عوام تشدد کے بغیر پُر امن مظاہرے کریں: امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف

رابرٹ ولیم
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ واشنگٹن
امریکی فوج کی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ مارک میلی نے باور کرایا ہے کہ ہم ملک میں آزادیِ اظہار کی طرح مظاہروں اور اجتماع کی آزادی کی بھی حمایت کرتے ہیں ،،، امریکی آئین کے مطابق ان امور کو مامونیت حاصل ہے۔یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی دارالحکومت اور دیگر ریاستوں میں پولیس اور نیشنل گارڈز کے ہزاروں اہل کاروں کی تعیناتی عمل میں آ چکی ہے۔

واشنگٹن کی سڑکوں کا دورہ کرتے ہوئے مارک ویلی نے کہا کہ تشدد اور تخریب کاری سے دور رہتے ہوئے پُر امن ماحول کو لازم بنایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل گارڈز شہریوں کے حقوق کے محافظ ہیں۔واضح رہے کہ امریکا کے کئی شہروں بالخصوص دارالحکومت واشنگٹن میں ہنگامہ ارائی، تخریب کاری اور توڑ پھوڑ کی کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

پیر کے روز نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں دکانوں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور تجارتی مراکز کو لوٹ لیا گیا۔مقامی میڈیا کے مطابق شہر میں پولیس اہل کاروں پر حملے کیے گئے اور گاڑی سے ٹکر مار کر دو اہل کاروں کو زخمی کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شب اعلان کیا کہ وہ امریکا کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تخریب کاروں کے خلاف بھرپور جنگ لڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کو دنیا کا سب سے بڑا اور محفوظ ملک بنائیں گے۔

ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے باغیچے سے امریکی عوام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کی حفاظت کے لیے واشنگٹن میں ہزاروں مسلح فوجیوں اور پولیس اہل کاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اتوار کے روز واشنگٹن میں ہونے والے پرتشدد احتجاج نے امریکیوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ پرامن مظاہرے نہیں بلکہ دہشت گردی اور افراتفری پھیلانے کی کوشش ہے۔ نفرت کے خلاف جنگ انصاف کے ذریعے کی جائے گی۔ ٹرمپ نے پرتشدد احتجاج اندرون ملک دہشت گردی قرار دیا۔

یاد رہے کہ سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی موت نے ملک میں وسیع پیمانے پر احتجاج کی لہر دوڑا دی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جارج کے قاتلوں کا احتساب کیا جائے۔

About BBC RECORD

Check Also

یمن کی آئینی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا

Share this on WhatsAppیمن میں آئینی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے