میاں شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، نیب ٹیم ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ پہنچ گئی

شبیر خان سدوزئی
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور
قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور میں عدم پیشی پر پولیس کی بھاری نفری اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی رہائشگاہ کے باہر موجود ہے، ان کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرنے کیلئے نیب کی ٹیم، پولیس کی بھاری نفری اور اینٹی رائٹ فورس کے دستے اس وقت ان کی ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ کے باہر موجود ہیں۔ پولیس کو تاحکم ثانی ماڈل ٹاؤن میں رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اس وقت اپنی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی منظوری کے بعد نیب کی ٹیم شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچی ہے۔ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے بعد کئی اہم سوالوں کے جواب لیے جائیں گے۔نیب نے میاں شہباز شریف کو آج طلب کیا تھا لیکن انہوں نے پیش ہونے کے بجائے اپنے نمائندے محمد فیصل کے ذریعے اثاثہ جات کے حوالے سے تفصیلی جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ شہباز شریف ہائیکورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کی تاریخ نہ ملنے کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں گرفتاری کے خدشے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی۔تاہم سابق جج شریف حسین بخاری کے انتقال کے باعث درخواست پر سماعت نہ ہو سکی اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم علی نے شہباز شریف کی درخواست کو 3 جون کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔شہباز شریف کی جانب سے درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں، نیب کے پاس منی لانڈرنگ کے کوئی ثبوت موجود نہیں، الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں لہذا گرفتاری سے روکا جائے۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہباز شریف نے دس سال صوبے کی خدمت کی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔دوسری جانب شہباز شریف کی جانب سے نیب میں جمع کروائی گئی جواب کی کاپی منظر عام پر آ گئی ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ کورونا وائرس اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ نیب کے کچھ افسران بھی کورونا کا شکار ہو چکے ہیں۔ میری عمر 69 سال ہے اور کینسر کا مریض ہوں۔ نیب کی تحقیقاتی ٹیم مجھ سے سکائپ کے ذریعے سوالات کر سکتی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے حالیہ صورتحال کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپٹ ٹولے کے احتساب کا عمل شروع ہو چکا، اب مکمل ہوئے بغیر نہیں رکے گا۔ شہباز شریف نیب سے فرار چاہتے ہیں، وہ آج بھی ‘’کورونا، کورونا’’ کرکے ‘’رونا رونا’’ کھیل رہے ہیں۔ ملک کے اپوزیشن لیڈر دو دفعہ کورونا کی آڑ میں نیب پیشیوں سے بھاگ چکے ہیں۔ شہباز شریف نے بڑی ڈھٹائی اور ہمت سے منی لانڈرنگ، کرپشن اور اقربا پروری کی، اب اسی ڈھٹائی اور ہمت سے نیب کے سامنے پیش بھی ہوں۔

About BBC RECORD

Check Also

پنجاب گورنمنٹ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بین الاقوامی معیار کا بس ٹرمینل بنانے کی اصولی منظوری دیدی

Share this on WhatsAppشبیر خان سدوزئی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور وزیراعلیٰ پنجاب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے