتر کو یقین دلایا ہے کہ قاہرہ حکومت لیبی فوج کو اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ لیبیا میں ترکی کی مداخلت روکنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے گی۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی قانون سازوں کا ٹرمپ سے سعودی عرب میں جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ واشنگٹن امریکی قانون سازوں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے